تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
جنیوا: ڈرون حملوں کے خلاف پاکستان کی قرارداد منظور
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں قرارداد کے حق میں 27 ووٹ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 14 شعبان 1441هـ - 8 اپریل 2020م
آخری اشاعت: ہفتہ 27 جمادی الاول 1435هـ - 29 مارچ 2014م KSA 08:18 - GMT 05:18
جنیوا: ڈرون حملوں کے خلاف پاکستان کی قرارداد منظور
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں قرارداد کے حق میں 27 ووٹ
امریکا،برطانیہ اور فرانس نے قرارداد کے خلاف ووٹ دیا ہے
جنیوا ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے کثرت رائے سے بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں کے میزائل حملوں کے خلاف پاکستان کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کثرت رائے سے منظور کر لی ہے۔اس قرارداد میں عالمی ادارے کے ارکان تمام ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ ڈرونز کو حملوں کے لیے استعمال کرتے وقت بین الاقوامی قانون کی پاسداری کریں۔

جنیوا میں اقوام متحدہ کے تحت انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں پاکستان نے یمن اور سوئٹزر لینڈ کے ساتھ مل کر ڈرون حملوں کے خلاف یہ قرارداد پیش کی تھی۔جمعہ کو اس پر رائے شماری کے وقت کونسل کے سینتالیس میں سے ستائیس ممالک نے اس کے حق میں ووٹ دیا،چودہ اجلاس سے غیر حاضر رہے اور امریکا ،برطانیہ اور فرانس سمیت چھے ممالک نے اس کی مخالفت کی ہے۔

قرارداد میں ڈرونز کو حملوں کے لیے استعمال کرنے والے کسی خاص ملک کا نام تو نہیں لیا گیا لیکن امریکا پاکستان کے علاوہ یمن ،افغانستان اور صومالیہ میں جنگجوؤں کی بیخ کنی کے نام پر ڈرونز کو سب سے زیادہ استعمال کرنے والا ملک ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر ضمیر اکرم نے انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں کہا کہ ''اس قرارداد کا مقصد کسی ملک کی ملامت یا نام لینا نہیں کیونکہ ہم اس نقطہ نظر کے خلاف ہیں بلکہ یہ قرارداد ایک اصول کی حمایت کے لیے ہے''۔

قرارداد پر بحث کے دوران امریکا کی نائب معاون امریکی وزیرخارجہ پاؤلا شریفر نے کہا:''امریکا نے اس بات کو یقینی بنانے کا عہد کررکھا ہے کہ بغیر پائیلٹ طیاروں کے استعمال سمیت ہمارے اقدامات ملکی اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہوں،ان کی ہرممکن شفافیت یقینی بنائی جانی چاہیے اور یہ ہماری قومی سلامتی کی ضروریات کے مطابق ہونے چاہئیں''۔

کونسل نے اس قرارداد کے ذریعے اقوام متحدہ کی رکن تمام ریاستوں سے کہا ہے کہ ''وہ انسداد دہشت گردی کے لیے اقدامات کے وقت بغیر پائیلٹ طیاروں یا مسلح ڈرونز کو استعمال کرتے ہوئے اپنی بین الاقوامی ذمے داریوں کو پورا کریں۔خاص طور پر پیشگی احتیاط ،امتیاز اور تناسب کے اصولوں کی پاسداری کریں''۔

قرارداد میں ڈرون حملوں کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمشنر مس نیوی پلے سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مسلح ڈرونز کے استعمال پر ماہرین کی سطح کے مباحثے کا اہتمام کریں اور ستمبر تک اس کی رپورٹ کونسل کو پیش کی جائے۔

امریکا ،برطانیہ اور فرانس نے قرارداد کی مخالفت میں یہ موقف پیش کیا ہے کہ ہتھیاروں کے نظام پر بحث مباحثے کے لیے کونسل مناسب فورم نہیں ہے۔پاؤلا شریفر کا کہنا تھا کہ اوباما انتظامیہ سوئٹزرلینڈ اور بین الاقوامی ریڈکراس کمیٹی کے زیراہتمام اقدام کے تحت ڈرونز پر بحث مباحثے کے لیے تیار ہے۔یہ ایک غیر سیاسی فورم ہے اور عسکری ماہرین وہاں جنگی قوانین پر بحث مباحثہ کرسکتے ہیں۔

پاکستانی سفیر ضمیر اکرم نے کونسل میں رائے شماری سے قبل کہا کہ ان ممالک (مذکورہ بالا) کی جانب سے قرارداد کی مخالفت سے یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے اطلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب ہورہے ہیں اور انھیں ماہرین کے پینل میں اپنے بھید کھل جانے کا خدشہ ہے''۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے انسداد دہشت گردی کے خصوصی تحقیقات کار بن ایمرسن نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں پاکستان ،افغانستان اور یمن میں ڈرون حملوں کے نتیجے میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تصدیق کی تھی۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ایک اور ادارے نے جمعرات کو اوباما انتظامیہ پر زوردیا تھا کہ وہ بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں کے استعمال کو محدود کردے اور اپنی نگرانی کی سرگرمیوں میں بھی کمی لائے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند