تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2018

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پاکستان نے سعودی عرب میں فوج بھجوانے کا فیصلہ کر لیا
'تربیت اور مشاورتی امور' کی انجام دہی مملکت بھیجے جانے والے دستے کی بنیادی ذمہ داری ہو گی: آئی ایس پی آر
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 11 صفر 1440هـ - 22 اکتوبر 2018م
آخری اشاعت: جمعرات 29 جمادی الاول 1439هـ - 15 فروری 2018م KSA 22:01 - GMT 19:01
پاکستان نے سعودی عرب میں فوج بھجوانے کا فیصلہ کر لیا
'تربیت اور مشاورتی امور' کی انجام دہی مملکت بھیجے جانے والے دستے کی بنیادی ذمہ داری ہو گی: آئی ایس پی آر
اسلام آباد میں سعودی عرب کے سفیر نواف سعید المالکی پاکستان فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے جی ایچ کیو میں ملاقات کر رہے ہیں
العربیہ اردو سٹاف رپورٹ، ایجنسیاں

پاکستان فوج کا ایک دستہ ٹریننگ اور مشاورتی مشن پر سعودی عرب میں تعینات کر دیا جائے گا۔ اس امر کی وضاحت نہیں ہو سکی کہ تعینات کیے جانے والے دستے میں شامل فوجیوں کی تعداد کتنی ہو گی۔

تاہم پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری ایک اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ فوجی دستے کو 'تربیت اور مشاورتی امور' کی انجام دہی کے لئے تعینات کیا جائے گا۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ یہ اعلان جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سعودی عرب کے سفیر نواف سعید المالکی کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد کیا گیا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جنرل قمرجاوید باجوہ اور نواف سعید المالکی کے درمیان ملاقات میں 'باہمی دلچسپی' کے امور سمیت خطے کی سلامتی کی صورت حال بھی زیر بحث آئی۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاک فوج کا دستہ سعودی عرب میں پہلے سے موجود پاکستانی فوجیوں میں شامل ہو گا اور 'سعودی عرب کی سرحدی حدود سے باہر کہیں تعینات نہیں ہو گا'۔

خیال رہے کہ 1982 کے دو طرفہ معاہدے کے تحت سعودی عرب میں پاکستان کے 1180 کے قریب فوجی موجود ہیں اور رپورٹ کے مطابق وہاں پر تعینات اکثر فوجی ٹریننگ اور مشاورتی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط عسکری تعلقات ہیں جبکہ پاکستان، سعودی عرب کی سربراہی میں گذشتہ سال بننے والے اسلامی فوجی اتحاد کے 41 اراکین میں شامل ہے جس کی سربراہی سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ اسلامی فوجی اتحاد کا افتتاح گذشتہ برس سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کیا تھا۔

پاک فوج کے سابق سربراہ اور عسکری اتحاد کے کمانڈر جنرل راحیل شریف نے اس موقع پر کہا تھا کہ 'ہمارے کئی رکن ممالک دہشت گرد تنظیموں کے خلاف لڑنے کے لیے مسلح فوج اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی صلاحیت میں کمی کے باعث شدید دباؤ میں ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'آئی ایم سی ٹی سی رکن ممالک کو اپنی ریاستوں میں انسداد دہشت گردی کارروائی کے لیے خفیہ معلومات کی ترسیل اور صلاحیت کو بہتر بنانے میں معاونت کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کردار ادا کرے گا'۔

نقطہ نظر

قارئین کی پسند