تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
بشارالاسد ۔ رامی مخلوف اختلافات، کیا شام کے حکمران خاندان کا معاہدہ ٹوٹ چکا؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 9 ربیع الاول 1442هـ - 26 اکتوبر 2020م
آخری اشاعت: ہفتہ 20 ذیعقدہ 1441هـ - 11 جولائی 2020م KSA 12:16 - GMT 09:16
بشارالاسد ۔ رامی مخلوف اختلافات، کیا شام کے حکمران خاندان کا معاہدہ ٹوٹ چکا؟
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

گذشتہ کچھ عرصے سے شام کے صدر بشار الاسد اور شام کی مشہور کاروباری شخصیت اور صدر کے چچا زاد رامی مخلوف کے درمیان اختلافات کی خبریں تواتر کے ساتھ سامنے آ رہی ہیں۔

بشارالاسد اور رامی مخلوف اختلافات کی خبریں ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہیں جب دوسری طرف اقوام متحدہ نے شام میں معاشی بحران، مہنگائی، غربت کی شرح میں اضافے اور بے روزگاری میں اضافے کی کی تنبیہ کی ہے۔

ایسے میں بشار الاسد اور ان کے کزن رامی مخلوف کے درمیان اختلافات کی خبریں شام کی معیشت کے لیے بری خبر ہیں۔ رامی مخلوف پہلے ہی کرپشن اور دیگر جرائم کی وجہ سے امریکا اور یورپی یونین کی جانب سے بلیک لسٹ ہوچکا ہے۔

حال ہی میں شام میں ٹیلی کام کی سب سے بڑی کمپنی کے سربراہ رامی مخلوف نے اپنی متعدد ٹویٹس میں صدر بشارالاسد کے ساتھ اختلافات کی تصدیق کی ہے۔ رامی مخلوف اور بشارالاسد کے پاس شام کے بہت قیمتی راز ہیں۔ دونوں چوٹی کی شخصیات شام کے اسد خاندان میں تقسیم اختیارات اور اقتدار کے حوالے سے طے پائے سمجھوتے کے رازوں سے واقف ہیں۔ یہ معاہدہ ہی دراصل بشارالاسد کے لیے اقتدار پر گرفت قائم رکھنے کا ایک آہنی پنجہ ہے۔ تاہم مبصرین اور شامی اپوزیشن کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ رامی مخلوف اور بشارالاسد کے درمیان اختلافات کے بعد شام کے حکمران خاندان میں طے پایا معاہدہ ٹوٹ چکا ہے۔

شام میں اپوزیشن کی دستور کمیٹی کی رکن بسم ہ قضمانی نے بتایا کہ شام کے حکمران خاندان میں اختلافات کیک کے حصے میں کمی بیشی پر ہیں۔ حکمران خاندان کی اہم شخصیات میں سے بعض کا دعویٰ ہے کہ حکومت جن مالی وسائل کو اپنے پاس رکھے ہوئے ہے اس میں ان کا بھی حصہ ہے۔

انہوں نے شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ سیرین آبزر ویٹری کے حوالے سے بتایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ شام کے بشارالاسد خاندان میں اندرونی کشمکش اہمیت کی حامل ہے۔ اگر حکمران خاندان میں طے پایا معاہدہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں بشارالاسد کو اپنے اقتدار کو بچانے اور گرفت مضبوط کرنے کے لیے دیگر ذرائع کا استعمال کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ شام کے حکمران خاندان میں اختلافات بلند ترین سطح پر ہیں اور غیر مسبوق ہیں۔

القضمانی کا کہنا تھا کہ شام کے حکمران خاندان کے بعض عناصر اقتدارمیں اپنا حصہ مانگتے ہیں۔ بشارالاسد کی تجربے میں کمی اور دیگر کمزوریاں دیگر ارکان کو اپنے مطالبات منوانے کا موقع فراہم کررہی ہیں۔ مگر بشارالاسد اپنے قریب طاقت ور شخصیات کو جگہ دینے کو تیار نہیں، خاص طور پر ایسی شخصیات جو شام میں اقتدار میں حصہ مانگنے اور اداروں کی قیادت کا مطالبہ کرتے ہیں۔ القضمانی کا مزید کہنا ہے کہ شام میں صدر بشارالاسد اور رامی مخلوف کے درمیان اختلافات خاندانہ معاہدے کے ٹوٹنے کا واضح ثبوت ہیں۔ یہ معاہدہ ایسے ہی ٹوٹ چکا ہے جیسا کہ شام میں مسلح بغاوت کے نتیجے میں شامی سیکیورٹی ادارے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئے ہیں۔ اگر ایران اور روس کی مدد نہ ہوتی تو بشارالاسد کے لیے اپنا اقتدار بچانا ممکن نہیں تھا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند