تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پاکستان کی میزبانی میں افغان حکومت اور طالبان کے مذاکرات
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 17 ربیع الاول 1441هـ - 15 نومبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 21 رمضان 1436هـ - 8 جولائی 2015م KSA 22:56 - GMT 19:56
پاکستان کی میزبانی میں افغان حکومت اور طالبان کے مذاکرات
ایجنسیاں

افغان حکومت اور تحریک طالبان افغانستان کے درمیان پاکستان کے سیاحتی مقام مری میں ہونے والے مذ اکرات فریقین میں امن اور مفاہمت کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کے ساتھ ختم ہو گئے ہیں۔

مری میں منعقدہ مذاکرات تعاون کے اُسی عزم کی ایک کڑی ہیں، جس کا اظہار نومبر 2014ء میں افغان صدر اشرف غنی کے دورہٴ اسلام آباد کے موقع پر دونوں ملکوں نے کیا تھا

بدھ کے روز پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق ان مذاکرات میں چین اور امریکہ کے نمائندگان بھی شریک تھے۔ مزید یہ کہ مذاکرات کا اگلا دور فریقین کے درمیان باہمی اتفاق رائے سے رمضان کے بعد منعقد ہو گا۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے افغان قیادت کی سربراہی میں قیام امن اور مفاہمت کے عمل میں سہولت فراہم کرنے کے عزم کے تحت ان مذاکرات کی میزبانی کی۔

اس مذاکراتی عمل میں شریک فریقین کو اپنی اپنی قیادت کی طرف سے مکمل مینڈیٹ حاصل تھا اور انہوں نے خطّے میں قیام امن کے لیے اپنی مشترکہ خواہش کا اظہار کیا۔

بیان کے مطابق شرکاء نے تمام فریقین کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات کرنے کی ضرورت کو تسلیم کیا۔ بیان کےمطابق ’شرکاء نے امن اور مفاہمت کےعمل کے لیے ساز گار ماحول پید اکرنے کے سلسلے میں بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا‘۔

حکومت پاکستان نے افغانستان میں دیر پا امن کے قیام کے لیے رضامندی ظاہر کرنے پر افغان حکومت اور تحریک طالبان افغانستان کا شکریہ ادا کیا۔ دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق افغانستان میں امن و استحکام لانے کے لیے پاکستان اقوام متحدہ سمیت دیگر شراکت داروں کا بھی شکر گزار ہے۔

ان مذاکرات میں افغان وفد کی سربراہی نائب وزیر خارجہ حکمت خلیل کرزئی نے کی جبکہ دیگر اہم رہنماؤں میں صدر اشرف غنی کے مشیر حاجی دین محمد اور افغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے نمائندے محمد نطیقی شامل تھے۔ دوسری جانب افغان طالبان کی سربراہی طالبان دور کے اٹارنی جنرل ملا عباس نےکی۔ ملا عباس افغان طالبان کے سربراہ ملا عمر اور طالبان شوریٰ کے اراکین کے کافی قریب خیال کیے جاتے ہیں۔

اس سے قبل افغان حکومت اور طالبان کے درمیان دو ہزار تیرہ میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے براہ راست مذاکرات وہاں قائم طالبان کے دفتر پر ان کا جھنڈا لہرانے اور دفتر کے باہر تختی آویزاں کرنے جیسے تنازعات کے بعد ختم ہو گئے تھے۔

اس کے بعد چین کے شہر ارمچی میں فریقین کے درمیان رسمی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے بات چیت کا ایک دور منعقد کیا گیا تھا۔ پاکستانی برّی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے بھی اس سال فروری میں دورہٴ کابل کےدوران افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی یقین دہانی کرائی تھی۔

پاکستانی برّی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے بھی اس سال فروری میں دورہٴ کابل کےدوران افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی یقین دہانی کرائی تھی

خیال رہے کہ پاکستان ایک ایسے وقت میں ان مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے، جب گزشتہ دنوں پاک افغان سرحد پر کشیدگی اور قندھار میں پاکستانی قونصلیٹ کے ایک اہلکار کو حراست میں لیے جانے کے بعد دونوں ممالک میں تلخی پیدا ہو گئی تھی اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے سفیر کو طلب کر کے احتجاج کیا تھا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند