تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پاکستان میں شوّال کا اصل چاند نظر آگیا ، بدھ کو ملک بھر میں عید الفطر منانے کااعلان
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 19 صفر 1441هـ - 19 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 30 رمضان 1440هـ - 4 جون 2019م KSA 19:48 - GMT 16:48
پاکستان میں شوّال کا اصل چاند نظر آگیا ، بدھ کو ملک بھر میں عید الفطر منانے کااعلان
العربیہ ڈاٹ نیٹ

پاکستان میں شوّال المکرم کا دوسرا اور اصل چاند نظر آگیا ہے۔مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے چئیرمین مفتی منیب الرحمان نے منگل کی شام شوّال کا چاند نظر آنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ بدھ کو ملک بھر میں عید الفطر منائی جائے گی۔

سعودی عرب سمیت مشرقِ اوسط کے بیشتر ممالک میں آج منگل کے روز عید الفطر منائی گئی ہے۔ پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا کے بیشتر حصوں میں بھی آج عید منائی گئی ہے ۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میں واقع مسجد قاسم علی خان کے خطیب مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے سوموار کی شب عید الفطر منانے کا ا علان کیا تھا اور صوبائی حکومت نے بھی ان کے فیصلے کی تائید کرتے ہوئے صوبے میں عید منانے کا ا علان کر دیا تھا لیکن اس سے ایک نیا تنازع کھڑا ہوگیا ہے ۔

صوبے کے بیشتر علاقوں میں تو آج عید منائی گئی ہے اور عید منانے والوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں ،جنھوں نے باقی ملک کے ساتھ ماہِ صیام کا آغاز کیا تھا۔ سوموار کو ان کا اٹھائیسواں روزہ تھا اور ان کے انتیس روزے بھی پورے نہیں ہوئے۔ان کے بارے میں صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسف زئی نے کہا ہے کہ وہ اب عید کے بعد اضافی روزہ رکھیں گے۔صوبے کے بعض علاقوں میں بدھ کو باقی ملک کے ساتھ عید منائی جائے گی۔

مفتی منیب الرحمان نے ملک بھر سے ہلال ِ شوال دیکھنے کی کئی ایک معتبر شہادتیں ملنے کے بعد عید کا ا علان کیا ہے۔ انھوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کی مرکز اور صوبہ خیبر پختونخوا میں حکومتیں ہیں مگر وزیراعظم عمران خان نے صوبائی حکومت کو ایک روز پہلے ہی عید منانے کی اجازت دے دی۔ان کا کہنا تھا کہ پشاور کی مسجد قاسم علی خان کو پورا صوبہ نہ سمجھا جائے۔

آسٹریلیا ، بھارت ، بنگلہ دیش اور ملائشیا میں بھی بدھ کو عید الفطر منائی جائے گی۔نئے اسلامی مہینے کا آغاز رؤیت ہلال کی بنیاد پر کیا جاتا ہے اور اسلامی کیلنڈر کا ہر مہینہ 29 یا 30 دن کا ہوتا ہے۔ چاند کی حرکت اور ایام میں اس رد وبدل کی بنا پر اسلامی مہینے کا آغاز کسی خاص تاریخ یا دن کو نہیں ہوتا بلکہ ہر سال اسلامی مہینے کے ایام تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔

چاند کی رؤیت کے اعلان کے لیے دو معتبر شہادتیں ہونا ضروری ہیں اور ان کی شہادتوں کے بعد نئے قمری مہینے کے آغاز کا اعلان کیا جاتا ہے۔نیز ہر اسلامی ملک میں چاند کی رؤیت وقت کے فرق کی وجہ سے مختلف ہوسکتی ہے اور ان کے ہاں نئے قمری مہینے کا چاند دیکھنے کے لیے علماء پر مشتمل بورڈ قائم ہیں اور جدید رصدگاہیں بھی ان کی معاونت کرتی ہیں۔

جغرافیائی فرق کی وجہ سے مختلف ممالک میں مختلف دنوں میں نئے اسلامی مہینے کا آغاز ہوسکتا ہے۔اسی لیے دنیا کے مختلف ممالک میں عید مختلف دنوں میں منائی جاتی ہے۔قرآن مجید میں بیان کردہ تعلیمات اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور روایت کے مطابق ہلال کی رؤیت پر رمضان المبارک کا آغاز کیا جاتا ہے اور پھر 29 یا 30 روزے پورے ہونے اور شوال کا چاند نظر آنے پر عید الفطر منائی جاتی ہے۔بالعموم تمام اسلامی ممالک میں سرکاری رؤیت ہلال کمیٹیاں یا سینیر علماء پر مشتمل بورڈ ٹھوس اور معتبر شہادتوں کی بنیاد پر نیا چاند نظر آنے کا اعلان کرتے ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند