تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
کویت میں لیبیا کے مقتول صدر معمرقذافی اورسخت گیر مبلغ مطیری کی افشا آڈیو کی تحقیقات
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 23 ذوالحجہ 1441هـ - 13 اگست 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 4 ذیعقدہ 1441هـ - 25 جون 2020م KSA 18:51 - GMT 15:51
کویت میں لیبیا کے مقتول صدر معمرقذافی اورسخت گیر مبلغ مطیری کی افشا آڈیو کی تحقیقات
العربیہ ڈاٹ نیٹ

کویت کی وزارتِ داخلہ نے لیبیا کے سابق مطلق العنان مقتول صدر کرنل معمر قذافی اور ا کویتی مبلغ اور مصنف حاکم المطیری کے درمیان آڈیو ریکارڈنگ کی تحقیقات شروع کردی ہے۔ان دونوں نے مبیّنہ طور پر اس افشا ہونے والی آڈیو میں انقلابی منصوبوں کے بارے میں تبادلہ خیال کیا تھا۔

کویتی روزنامہ السیاست کے مطابق جامعہ الکویت کی انتظامیہ صورت حال کی مانیٹرنگ کررہی ہے اور تحقیقات کے نتائج کی روشنی میں المطیری کے خلاف کارروائی کرے گی۔وہ اسی جامعہ میں شریعہ کے پروفیسر رہے تھے۔

کویتی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ اس آڈیو ریکارڈنگ کے حوالے سے قانونی کارروائی کی جائے گی۔کرنل معمر قذافی کی دوسری صوتی ریکارڈنگز کی طرح یہ ریکارڈنگ بھی قطر کے حزبِ اختلاف کے ایک کارکن خالد الحائل نے جاری کی ہے۔ العربیہ از آڈیو کے مصدقہ ہونے کی تصدیق نہیں کرسکتا۔

المطیری کویت کی اُمہ پارٹی کے سربراہ ہیں۔یہ ایک غیر تسلیم شدہ سیاسی پارٹی ہے اور قدامت پرست اور انتہا پسندانہ نظریات کی حامل ہے۔ماضی میں انھوں نے کویت میں سلفی تحریک کے قیام میں حصہ لیا تھا۔ وہ امریکا اور سعودی عرب کےناقد رہے تھے۔

اس صوتی ریکارڈنگ میں انھیں کرنل قذافی سے یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے:’’خطے میں بنیادی تبدیلیوں کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہے۔معاملات کو ان کی جگہ پر لانے اور ان حکومتوں کو گرانے یا انھیں ان کی ٹھیک جگہ پر رکھنے ہی سے لوگوں کو اس نوآبادیات سے آزادی دلائی جاسکتی ہے۔‘‘

معمر قذافی 1969ء سے 2011ء تک لیبیا کے مطلق العنان صدر رہے تھے۔ان کی حکومت مسلح بغاوت کے نتیجے میں ختم ہوگئی تھی اور باغیوں نے انھیں بے دردی سے قتل کردیا تھا۔

جون 2017ء میں سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، مصر اور بحرین پر مشتمل گروپ چار نے قطر سے تعلق رکھنے یا اس سے امداد حاصل کرنے والے 59 افراد اور اداروں پر دہشت گردی کی معاونت کے الزام میں پابندیاں عاید کردی تھیں۔ان میں حاکم المطیری کا نام بھی شامل تھا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند