تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
فلسطینی حلقوں کا قطر پرمقبوضہ القدس کے اسرائیل سے الحاق میں معاونت کا الزام
'حماس قطری ڈالروں پر بِک چکی ہے'
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 8 شعبان 1441هـ - 2 اپریل 2020م
آخری اشاعت: پیر 29 جمادی الثانی 1441هـ - 24 فروری 2020م KSA 21:06 - GMT 18:06
فلسطینی حلقوں کا قطر پرمقبوضہ القدس کے اسرائیل سے الحاق میں معاونت کا الزام
'حماس قطری ڈالروں پر بِک چکی ہے'
العربیہ ڈاٹ نیٹ

عرب اور اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں اسرائیلی خفیہ ادارے'موساد' کے چیف یوسی کوہن اور فوج کی سدرن کمان کے سربراہ ہرزی  ہلیوی کے دورہ قطر کے بعد ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ ذرائع ابلاغ نےانکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی موساد کے سربراہ اور جنرل ہلیوی نے دو ہفتے قبل دوحہ کا دورہ کیا جہاں انھوں نے 24 گھںٹے قیام کیا تھا۔ ان کے اس دورے کا مقصد قطر کو غزہ کے علاقے میں حماس کی مالی مدد جاری رکھنے پر قائل کرنا تھا کیونکہ دوحہ نے حماس کی مدد کم کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔

اسرائیلی عہدیداروں کے دورہ قطر کے بعد فلسطینی حلقوں کی طرف سے سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔ فلسطینی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حماس قطری ڈالروں کی چکا چوند میں اپنے ضمیر کا سودا کرچکی ہے۔ دوحہ حماس کو پیسے کے ذریعے دباؤ میں رکھنا چاہتا ہے تاکہ القدس کے اسرائیل سے الحاق، اسے یہودیانے اور فلسطینی اراضی میں یہودی آباد کاری جیسے دو اہم مسائل کو ایک قومی قضیے سے نکال کر صرف خوراک اور ادویہ کا مسئلہ بنانا ہے۔ قطر غزہ کی پٹی میں حماس کی مالی مدد جاری رکھ کر ایک طرف القدس پر اسرائیلی ریاست کےقبضے کومضبوط کرنے میں ان کی مدد کررہا ہے اور دوسری طرف فلسطینیوں کے درمیان اختلافات کی خلیج کو مزید گہرا کرنے میں ملوث ہے۔

فلسطین میں عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ دوحہ کے اسرائیل کے لیے سیاسی تحائف تل ابیب کو زمین پراپنی کامیابیوں کو یقینی بنانے کا موقع فراہم کررہے ہیں۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ میں سکون چاہتا ہے جب کہ حماس کو پیسے کی ضرورت ہے۔ دونوں کی یہ ضرورت قطر پوری کررہا ہے۔

سابق اسرائیلی وزیر دفاع آوی گیڈور لائبرمین

سابق اسرائیلی وزیر دفاع آوی گیڈور لائبرمین نے کہا ہے کہ موساد کے چیف یوسی کوہن اور فوجی افسر کے دوحہ دورے کا مقصد یہ تھا کہ قطر حماس کی مدد جاری رکھے۔ اسرائیلی عہدیداروں نے قطر کو قائل کیا ہے کہ وہ غزہ میں حماس کو ماہانہ 15 ملین ڈالر کی مدد جاری رکھے۔

لائبرمین نے اسرائیلی ٹی وی چینل 12 کو انٹرویو میں کہا کہ دو ہفتے پہلے موساد کے سربراہ اور سدرن کمانڈ (اسرائیلی فوج کے کمانڈر جنرل ہرزی ہلیوی) نے نیتن یاہو کی ہدایت قطر کا دورہ کیا۔ انہوں نے 30 مارچ کے بعد بھی قطر کو حماس کو رقوم کی فراہمی جاری رکھنے کی درخواست کی۔ کیونکہ دوحا نے 30 مارچ کے بعد غزہ میں حماس کو فنڈز کی فراہمی روکنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اسرائیلی لیڈر نے مزید کہا کہ مصر اور قطر حماس سے ناراض ہیں اور اس سے تعلقات منقطع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اچانک نیتن یاہو حماس کے محافظ کے طور پرسامنے آئے جیسے حماس کوئی ماحولیاتی تنظیم ہے۔ لائبرمین نے نیتن یاہو کی پالیسیوں کو دہشت گردوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے مترادف قرار دیا۔

خفیہ دورہ اور حماس کے لیے قطری فنڈز

العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق اسرائیل کے بدنام زمانہ خفیہ ادارے 'موساد' کے سربراہ یوسی کوہن اور اسرائیلی فوج میں جنوبی علاقے کے کمانڈر ، ہرزی ہلیوی نے فروری کے اوائل میں دوحہ کا خفیہ دورہ کیا تھا۔ انھوں نے وہاں 24 گھنٹے قیام کیا تھا۔

نامہ نگار کے مطابق موساد کے سربراہ کا دوحہ کا گذشتہ چھے ماہ میں دوسرا دورہ ہے۔اس اسرائیلی وفد نے دوحہ سے حماس کے لیے ماہانہ مالی امداد کے لیے 15 ملین ڈالر مانگے ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند