تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
لیبیا: ترک انٹیلی جنس کی ٹیم کا الوطیہ کے فوجی اڈے کا پراسرار دورہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 9 ربیع الاول 1442هـ - 26 اکتوبر 2020م
آخری اشاعت: بدھ 8 ذوالحجہ 1441هـ - 29 جولائی 2020م KSA 11:42 - GMT 08:42
لیبیا: ترک انٹیلی جنس کی ٹیم کا الوطیہ کے فوجی اڈے کا پراسرار دورہ
دبئی – العربیہ ڈاٹ نیٹ

ترکی کی جانب سے لیبیا کے معاملات میں مداخلت اور قومی فوج کے خلاف وفاق حکومت کی حمایت کا سلسلہ جاری ہے۔ ادھر بین الاقوامی سطح پر متحارب فریقوں کے بیچ جارحیت ختم کرنے اور بات چیت کو دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے مطالبات بڑھتے جا رہے ہیں۔

آج بدھ کی صبح العربیہ کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق ترکی کی انٹیلی جنس کی ایک ٹیم ترکی سے براہ راست پرواز کے ذریعے لیبیا میں الوطیہ کے فوجی اڈے پہنچی۔ اس سے قبل لیبیا کی فوج نے منگل کی شب تصدیق کی تھی کہ انقرہ نے شامیوں کے علاوہ دیگر شہریتوں کے حامل افراد کو بھی بطور اجرتی جنگجو لیبیا بھیجنا شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ترک انٹیلی جنس کی ٹیم کی آمد کے مقاصد معلوم نہیں ہو سکے۔ مذکورہ ٹیم نے چند گھنٹے الوطیہ کے فوجی اڈے کے اندر گزارے اور پھر ترکی واپسی کے لیے روانہ ہو گئے۔

رواں سال مئی میں انقرہ کی حمایت یافتہ وفاق حکومت کے گروپوں کی مداخلت پر لیبیا کی فوجی الوطیہ کے فوجی اڈے سے چلی گئی تھی۔ مبصرین کے مطابق الوطیہ کے اڈے پر گرفت مضبوط رکھنے سے ترکی کے لیے اس بات کی راہ ہموار ہو جائے گی کہ وہ اسے لیبیا میں ایک مستقل فوجی اڈے میں تبدیل کر دے۔ بحیرہ روم اور یورپ کے نزدیک ہونے کے سبب یہ اڈہ شمالی افریقا میں تزویراتی محل وقوع کا حامل ہے۔

الوطیہ کا شمار لیبیا کے اہم ترین اور سب سے بڑے فوجی اڈوں میں ہوتا ہے۔ اس کا رقبہ تقریبا 50 مربع کلو میٹر ہے۔ اس میں انتہائی شدید نوعیت کے پہرے والا ملٹری اسٹرکچر شامل ہے جس کو امریکا نے گذشتہ صدی میں 1940ء کی دہائی میں تعمیر کیا تھا۔ تونس اور الجزائر کی سرحدوں اور اسی طرح بحیرہ روم کے نزدیک واقع ہونے کے سبب یہ تزویراتی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ اڈہ نہ صرف دارالحکومت طرابلس کے دائرہ کار تک بلکہ پورے مغربی ریجن یہاں تک کہ لیبیا کے وسط تک فضائی عسکری کارروائیوں کا موقع فراہم کرتا ہے۔

لیبیا کے سیاسی تجزیہ کار ابو یعرب البرکی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے ایک سابق انٹرویو میں کہا تھا کہ ترکی الوطیہ پر ہاتھ ڈال کر اسے لیبیا میں ایک مستقل فوجی اڈہ بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ اس کے پیچھے ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے کئی منصوبے ہیں۔ ان میں یورپ کا حصار اور تونس اور الجزائر میں سیاسی طور پر اثرا انداز ہونا شامل ہے۔ الوطیہ کے فوجی اڈے اور لیبیا کے مغربی شہروں پر گرفت مضبوط کرنے سے ایردوآن کے پاس بڑا موقع ہو گا کہ وہ مشرقی بحیرہ روم میں گیس کے نقشے پر کنٹرول حاصل کر لیں۔ بالخصوص لیبیا کی گیس کی گزر گاہیں اسی سمت جاتی ہیں۔

البرکی نے بتایا تھا کہ ترکی نے گذشتہ برس نومبر میں لیبیا میں وفاق حکومت کے ساتھ متنازع نوعیت کا سیکورٹی اور سمندری معاہدہ دستخط کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں انقرہ کو سمندری علاقوں پر کنٹرول اور توانائی کے وسائل سے فائدہ اٹھانے کا اجازت حاصل ہو گئی۔ اس کے بعد سے ترکی لیبیا میں وفاق حکومت کو بچانے کے لیے سر توڑ کوششیں کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے انقرہ عسکری ، سیاسی اور سفارتی سپورٹ کو ذریعہ بنا رہا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند