تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پاکستان میں تین سینیر افغان طالبان قیدیوں کی رہائی
افغانستان میں امن کوششوں کو آگے بڑھانے کی غرض سے حکومت کا اقدام
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 14 شعبان 1441هـ - 8 اپریل 2020م
آخری اشاعت: منگل 22 محرم 1435هـ - 26 نومبر 2013م KSA 22:42 - GMT 19:42
پاکستان میں تین سینیر افغان طالبان قیدیوں کی رہائی
افغانستان میں امن کوششوں کو آگے بڑھانے کی غرض سے حکومت کا اقدام
پاکستان نے گذشتہ ایک سال کے دوران قریباً 50 طالبان قیدیوں کو رہا کیا ہے
اسلام آباد ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

حکومت پاکستان نے پڑوسی ملک افغانستان میں قیام امن کے لیے بات چیت کو آگے بڑھانے کی غرض سے طالبان کے تین سینیر قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔

پاکستانی حکام اور طالبان کے ایک نمائندے کے مطابق منگل کو رہا کیے گئے قیدیوں میں طالبان کے رہ نما مُلاّ محمد عمر کے سابق مشیر عبدالاحد جہانگیر وال ،افغان صوبہ ہلمند کے سابق گورنر مُلاّ عبدالمنان اور سابق فوجی کمانڈر مُلّا یونس شامل ہیں۔

ان تینوں سابق عہدے داروں کی رہائی افغانستان کے اعلیٰ سطح کے امن وفد کے حالیہ دورۂ پاکستان کے ایک ہفتے سے بھی کم وقت کے بعد عمل میں آئی ہے۔ افغان وفد نے اسلام آباد میں طالبان کے سابق نائب امیر مُلاّ عبدالغنی برادر سے ملاقات کی تھی اور ان سے جنگ زدہ ملک سے غیر ملکی فوجوں کے انخلاء کے بعد قیام امن کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا تھا۔

افغانستان کی اعلیٰ امن کونسل کے اس پانچ رکنی وفد نے چئیرمین صلاح الدین ربانی کی قیادت میں 19 سے 21 نومبر تک پاکستان کا دورہ کیا تھا۔پاکستان کے ایک اعلیٰ سرکاری عہدے دار نے مُلاّ عبدالغنی برادر اور افغان وفد کے درمیان ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ یہ تین گھنٹے تک جاری رہی تھی اور اس میں مُلاّبرادرنے وفد کو طالبان کی شوریٰ کونسل کا ایک خصوصی پیغام دیا تھا۔

ایک افغان عہدے دار کے بہ قول پاکستان نے اکتوبر میں بڑی خاموشی سے نچلے درجے کے دس بارہ طالبان قیدیوں کو رہا کردیا تھا۔گذشتہ ایک سال کے دوران پاکستان میں کم سے کم پچاس طالبان قیدیوں کو رہا کرچکا ہے اور اس اقدام کا مقصد افغان حکومت اور طالبان مزاحمت کاروں کے درمیان امن بات چیت کو شروع کرانے اور اس کو مثبت اور تعمیری انداز میں آگے بڑھانے کے لیے مدد بہم پہنچانا ہے۔

لیکن ابھی تک ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا جس سے یہ پتا چل سکے کہ طالبان کی رہائی سے امن مذاکرات کے آغاز میں مدد ملی ہے۔رہا کیے گئے بعض طالبان قیدیوں کے بارے میں یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ وہ افغانستان لوٹنے کے بعد ایک مرتبہ پھر کرزئی حکومت کے خلاف مزاحمتی جنگ میں شریک ہوچکے ہیں۔

طالبان ماضی میں افغان صدر حامد کرزئی کی حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات سے انکار کرچکے ہیں۔ان کا یہ موقف رہا ہے کہ وہ جنگ زدہ ملک سے تمام غیر ملکی فوجوں کے انخلاء تک افغان حکومت کے ساتھ بات چیت نہیں کریں گے۔ تاہم ان کے درمیان جون میں قطر میں بات چیت کے آغاز کی سنجیدہ کوشش کی گئی تھی لیکن تب حامد کرزئی نے جنگجوؤں پر جلاوطن حکومت قائم کرنے کا الزام عاید کیا تھا اور ان سے امارت اسلامی افغانستان کا پرچم ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔ طالبان نے یہ مطالبہ ماننے سے انکار کر دیا تھا اور انھوں نے بعد میں خلیجی ریاست قطر میں مذاکرات کے لیے کھولا گیا دفتر بھی بند کردیا تھا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند