تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
نااہل سیاستدانوں کا صفایا
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 15 ذیعقدہ 1440هـ - 18 جولائی 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 2 جمادی الثانی 1434هـ - 13 اپریل 2013م KSA 07:25 - GMT 04:25
نااہل سیاستدانوں کا صفایا

عام انتخابات میں امیدواروں کی جانچ پڑتال کرنا اور نااہل افراد کو ملک کی سیاست سے نکال دینا دنیا کی اچھی جمہوریتوں میں عام بات ہے۔ لیکن پاکستان کے ناقص اور ناکام سیاسی اور جمہوری نظام میں اس طرح کے چیک اور بیلنس نظر نہیں آتے۔ پچھلے کئی سالوں سے طاقتور سیاستدانوں نے امیدواروں کی اہلیت کی تحقیقات کرنے کا کوئی نظام ابھرنے نہیں دیا۔ حد تو یہ ہے کہ پاکستانی سیاست میں وہی چھرے پچھلے 28 سالوں سے چلے آرہے ہیں۔ جس شخص نے 1985 کے عام انتخابات میں ہماری سیاست میں قدم رکھا تھا وہ اب ڈیرہ جماکے بیٹھ گیا ہے یا پھر اپنی آل و اولاد کو آگے لانے کی تیاری کررہا ہے۔ ہماری پارٹیاں ہوں یا سیاستدان، نئی سوچ اور نئے خون کا آگے بڑھنا محال ہوگیا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ نوجوان پاکستانی نژاد سیاستدان برطانیہ، بیلجیئم اور کینیڈا جیسے ممالک میں تو ابھرسکتے ہیں لیکن پاکستان میں نہیں جہاں ایک خاص ٹولہ ملکی سیاست پر قابض ہے۔کسی بھی زاوئیے سے تجزیہ کرلیں آپ پر یہ بات واضح ہوجائیگی کہ محض انتخابات کرانے سے، اور بار بار کرانے سے،معاملہ ٹھیک نہیں ہوگا۔ جمہوری آمروں سے نمٹنے کا یہ نسخہ صحیح نہیں ہے۔ دنیا میں ہر سیاسی نظام نے،چاہے وہ امریکہ ہو یا چین، روس ہو یا ایران،سب نے ایک ایسا نظام بنایا ہوا ہے جہاں مادر وطن سے وفاداری اور اچھی شہریت کے ثبوت دئیے بغیر کوئی شخص عام انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا اور ملک کی تقدیر کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔ برطانیہ،جہاں سے ہم نے اپناسیاسی نظام درآمدکیا، وہاں محمد الفاید جیسا بڑا سرمایہ کار پیسہ لگا سکتا ہے اور برطانویوں کو روزگار کے مواقع مہیا کرسکتا ہے لیکن اس کی شہریت کی درخواست مستردکردی جاتی ہے کیونکہ جانچ پڑتال کرنے والی کمیشن کواسکی دیانت اور کردار پر شک ہے!
ممالک کو چھوڑیں، دنیا کی کسی بھی بڑی کمپنی میں جہاں ہزاروں لوگوں کا سرمایہ لگا ہوا ہے بغیر تفصیلی جانچ پڑتال کے آپ کسی اعلیٰ عہدے پر فائز نہیں ہوسکتے۔ لیکن ہمارے ہاں جمہوریت کے نام پر قوم اور مملکت کو سفید فام ڈاکو اور لٹیروں اور مقدس قسم کھاکے جھوٹ بولنے والوں کے ہاتھوں یرغمال کیا ہوا ہے۔ غرض یہ کہ ہمارے ہاں وہ لوگ جو ہمارے اوپر حکمرانی کرنے کے شوقین ہیں انکی حکومت چلانے کی اہلیت پر تفصیلی تحقیقات ہونی چاہئے اور نا اہل ، پاکستانی قومیت اور پاکستان کی آزادی اور سا لمیت کی تضحیک کرانے والے اور قوم کا سرمایہ لوٹنے والو ں کی نشاندہی ہونی چاہئے اور انھیں سیاسی نظام سے مستثنیٰ کرنا چاہئے۔ یہ ریاست کا فرض بھی ہے اور حق بھی۔
لیکن اب جب آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت امیدواروں کی اہلیت کی تحقیق ہورہی ہے تو کچھ طاقتور سیاستدانوں نے باقاعدہ ایک مہم شروع کردی ہے۔ یہ مہم صرف اندرون ملک ہی جاری نہیں ہے بلکہ اسے بیرون ملک بھی چلایا جا جارہا ہے تاکہ جمہوریت کو خطرہ لاحق ہونے کا ڈرامہ رچایا جائے اور ہماری عدلیہ پر بیرونی دباوٴ ڈال کر نااہل اور کرپٹ افراد کو دوبارہ حکومت کرنے کا موقع دیا جائے۔اس ضمن میں صدر زرداری کی سابقہ میڈیا مشیر فرح ناز اصفہانی کا نام سامنے آرہا ہے۔ ان کے بارے میں انہی کی پارٹی کے کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ موصوفہ پارٹی کے میڈیا اور پروپیگنڈہ سیل کی انچارج ہیں۔ محترمہ کے نام سے حال ہی میں ایک امریکی رسالے ’فارن پالیسی‘ میں مضمون شائع ہوا ہے جس میں وہ ہمارے امریکی آقاوٴں سے پاکستانی قوانین اور الیکشن کمیشن کی سخت شکایت کرتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔
محترمہ نے لکھا ہے کہ پاکستان الیکشن کمیشن ’عسکریت پسند اور دہشت گردوں‘ کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے رہا ہے اور یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف جیسے جمہوریت کے علمبرداروں کو نااہل قرار دیا جارہا ہے۔ محترمہ اصفہانی صاحبہ نے اپنے الفاظ کا انتخاب سوچے سمجھے طریقے سے کیا ہے۔ وہ امریکیوں کو یہ بتا رہی ہیں کہ پاکستانی ریاست دہشت گردوں کی حمایت کررہی ہے۔ محترمہ ایک اندرونی سیاسی اور انتخابی مباحثہ کو ملک کے باہر لے جاکر بیرونی مداخلت کو دعوت دے رہی ہیں۔ پارٹی کے اندر محترمہ کی پوزیشن دیکھتے ہوئے اور مضمون میں اپنے سابقہ حکومتی پارٹنروں ایم کیو ایم اور اے این پی کا ذکر کرنے کی وجہ سے شاید یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ الیکشن کمیشن میں جانچ پڑتال کے معاملہ پر بیرونی مداخلت کو دعوت دینا اب متاثرہ پارٹیوں کی باضابطہ پالیسی ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ اصفہانی صاحبہ الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے حلفیہ بیان میں جھوٹ بولنے پر ملک کی اعلی عدلیہ سے سزا یافتہ ہیں۔ 2008 کے عام انتخابات میں ملک اور قوم کی خدمت کرنے کے شوق میں انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اور ووٹروں سے اپنی دہری شہریت کے بارے میں جھوٹ بولا۔2008 کے انتخابات سے پہلے وہ امریکی حکومت کی سرکاری ملازم رہ چکی ہیں۔ کیا وہ اس طرح کا کام ، حلفیہ بیان پر جھوٹ بولنے کا امریکہ میں کرنے کا سوچ سکتی ہیں؟ اگر ہمارے ہاں جمہوریت نے چلنا ہے تو قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سیاسی نظام سے مستثنیٰ کرنا ہوگا۔ پاکستان میں جمہوریت کا مستقبل خطرے میں رہے گا اگر جمہوریت کو غلط عناصر ہائی جیک کرتے رہے۔ درست طریقے سے جانچ پڑتال کرنا اچھی بات ہے لیکن ملک کو غیر ملکی میڈیا میں بدنام کرنا تاکہ کرپٹ اور نااہل عناصر کے اقتدار تک رسائی میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے ناقابل قبول ہے اور کسی حد تک ملک کو بلیک میل کرنے کے مترادف ہے۔رہی بات جانچ پڑتال میں مبالغہ آرائی کی اور الیکشن آفیسرز کی طرف سے مضحکہ خیز سوالات کی۔ ایک بات اس معاملے میں سمجھ سے باہر ہے۔ الیکشن کمیشن کے عملے کو بخوبی پتہ ہے کہ ان کا اللہ ہی حافظ ہے۔ پچھلے سال پیپلز پارٹی کے ایک طاقتور سیاستدان نے اپنے حلقے میں فیڈرل الیکشن کمیشن کی ایک خاتون آفیسر کو سرعام جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس سیاستدان کو آج بھی انتخابات میں کھڑے ہونے کا حق حاصل ہے جب کہ تشدد کا نشانہ بننے والی سرکاری آفیسر کا کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ بھلا الیکشن کمیشن کے افسروں کی کیا جرأت کے وہ طاقتور سیاستدانوں کو نااہل قرار دے سکیں اور وہ بھی ملک کے دور دراز علاقوں میں؟ آخر انہوں نے بھی اپنے گھر وں کو صحیح سلامت پہنچنا ہے۔ آرٹیکل 62 اور 63 کو مضحکہ خیز طریقے اور مبالغہ آرائی سے نافذ کرنا امیدواروں اور سیاستدانوں کے جانچ پڑتال کرنے کے عمل میں خلل کرنے کی کوشش نظر آرہی ہے۔ اس عمل کو متنازعہ بنا کر امیدواروں کی اہلیت کی تحقیقات کو روکنے کے کوشش ہورہی ہے۔
پچھلے انتخابات میں جو اتحادی حکومت نے اسلام آباد میں اقتدار سنبھالا تھا وہ حکومت پاکستان کی سیاست میں سب سے بڑی اور شرمناک بیرونی مداخلت کا نتیجہ تھی۔ آج یہ مداخلت پھر ہورہی ہے اور غیر ملکوں کے ساتھ ڈیل کرنے والوں کو پھر سے پاکستان پر قابض کرانے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ پاکستان پر حکمرانی کا حق صرف پاکستانیوں کو ہونا چاہئے۔ اس کا طریقہ یہی ہے کہ امیدواروں کی جانچ پڑتال کا ایک واضح اور مضبوط نظام نافذ ہو۔ خامیوں کو دور کیا جاسکتا ہے تاکہ کوئی بھی اس عمل کی تضحیک کرکے اسے رکوانے کی کوشش نہ کرسکے۔ لیکن اس بات میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ دنیا کے ممالک میں امیدواروں کی تفتیش ہوتی ہے۔ یہ کا م سیاسی جماعتیں امیدواروں کو ٹکٹ دینے سے پہلے کرتی ہیں اور پھر الیکشن کمیشن اسے دہراتی ہے۔ہمارے ہاں ایسا نظام موجود نہیں ہے اور ہماری سیاسی جماعتیں ایسا نظام آنے بھی نہیں دیں گی۔ اسی لئے آرٹیکل 62 اور 63 کے خلاف سب اپنے اختلافات بھول کر ایک دیوار بن گئے ہیں۔امیدواروں کی جانچ پڑتال کرنا قوم کا حق اور ریاست کا فرض ہے۔ اس عمل میں بہتری لانی چاہیئے لیکن اسے ختم کرنا غیر جمہوری عمل ہوگا۔ اس حوالے سے سیاستدانوں کے مطالبات غلط ہیں۔پاکستان پر حکمرانی کرنا کسی کا حق نہیں ہے بلکہ ایک ذمہ داری ہے اور جو شخص اس ذمہ داری کیلئے اپنے آپکو اہل سمجھتا ہے اسے تفتیش اور جانچ پڑتال سے نہیں ڈرنا چاہئے۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند