تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
فوج کا کسی بھی این آر او سے کوئی تعلق نہیں ہے: ترجمان پاکستان فوج
"اگر پاکستان نے دنیا کے لیے مثبت کردار ادا نہ کیا ہوتا تو آج شاید امریکا سپر پاور نہ ہوتا"
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 3 رجب 1441هـ - 27 فروری 2020م
آخری اشاعت: بدھ 11 رجب 1439هـ - 28 مارچ 2018م KSA 19:21 - GMT 16:21
فوج کا کسی بھی این آر او سے کوئی تعلق نہیں ہے: ترجمان پاکستان فوج
"اگر پاکستان نے دنیا کے لیے مثبت کردار ادا نہ کیا ہوتا تو آج شاید امریکا سپر پاور نہ ہوتا"
ترجمان پاکستان فوج میجر جنرل آصف غفور
راولپنڈی ۔ ایجنسیاں

ترجمان پاکستان فوج میجر جنرل آصف غفور نے واضح کر دیا ہے کہ پاک فوج کا کسی بھی این آر او سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ آرمی چیف اور شہباز شریف کی چھپ کر ملاقات کا تاثرہ دیا گیا جس کی وضاحت ضروری تھی۔ تمام ادارے اپنا اپنا کام کر رہے ہیں۔ باجوہ ڈاکٹرائن کا مطلب صرف ملک میں امن کا قیام ہے۔

بدھ کو جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ(آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان کا خطے میں مثبت کردار اور ایک جغرافیائی حیثیت ہے۔ امریکا سپر پاور ہے، اس میں کوئی شک نہیں لیکن اگر پاکستان نے دنیا کے لیے مثبت کردار ادا نہ کیا ہوتا تو آج شاید امریکا سپر پاور نہ ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب دنیا جغرافیائی سیاست کی جانب بڑھ رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹویٹ کے بعد پاک امریکا تعلقات پر اثر پڑا۔ تاہم اب امریکا نے اب ہمارے مطالبات پر بھی عمل کرنا شروع کر دیا ہے۔ افغانستان کے امن کے لیے جو سپورٹ ہو گی وہ کریں گے۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ غیر مستحکم پاکستان بھارت کے حق میں نہیں۔ کنٹرول لائن پر اشتعال انگیزی سے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ بھارت کو ہمارا شکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ اگر ہم دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہ کرتے تو اس کا خطرہ بھارت کو بھی تھا۔ پاکستان نے خطے میں قیامِ امن کیلئے اہم اہم کردار ادا کیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت میں ہمارے سفارتکاروں کے ساتھ غیر مناسب سلوک روا رکھا گیا۔ ہم ایک ذمہ دار ملک
ہیں لیکن ہماری امن کی خواہش کو بھارت کمزوری نہ سمجھے۔ بھارت نے اگر کوئی مہم جوئی کی تو سخت جواب دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کیلئے سب سے بڑا چیلنج پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک)ہے جسے ہم نے کامیاب بنانا ہے۔ سی پیک سے پورے خطے کو فائدہ ہو گا۔ اس کے بعد پاکستان کی معیشت پر بہت دباو ہے۔ ملک میں معاشی صورتحال بہتر ہونا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام ادارے اپنا اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ملک میں ترقی تب ہی ہو گی جب تمام ادارے اپنی حدود میں رہتے ہوئے کام کریں گے۔

آرمی چیف کے بیرونِ ملک دوروں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ آرمی چیف نے سری لنکا، افغانستان، جرمنی، برونائی دارالسلام اور ملائیشیا کا بھی کامیاب دورہ کیا۔ آرمی چیف کے دورہ ایران سے تعلقات بہتر ہوئے۔ پاک سعودیہ تعلقات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں کوئی ڈویژن لڑنے کے لیے نہیں بھیجی۔ پاکستان کا 1982 سے سعودی عرب سے فوجی تعاون کا معاہدہ ہے جس کے تحت فوج بھیجی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی قراراد د تھی کہ یمن کے خلاف فوج نہیں بھیجیں گے اور فوج نہیں گئی۔ اگر فوج کو بھیجنا ہے تو یہ حکومت کی منظوری سے ہو گا۔

پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ ہمیں اپنی تمام انٹیلی ایجنس ایجنسیز پر فخر ہے۔ پچھلے دس سے پندرہ سال میں انٹیلی جنس ایجنسیز کا کلیدی کردار رہا ہے۔ آئی ایس آئی، ایم آئی اور آئی بی سمیت باقی اداروں کی محنت نہ ہوتی توآج پاکستان میں امن نہ ہوتا۔ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیاں اور افواج دشمن کے ناپاک عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دے رہیں۔کراچی میں امن وامان کی صورتحال بارے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آج کا کراچی 2013 سے بہت مختلف ہے۔ آج شہر کا امن واپس لوٹ رہا ہے اور کہیں کوئی نو گو ایریا نہیں، پورے شہر میں کوئی شٹر ڈان ہڑتال نہیں ہو رہی لیکن ابھی وہاں بہت سا کام کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں کرکٹ کی بحالی اور پی ایس ایل تھری کے کامیاب انعقاد پر بات کرتے ہوئے پاک فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس ایونٹ کے انعقاد اور امن وامان کی صورتحال بہتر بنانے میں سیکیورٹی ایجنسیز نے اہم کردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم چیئرمین پی سی بی کے شکر گزار ہیں جو ملک میں کرکٹ کو واپس لے کر آئے۔ انھیں کہا ہے کہ باقی شہروں میں بھی میچز کروائے جائیں۔ اگلے پی ایس ایل میں راولپنڈی اور فیصل آباد میں بھی میچز ہوں گے۔

آرمی چیف کی میڈیا نمائندوں سے ملاقات بارے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ سے اینکرز کی ملاقات آف دی ریکارڈ تھی جس میں کچھ لوگ موجود نہیں تھے، پھر بھی اس پر آرٹیکلز لکھے۔ باجوہ ڈاکٹرائن کا 18 ویں ترمیم، عدلیہ، این آر او سے کوئی تعلق نہیں، باجوہ ڈاکٹرائن کا مطلب صرف ایک ہے اور وہ ہے پرامن پاکستان، یہ ہر پاکستانی کی ڈاکٹرائن ہونی چاہیے، اگر کوئی باجوہ ڈاکٹرئن ہے تو امن بحال کرنے کے لئے ہے کیونکہ آرمی چیف کی خواہش ہے کہ پاکستان میں امن ہو۔ باجوہ ڈاکٹرائن کا کوئی اور مطلب نہ لیا جائے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ خطے میں امن کی راہ ہموار کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی ہے، خطے میں امن کے لئے پاکستان کے کردار کو مثبت انداز سے دیکھنا چاہیے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کو شک کی نگاہ سے دیکھا گیا تو پاکستان کی امن کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ انتخابات کرانا اور اس کا ٹائم فریم آئین میں ہے، آرمی نے الیکشن کا اعلان نہیں کرنا، الیکشن کمیشن نے کرنا ہے اس میں تمام لوگوں کا کردار ہے اور انتخابات کے حوالے سے ہر وہ کام کریں گے جو آئین کے تحت کہا جائے گا۔

پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ نقیب اللہ محسود کے قتل کے بعد شروع ہوا تھا، جسے افغانستان سے مدد مل رہی تھی۔ نقیب اللہ محسود کے قتل کا کیس عدالت میں ہے، اس مقدمے میں ملوث سابق ایس ایس پی راو انوار سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔ نقیب محسود کے قتل کے ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہے۔ اس معاملہ پر زیادہ شور افغانستان کی طرف سے اٹھایا گیا۔

پاک فوج کی چیک پوسٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ چیک پوسٹیں اتنی نہیں ہیں جتنی بتائی جاتی ہیں، تاہم جب تک خطروں کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاتا تب تک چیک پوسٹوں پر ختم نہیں کیا جاسکتا۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی چیک پوسٹس پر موجود جوان عوام کی حفاظت کے لیے ہی وہاں موجود ہے، جو کسی بھی خطرے کے خلاف پہلا دفاع ہے،۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہورہی ہے، پچھلے دنوں آرمی چیف تربت گئے، وہاں قیام بھی کیا جہاں کھلے میدان میں ایک شو کا انعقاد کیا گیا جس میں 10 ہزار شہری رات گئے شریک ۔رہے جو اس بات کی نشاندہی ہے کہ وہاں امن و امان میں بہتری آئی ہے۔
 

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند