تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
حماس کے اہم فیلڈ کمانڈر کے اسرائیل فرارکی اطلاعات، کئی القسام ارکان گرفتار
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 23 ذوالحجہ 1441هـ - 13 اگست 2020م
آخری اشاعت: پیر 22 ذیعقدہ 1441هـ - 13 جولائی 2020م KSA 07:29 - GMT 04:29
حماس کے اہم فیلڈ کمانڈر کے اسرائیل فرارکی اطلاعات، کئی القسام ارکان گرفتار
دبئی ۔ العربیہ

العربیہ اور الحدث ٹی وی چینلوں کے نامہ نگارون نے اطلاع دی ہے کہ فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی کی حکمراں جماعت حماس کی بحری فورس کا کمانڈر اپنے بھائی کے ہمراہ تنظیم کی اہم اور حساس دستاویزات کے ساتھ اسرائیل فرار ہوگیا ہے۔ حماس کمانڈر کے بارے میں یہ اطلاعات ملی تھیں کہ وہ اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ رابطے میں تھے سنہ 2009ء سے حماس کے خلاف اسرائیل کی مخبری کر رہا تھا۔

غزہ کی پٹی میں حماس کی وزارت داخلہ نے بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات اور رابطوں کے کے الزام میں حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ کے 16 اراکین پر مشتمل ایجنٹوں کے ایک سیل کی گرفتاری کا اعلان کیا ہے۔

یہ گرفتاریاں فیلڈ کمانڈرمحمد عمر ابو عجوہ کی اپنے بھائی کے ہمراہ اسرائیل فرار کے بعد عمل میں آئی ہیں۔ ابو عجوہ ایک کشتی پر اسرائیلی فوج کی مدد سے فرار ہوا ہے۔ ابو عجوہ اس وقت فرار ہوا جب اس پر تنظیم کے خلاف اسرائیل کےلیے جاسوسی کا الزام عاید کیا گیا۔

العربیہ کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیل فرار ہونے والے "حماس کمانڈوز" کے کمانڈر نے تصدیق کی ہے کہ مفرور کے پاس اہم دستاویزات موجود ہیں۔ انھوں نے یہ بتایا کہ وہ اسرائیلی فوج کی مدد سے فرار ہوا ہے۔ نامہ نگار کے مطابق ابو عجوہ کے فرار کے بعد حماس نے عسکری تنظیم القسام بریگیڈ کے سولہ ارکان کو مخبری کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

تقریبا 10 دن پہلے فلسطینی فتح اور حماس تحریکوں نے مقبوضہ مغربی کنارے کے بڑے حصوں کے اسرائیل سے الحاق کے منصوبے کے خلاف اتحاد کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاھو اپنے منصوبے پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر امریکی عہدیداروں اور سکیورٹی رہنماؤں سے مشاورت مکمل کررہے ہیں۔

تحریک فاتح کی سنٹرل کمیٹی کے سکریٹری جبرئیل رجوب اور حماس کے نائب صدر صالح العاروری میں ایک ویڈیو کانفرنس میں ملاقات ہوئی۔ دونوں نے اسرائیل کے فلسطینی علاقوں کے الحاق کے منصوبے کے خلاف مل کر کوششیں کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند