سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ احتساب کو کہیں اور سے کنٹرول کیا جارہا ہے جب کہ ہمیں سزا دی نہیں بلکہ دلوائی جا رہی ہے۔

ادھردوسری جانب احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف کی درخواست پر انہیں ایک ہفتے کے لیے استثنیٰ دیتے ہوئے ان کے نمائندے ظافر خان کو عدالت میں پیش ہونے کی اجازت دے دی گئی جبکہ مریم نواز کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے انہیں ایک ماہ کے لیے استثنیٰ دیتے ہوئے ان کے نمائندے جہانگیر جدون کو پیش ہونے کی اجازت دے دی ہے۔

احتساب عدالت میں سماعت کے لیے پیشی کے موقع پر کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ عدالتوں کا دہرا معیار ہے جو جلد اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا تاہم اس دہرے معیار کے خاتمے کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتساب کو کہیں اور سے کنٹرول کیا جارہا ہے اور جو قصور ہم نے نہیں کیا اس کا بھی ہم سے انتقام لیا جا رہا ہے۔

نواز شریف، اپنی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کے ہمراہ قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر ریفرنسز کے سلسلے میں اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔ وفاقی دارالحکومت کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر، شریف خاندان کے خلاف بیرون ملک جائیدادوں سے متعلق ریفرنسز کی سماعت کر رہے ہیں۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ عدالت میں سیاسی مخالفین جیسے سوال پوچھے گئے، ہمیں سزا دی نہیں بلکہ دلوائی جارہی ہے، میرے مقدمے میں کچھ اور جب کہ دوسروں کے مقدموں میں اور ضابطے ہیں تاہم یہ احتساب نہیں انتقام ہے اور اس کے باوجود بھی ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں۔

سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ 1999ء میں بھی کہا تھا کہ طیارہ ہائی جیک کے جھوٹے کیس میں سزا دلوائی جارہی ہے، اس وقت بھی مجھے پھنسایا گیا اور آج بھی وہی معاملہ دہرایا جارہا ہے، سپریم کورٹ نے پاناما کیس کے فیصلے میں ایسے ریمارکس دیے جیسے ہمارے سیاسی مخالفین دیتے ہیں، وہ سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں بلکہ نیب کو واضح پیغام تھا کہ نوازشریف کو ہر قیمت پر سزا دینی ہے۔

حاضری سے استثنیٰ

آج کی کارروائی کے دوران نواز شریف کی جانب سے احتساب عدالت میں درخواست دائر کی گئی جس میں انہوں نے ایک ہفتے تک عدالتی کارروائی سے استثنیٰ حاصل کرنے کی استدعا کی۔سابق وزیرِ اعظم کی درخواست میں موقف اختیا ر کیا گیا کہ ان کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز لندن کے ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں، ان کا اور ان کی اہلیہ کا 40 سال کا ساتھ ہے اور وہ اس مشکل وقت میں اپنی اہلیہ کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی اہلیہ کا کیموتھراپی کا اگلہ مرحلہ ہونا ہے جس کی وجہ سے وہ لندن جائیں گے، لہٰذا انہیں 20 نومبر سے ایک ہفتے کے لیے استثنیٰ دی جائے۔

وکیل استغاثہ نے دونوں ملزمان کی درخواست پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ نہ تو نواز شریف اور نہ ہی مریم نواز بیمار ہیں لہٰذا ان دونوں کو عدالتی کارروائی سے استثنیٰ نہیں دیا جاسکتا، تاہم عدالت نے اس اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے دونوں ملزموں کو مختلف معیاد کے لئے استثنیٰ دیتے ہوئے ان کے نمائندوں کو اگلی پیشی پر عدالت میں موجود رہنے کی ہدایت کی۔

حسن اور حسین نواز اشتہاری قرار

درایں اثنااحتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادوں حسن نواز اور حسین نواز کو اشتہاری قراردےدیا ۔ سماعت کے موقع پر وزیر اعظم کے وکیل خواجہ حارث نے حسن اور حسین نواز کے اسٹیٹس سے متعلق سوال کیا تو جج محمد بشیر نے کہا کہ ایک ماہ مکمل ہونے پر حسن اور حسین نواز کو اشتہاری قرار دیا جاچکا ہے۔ جج محمد بشیر نے کہا کہ حسن نواز اور حسین نواز کو ہرعدالتی فیصلے میں اشتہاری لکھا جائے۔