پاکستان مسلم لیگ نواز نے وزیراعظم میاں نواز شریف کی عدالتِ عظمیٰ کے پاناما پیپرز کیس کے فیصلے کے تحت نااہلی کے بعد ان کے چھوٹے بھائی اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو وزیراعظم بنانے کا فیصلہ کیا ہے لیکن ان کے قومی اسمبلی کا ممبر منتخب ہونے تک شاہد خاقان عباسی کو عبوری وزیراعظم بنایا جائے گا۔

شاہد خاقان عباسی میاں نواز شریف کی سربراہی میں تحلیل شدہ کابینہ میں پٹرولیم اور قدرتی وسائل کے وفاقی وزیر تھے۔پارلیمان کے ایوان زیریں میں مسلم لیگ کو سادہ اکثریت حاصل ہے اور وہ کسی اتحادی جماعت کی حمایت کے بغیر بھی شاہد خاقان عباسی اور ان کے بعد میاں شہباز شریف کو قومی اسمبلی میں وزیراعظم منتخب کرانے میں کامیاب ہوجائے گی۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کے سربراہ میاں نواز شریف کی سربراہی میں ہفتے روز اسلام آباد میں دو الگ الگ اجلاس ہوئے ہیں اور ان میں عدالتِ عظمیٰ کے فیصلےکے قانونی اور سیاسی مضمرات کا جائزہ لیا ہے اور اس کی روشنی میں جماعت کی قیادت نے مستقبل کے لیے اہم فیصلے کیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق میاں شہباز شریف اپنے بھائی میاں نواز شریف کی نااہلی کے بعد لاہور سے خالی ہونے والی قومی اسمبلی کی نشست پر انتخاب لڑیں گے۔یہ حلقہ مسلم لیگ نواز کا گڑھ سمجا جاتا ہے اور توقع ہے کہ وہ اس حلقے سے ایوان زیریں کے رکن منتخب ہوجائیں گے۔یہ بھی پتا چلا ہے کہ میاں شہباز شریف کی جگہ ایکسائز اور ٹیکسیشن کے صوبائی وزیر مجتبیٰ شجاع الرحمان کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزارتِ عظمیٰ اور وزارتِ اعلیٰ کے لیے مذکورہ شخصیات کے ناموں کو دو الگ الگ اجلاسوں میں حتمی شکل دی گئی ہے۔پہلا اجلاس غیر حتمی تھا اور اس کے بعد پاکستان مسلم لیگ کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا ہے۔ میاں نواز شریف کی سربراہی میں ان اجلاسوں میں ان کے قریبی دیرینہ ساتھیوں چودھری نثار علی خان ،احسن اقبال ، ایاز صادق ، خواجہ سعد رفیق ، رانا تنویر حسین ، شاہد خاقان عباسی اور میاں شہباز شریف سمیت مسلم لیگ کے دوسرے رہ نماؤں اور ارکان اسمبلی نے شرکت کی ہے۔

  • میاں شہباز شریف اور شاہد خاقان عباسی