تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
میاں شہباز شریف کی لندن سے وطن واپسی ، قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں شرکت کریں گے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 21 ذیعقدہ 1440هـ - 24 جولائی 2019م
آخری اشاعت: اتوار 5 شوال 1440هـ - 9 جون 2019م KSA 19:06 - GMT 16:06
میاں شہباز شریف کی لندن سے وطن واپسی ، قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں شرکت کریں گے
پاکستان مسلم لیگ نواز کے کارکنان میاں شہباز شریف کا لاہور کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر استقبال کرر ہے ہیں۔
اسلام آباد ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

پاکستان کی حزبِ اختلاف کی بڑی جماعت مسلم لیگ نواز کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اتوار کی صبح لندن سے واپس وطن پہنچ گئے ہیں۔لاہور کے علامہ اقبال بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ان کی آمد کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ مسلم لیگ کے قائدین اور کارکنان کی ایک بڑی تعداد ان کے خیر مقدم کے لیے ہوائی اڈے پر موجود تھی۔

انھوں نے میاں شہباز شریف کا والہانہ استقبال کیا ہے ،ان پر پھول اور کرنسی نوٹ نچھاور کیے اور ان کے حق میں نعرے بازی کی۔ان کے استقبال کے لیے مسلم لیگ نواز کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال ، امیر مقام اور پرویز ملک بھی موجود تھے۔پھر انھیں جلوس کی شکل میں ماڈل ٹاؤن میں واقع ان کی رہائش گاہ پر لے جایا گیا۔

پی ایم ایل –این کے صدر پارلیمان کے بجٹ اجلاس سے قبل وطن لوٹے ہیں۔ان کے بارے میں حکومتی حلقوں کی جانب سے یہ قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ وہ اب پاکستان واپس نہیں آئیں گے اور لندن ہی میں مقیم رہیں گے کیونکہ ان کا حکومت سے ’مک مکا‘ ہوچکا ہے لیکن انھوں نے ان تمام قیاس آرائیوں کو غلط ثابت کردیا ہے۔یہ توقع کی جارہی ہے کہ ان کی آمد کے بعد حزبِ اختلاف وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی کی حکومت کے لیے بجٹ اجلاس کے دوران میں مشکل صورت حال پیدا کرے گی اور اس کو مشکل وقت دے گی۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف سوموار کو اپنی جماعت کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کریں گے ۔ اس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اور بجٹ اجلاس کے لیے حکمت عملی وضع کی جائےگی۔

واضح رہے کہ میاں شہباز شریف 9 اپریل کو عدالتِ عالیہ لاہور کے حکم پر اپنے نام کے ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے اخراج کے بعد اچانک لندن چلے گئے تھے۔تب ان کی جماعت کے ذرائع نے کہا تھا کہ وہ 10 سے 12 روز میں وطن لوٹ آئیں گے۔ اس دوران ہی میں انھوں نے تین مئی کو اچانک قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا ۔اس کے بعد ان کی حکومت سے ممکنہ ڈیل کے حوالے سے بہت سے سوالات اٹھائے گئے تھے۔

پی ٹی آئی کے بہت سے ارکان نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ میاں شہباز شریف اب وطن واپس نہیں آئیں گے کیونکہ انھیں بدعنوانی کے مقدمات کاسامنا ہے اور ان کے بڑے بھائی میاں نواز شریف بھی ملک سے باہر جانے کے ارادے باندھ رہے ہیں۔

تب وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے مختلف ٹی وی چینلوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر شہباز شریف واپس آنا چاہتے ہیں تو وہ اپنے گھر کے باہر کسی کو چوکیدار بھی مقرر نہیں کرسکیں گے۔وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے بھی یہ دعویٰ کیا تھا کہ شہباز شریف لندن میں چھپنے کی کوشش کررہے ہیں۔انھوں نے یہ الزام عاید کیا تھا کہ شریف برادران اپنی دولت کا حساب دینے میں ناکام رہے ہیں ۔اس لیے اب وہ ملک سے فرار کے بہانے ڈھونڈ رہے ہیں۔

میاں شہباز شریف کے خلاف ان کے بہ طو ر وزیر اعلیٰ پنجاب دورِ حکومت میں آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم اور رمضان شوگر ملز میں فراڈ ،بدعنوانیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں مقدمات چلائے جارہے ہیں۔ان پر بددیانتی اور فراڈ کے ذریعے قومی خزانے کو چالیس کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند