تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
'اوپیک' کے سیکرٹری جنرل کی سعودی لباس میں اجلاس میں شرکت، شرکاء حیران
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 8 شعبان 1441هـ - 2 اپریل 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 3 رجب 1441هـ - 27 فروری 2020م KSA 07:29 - GMT 04:29
'اوپیک' کے سیکرٹری جنرل کی سعودی لباس میں اجلاس میں شرکت، شرکاء حیران
اوپیک کے سربراہ محمد سانوسی
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

تیل پیدا کرنے والے ممالک کی عالمی تنظیم 'اوپیک' کے الریاض میں منعقدہ اجلاس میں 800 شرکاء اس وقت حیران رہ گئے جب تنظیم کے سیکرٹری جنرل محمد سانوسی برکینڈو عربی لباس زیب تن کر کے اجلاس میں آپہنچے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق منگل کے روز الریاض میں ہونے والے اس اجلاس میں کاربن کو ذخیرہ کرنے سے متعلق امور پر بحث کی گئی مگر شرکاء کی حیرت کی اس وقت انتہا نہ رہی جب تنظیم کے سیکرٹری جنرل سعودی لباس پہن کر وہاں آ پہنچے۔

سانوسی برکینڈو نے سعودی عرب کے قومی لباس کے ساتھ سر پر عرب کوفیہ [شماغ] پہن رکھا تھا۔ اوپیک کے سیکرٹری جنرل کی طرف سے سعودی عرب کا لباس پہن کر اجلاس میں شرکت کرنا حیرت کی بات ضرور تھی مگر وہ اس حلیے میں ماحولیاتی تحفظ، مضر گیسوں کے اخراج کی روک تھام اور توانائی کے شعبے میں سعودی عرب کے کردار اور اہمیت کا اعتراف کرانے کے ساتھ عالمی سطح پر سعودی عرب کے کردار کو تسلیم کرانا چاہتے تھے۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ برکینڈو سعودی قومی لباس (عرب شیماگ) اور سفید لباس میں اجلاس میں شرکت کرکے ماحولیاتی تحفظ پر زور دینا چاہتے تھے۔

خیال رہے کہ سانوسی برکینڈو کا تعلق نائیجیریا سے ہے۔ انہوں نے سنہ 1986 میں فیڈرل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سے سائنس میں ڈاکٹریٹ کی تھی۔ اس سے قبل اوپیک کی قیادت لیبیا کے عبداللہ البدری کے پاس تھی اور وہ نو سال تک اس عہدے پر فائز رہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند