پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل ، میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پاکستان کی جوہری صلاحیت سد ِّجارحیت کے لیے ہے اور بھارت کو پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کے بارے میں کسی دھوکے میں نہیں رہنا چاہیے۔

انھوں نے یہ بات بھارت کے آرمی چیف جنرل بِپن راوت کے ایک دھمکی آمیز بیان کے جواب میں کہی ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ’’پاکستان کی جوہری صلاحیت ایک ڈھکوسلا ہے۔اگر بھارتی حکومت نے فوج کو پاکستانی سرحد پار کرکے کسی کارروائی کا حکم دیا تو وہ اس سے نہیں ہچکچائے گی‘‘۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق جنرل بپن راوت نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ ’’ ہم پاکستان کے جوہری ہتھیار کو ایک ڈھکوسلا قرار دیں گے ۔اگر ہمیں پاکستانیوں سے محاذ آرا ہونے کی ذمے داری سونپی جاتی ہے تو ہم یہ نہیں کہیں گے کہ ہم سرحد پار نہیں جا سکتے کیونکہ ان کے پاس جوہری ہتھیار ہیں۔ہمیں ان کے جوہری ہتھیاروں کو ایک ڈھکوسلا قرار دینا ہوگا‘‘۔

آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل نے سرکاری ٹیلی ویژن پی ٹی وی ورلڈ سے ہفتے کے روز گفتگو کرتے ہوئے بھارتی آرمی چیف کے اس بیان کو ’’غیر ذمے دارانہ ‘‘ اور چار ستارہ جنرل اور چیف آف آرمی اسٹاف کے منصب سے فروتر قرار دیا ہے۔

ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ اگر بھارت ایسی کوئی مہم جوئی کرتا ہے تو پاکستان کا کیا ردعمل ہوگا؟اس کے جواب میں میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ’’ اگر بھارتی ہمارے عزم کو آزمانا چاہتے ہیں تو پھر انھیں ایسی کوشش کر گزرنی چاہیے اور انھیں پھر خود ہی پتا لگ جائے گا۔ ہمارے پاس قابل اعتبار جوہری صلاحیت ہے اور وہ بالخصوص مشرق سے درپیش خطرے سے نمٹنے کے لیے ہی ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان اپنی جوہری صلاحیت کو ’’سد ِّجارحیت ‘‘ کا ہتھیار سمجھتا ہے اور اس کو وہ جنگ کے لیے ایک آپشن نہیں سمجھتا ہے۔

انھوں نے کہا’’ بھار ت پاکستان کو غیر روایتی خطروں اور ریاستی دہشت گردی کے ذریعے ناکام طور پر ہدف بنا تا چلا آ رہا ہے کیونکہ خطے میں جوہری ہتھیاروں کی وجہ سے وہ روایتی جنگ میں پاکستان کو سرنگو ں نہیں کرسکتا ‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ جو چیز انھیں روک رہی ہے ، وہ ہماری قابل اعتبار جوہری سد ِّجارحیت کی صلاحیت ہے کیونکہ دو جوہری ریاستوں کے درمیان جنگ کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے‘‘۔انھوں نے واضح کیا کہ’’ پاکستان ایک پیشہ ور فوج کے ساتھ ذمے دار جوہری ریاست ہے۔اس لیے بھارت کسی فریب میں نہ رہے‘‘۔