تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
'کرونا' جنوری سے ہی ایران میں پھیل چکا تھا:ایرانی حکومت کا اعتراف
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 7 شوال 1441هـ - 30 مئی 2020م
آخری اشاعت: اتوار 4 شعبان 1441هـ - 29 مارچ 2020م KSA 07:21 - GMT 04:21
'کرونا' جنوری سے ہی ایران میں پھیل چکا تھا:ایرانی حکومت کا اعتراف
العربیہ ڈاٹ نیٹ ۔ صالح حمید

مسلسل دو ماہ سے زیادہ عرصے تک انکار کے بعد آخر کار ایرانی حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ ایران میں کرونا وائرس کی وبا جنوری سے ہی پھیل چکی تھی۔ ایرانی حکومت کی جانب سے قائم کردہ نیشنل کرونا کنٹرول سنٹر کی ایپیڈیمولوجی کمیٹی کے سربراہ علی اکبر حق دوست نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ایران میں جنوری 2020ء کے تیسرے عشرے میں ایران میں کرونا کی وبا پھیل چکی تھی۔

ایک ویڈیو پریس کانفرنس سے خطاب میں حق دوست کا کہنا تھا کہ ایران میں کرونا وائرس صرف چند ہفتوں کے اندر اندر خوف ناک حد تک پھیل گیا مگر شروع میں یہ اتنا زیادہ عام اور خطرناک نہیں تھا۔

نامہ نگاروں کے سوالات کے جواب میں علی اکبر حق دوست نے کہا کہ حکام وائرس کے پھیلاؤ کی تشخیص میں دیر کر چکے تھے۔ اسی وجہ سے انہوں نے اس کے پھیلاؤ کا اعلان کرنے میں دیر کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس عرصے کے دوران یہ بیماری کئی شہروں میں پھیل چکی ہے۔

وباء کا نقطہ عروج

ایرانی عہدیدار علی اکبر حق دوست نے پیش گوئی کی کہ موسم گرما کے اختتام سے قبل ملک ایران اس بیماری پرقابو پا لے گا۔ ان کاکہنا تھا کہ موسم گرما تک یہ بیماری اپنے نقطہ عروج کو پہنچنے کے لیے بعد کمزور پڑ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک کرونا کی وباء پر مکمل قابو پانے کا یقین نہیں ہوجاتا اس وقت تک تعلیمی ادارے، اسکول اور جامعات نہیں کھولی جائیں گی۔

دریں اثنا حق دوست نے نشاندہی کی کہ تہران ابھی تک کرونا وبا عروج پر نہیں پہنچی ہے۔ حکومت نے ابھی تک دارالحکومت تہران اور پڑوسی شہر شہر قم میں ہلاکتوں کی تعداد کا اعلان نہیں کیا ہے۔

علی اکبر حق دوست نے اعتراف کیا ہے کہ ایران میں کرونا وبا جنوری سے پھیل چکی تھی جبکہ ایران کے سابق وزیر صحت حسن قاضی زادہ ہاشمی نے گذشتہ ہفتے انکشاف کیا تھا کہ اُنہوں نے گذشتہ دسمبر سے سینیر عہدیداروں کو کرونا وائرس کے پھیلنے کے خطرات سے خبردار کیا تھا ، لیکن انہوں نے ان کے مشورے پر کوئی توجہ نہیں دی۔

شروع سے ہی ایرانی حکومت نے کرونا بحران کو سیکیورٹی کے معاملے کے طورپر ڈیل کیا گیا۔ حکومت کی بد انتظامی پرتنقید کرنے والے صحافیوں، سماجی کارکنوں اور شہریوں کے خلاف کریک ڈائون مہم شروع کی گئی۔ ایران میں عوامی حلقوں کی طرف سے سپریم لیڈر پر کرونا کی وباء پر پردہ ڈالنے کی منظم کوشش کا الزام عاید کیا۔

خیال رہے کہ ایران میں کرونا وائرس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے اور یہ ابھی تک کنٹرول نہیں کی جاسکی ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند