تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2021

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ترکی : الاخوان المسلمین کے 23 ارکان گرفتار
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 5 جمادی الثانی 1442هـ - 19 جنوری 2021م
آخری اشاعت: جمعرات 17 ربیع الثانی 1442هـ - 3 دسمبر 2020م KSA 12:59 - GMT 09:59
ترکی : الاخوان المسلمین کے 23 ارکان گرفتار
قاہرہ - اشرف عبدالحميد

ترکی میں حکام نے اپنی سرزمین پر مقیم الاخوان المسلمین کے 23 ارکان کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس سے قبل ترکی نے تنظیم کے تقریبا 50 ارکان اور رہ نماؤں کو اپنی شہریت دینے سے انکار کر دیا تھا۔

ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا ہے کہ ترک حکام نے ان افراد کو حراست میں لے رکھا ہے۔ یہ اقدام اس انکشاف کے بعد سامنے آیا ہے کہ یہ لوگ بیرونی ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تا کہ مصر اور دیگر عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے الاخوان کے عناصر کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم ہو سکیں۔ یہ کام الاخوان کی بین الاقوامی قیادت کے ساتھ رابطہ کاری کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں تنظیم کی قیادت اور ترک حکومت کے درمیان تعلق میں کشیدگی آ گئی ہے۔

یہ بات سامنے آئی ہے کہ مذکورہ عناصر بعض یورپی ممالک میں امدادی اداروں اور الاخوان کے زیر انتظام جماعتوں کے ساتھ رابطے میں تھے۔ اس کا مقصد یمن، مصر اور شام سے تعلق رکھنے والے الاخوان کے عناصر کو تربیت اور محفوظ ٹھکانوں کی فراہمی یقینی بنانا تھا۔ اس سلسلے میں ترکی کی حکومت کے ساتھ مشاورت یا رابطہ کاری نہیں کی گئی بالخصوص جب کہ یہ رابطے ترکی کے اندر سے کیے جا رہے تھے۔ اس چیز نے انقرہ حکومت کو پریشان کر دیا اور وہ اس نتیجے پر پہنچی کہ الاخوان اور اس کی قیادت ترکی کی ہدایات پر عمل سے بہت دور ہے۔ وہ ایسے ممالک کے ساتھ معاملات کر رہی ہے جن کا ترکی کے مفادات کے ساتھ تصادم ہے۔

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ان میں متعدد عناصر نے ملائیشیا میں موجود الاخوان کے بعض نوجوان ارکان کو جورجیا بھیجنے اور وہاں تربیت دلانے کے انتظامات کیے۔ اس کا مقصد نفسیاتی جنگ کے اسلوب کے حوالے سے "حکمت عملی" سیکھنا ہے جس میں روسی انٹیلی جنس مہارت رکھتی ہے۔ اسی طرح ترکی کی حکومت نے انکشاف کیا ہے کہ اس کی سرزمین سے الاخوان کے عناصر اور ایران میں بارسوخ اداروں کے درمیان وسیع پیمانے پر رابطے ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ چند روز قبل ترکی کے حکام نے الاخوان کے تقریبا 50 ارکان کو اپنی شہریت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ ان میں سینئر رہ نما اور صف اول کے عناصر شامل ہیں۔ انقرہ حکومت کو اندیشہ ہے کہ بیرونی ممالک سے خفیہ رابطوں اور سائبر حملوں کی تربیت کے حصول کے باعث مستقبل میں الاخوان کے یہ عناصر ترک شہریت مل جانے کی صورت میں قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

مذہبی سیاسی جماعتوں اور تحریکوں کے امور کے ماہر احمد الشوربجی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "الاخوان المسلمین کے عناصر کو ترکی میں دشوار مادی حالات کا سامنا ہے۔ اسی واسطے وہاں بہت سے اخوانی عناصر کے گھر ٹوٹ گئے ہیں۔ تنخواہوں کی کمی اور ابتر معاشی حالات کے سبب بہت سے ارکان کی طلاقیں ہو گئی ہیں۔ ان افراد کے خلاف تشدد اور دہشت گردی کے مقدمات ہیں جن کی وجہ سے یہ لوگ واپس مصر بھی نہیں لوٹ سکتے ہیں۔

ان تمام امور نے اخوانی عناصر کو ایک آسان شکار بنا دیا ہے کہ وہ مال کے بدلے ترکی کے خلاف انٹیلی جنس معلومات بیرونی اور دشمن ممالک کو فراہم کریں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند