تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
’’مشکل فیصلوں کا وقت آگیا‘‘: وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر مستعفی
وزیراعظم عمران خان اپنی کابینہ میں مزید ردوبدل کا آج رات یا جمعہ کی صبح اعلان کررہے ہیں
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 21 ذوالحجہ 1440هـ - 23 اگست 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 12 شعبان 1440هـ - 18 اپریل 2019م KSA 17:43 - GMT 14:43
’’مشکل فیصلوں کا وقت آگیا‘‘: وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر مستعفی
وزیراعظم عمران خان اپنی کابینہ میں مزید ردوبدل کا آج رات یا جمعہ کی صبح اعلان کررہے ہیں
پاکستان کے مستعفی وزیر خزانہ اسد عمر
اسلام آباد ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں ۔انھوں نے جمعرات کو ٹویٹر پر اچانک اپنے استعفے اور کوئی اور وزارت قبول نہ کرنے کا اعلان کیا ہے ۔بعد میں انھوں نے ا سلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ اب ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے بعض مشکل فیصلوں کا وقت آگیا ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ ان کی جگہ نئے آنے والے وزیر خزانہ کی اس ضمن میں معاونت کی جائے گی۔

انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ انھوں نے کابینہ میں کوئی عہدہ نہ لینے کے لیے وزیراعظم عمران خان کی رضا مندی حاصل کر لی ہے۔ان کے بہ قول کابینہ میں ردوبدل کے تحت عمران خان چاہتے تھے کہ وہ وزارتِ خزانہ کے بجائے توانائی کی وزارت کا قلم دان سنبھال لیں۔تاہم انھوں نے وزیراعظم سے ملاقات میں انھیں اس بات پر آامدہ کرلیا ہے کہ وہ کوئی بھی وزارت نہیں لینا چاہتے اور کسی عہدے کے بغیر پارٹی اور ملک کے لیے خدمات بجا لاتے رہیں گے۔وہ لکھتے ہیں:’’ میں عمران خان پہ پختہ اعتقاد رکھتا ہوں ۔وہ پاکستان کے لیے بہترین امید ہیں اور ان شاء اللہ نیا پاکستان بنائیں گے‘‘۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت میں وفاقی کابینہ میں ردو بدل کے حوالے سے گذشتہ ہفتے سے خبریں گردش کررہی تھیں لیکن وزیر اطلاعات فواد چودھری نے ان کی تردید کی تھی اور انھیں محض افواہیں قرار دیا تھا لیکن جب اسد عمر سے نیوز کانفرنس میں اس حوالے سے سوال پوچھا گیا تو انھوں نے بتایا کہ ’’ مجھے گذشتہ رات وزارتی منصب میں تبدیلی کے بارے میں پہلی مرتبہ بتایا گیا تھا‘‘۔

انھوں نے بتایا :’’ میرے خیال میں اور وزیراعظم سے میری گفتگو کے مطابق کابینہ میں آج شب یا کل صبح مزید تبدیلیاں بھی کی جارہی ہیں‘‘۔انھوں نے کہاکہ’’ 2012ء میں 18 اپریل ہی کو اخبارات نے میری پی ٹی آئی میں شمولیت کی خبر دی تھی اور آج سات سال کے بعد میں یہ آپ کو خبر دے رہا ہوں کہ یہ ایک بہت اچھا سفر رہا ہے اور میں یہ سفر جاری رکھوں گا‘‘۔

انھوں نے پی ٹی آئی کے نوجوانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ’’جب ہم اقتدار میں آئے تو معیشت کی صورت حال بہت پتلی تھی۔ہم کھائی کے کنارے کھڑے تھے ۔معاشی حالت اب بھی کوئی اچھی نہیں ۔آیندہ وزیر خزانہ کو سخت مشکلات کا سامنا ہوگا لیکن میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جو کوئی بھی آئے اور قوم کے مفاد میں مشکل فیصلے کرے تو اس کی حمایت کی جانی چاہیے ‘‘۔

جب اسد عمر سے سوال پوچھا گیا کہ کیا انھیں وزیر خزانہ کے عہدے سے ہٹانے کے لیے حکومت میں کوئی سازش کی گئی ہے تو اس کا انھوں نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔البتہ ان کا کہنا تھا:’’ میں سیاست میں ملک کی بھلائی کے لیے کچھ کرنے کی غرض سے آیا تھا۔میں یہ تو نہیں جانتا کہ مجھے ہٹانے کے لیے کوئی سازش کی گئی ہے لیکن میں یہ بات ضرور جانتا ہوں کہ میرا کپتان مجھے وزیرِ توانائی کے کردار میں دیکھنا چاہتا تھا ۔میں اسے کوئی بہتر تجویز خیال نہیں کرتا تھا ،اس لیے میں نے انکار کردیا‘‘۔

ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ’’ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا ان کی سبکدوشی سے کوئی تعلق نہیں ہے‘‘۔اسد عمر کو بہ طور وزیر خزانہ ملک کو درپیش معاشی بحران پر قابو پانے میں ناکامی اور ہوشربا مہنگائی پر عام آدمی ، حزبِ اختلاف کی جماعتوں اور کاروباری طبقے کی جانب سے کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن وہ اس تنقید کو مسلسل مسترد کرتے رہے تھے۔

انھوں نے چند روز قبل ہی واشنگٹن میں عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) سے مذاکرات کیے تھے ۔ان میں پاکستان کے لیے فنڈ کے بیل آؤٹ پیکج کو حتمی شکل دی گئی تھی اور اس ضمن میں دستاویز پر دستخط کیے گئے تھے۔آئی ایم ایف کے ایک مشن کی اسی ماہ کے اختتام پر اسلام آباد آمد متوقع ہے اور اس کے دورے کے موقع پر پیکج کے فنی نکات کو حتمی شکل دی جائے گی۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند