تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
لندن میں ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین ایک مرتبہ پھر گرفتار
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 13 ذیعقدہ 1440هـ - 16 جولائی 2019م
آخری اشاعت: منگل 7 شوال 1440هـ - 11 جون 2019م KSA 21:17 - GMT 18:17
لندن میں ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین ایک مرتبہ پھر گرفتار
الطاف حسین کی فائل تصویر۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ

برطانوی دارالحکومت لندن میں پولیس نے متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم) کے بانی قائد الطاف حسین کو ایک مرتبہ پھر گرفتار کر لیا ہے۔ اس مرتبہ ان کی گرفتاری اگست 2016ء میں پاکستان اور اس کی مسلح افواج کے خلاف اشتعال انگیز توہین آمیز تقاریر کی بنیاد پر عمل میں آئی ہے۔

الطاف حسن 1990ء کے اوائل سے لندن میں خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔اس دوران میں انھیں برطانیہ کی شہریت بھی حاصل ہوچکی ہے۔لندن میٹرو پولیٹن پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ ایک شخص کو آج بروز منگل 11 جون کو متعدد تقاریر کی تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔پاکستان میں متحدہ قومی موومنٹ سے وابستہ اس شخص نے یہ تقریریں کی تھیں۔‘‘ لیکن لندن پولیس نے اپنے بیان میں الطاف حسین کا نام نہیں لیا ہے۔

اس نے مزید کہا ہے کہ ’’ یہ شخص 60 کے پیٹے میں ہے۔اس کو لندن کے شمال مغربی علاقے میں واقع ایک پتے سے گرفتار کیا گیا ہے ۔اس پر سنگین جرائم کے ایکٹ مجریہ 2007ء کی دفعہ 44 کے منافی اور جان بوجھ کر جرائم کی حوصلہ افزائی یا ان کی معاونت کے شُبے میں گرفتار کیا گیا ہے۔‘‘

بیان کے مطابق ’’اس شخص کو پیس ایکٹ ( پولیس اور کریمنل شہادت ایکٹ 1984) کے تحت پکڑا گیا ہے۔ اس کو جنوبی لندن میں واقع ایک پولیس تھانے میں منتقل کیا گیا ہے جہاں وہ اس وقت پولیس کے زیرحراست ہے‘‘۔پولیس نے مزید کہا ہے کہ افسر اس شخص کے خلاف قابلِ اعتراض تقاریر کی تحقیقات کے دوران میں پاکستانی حکام سے بھی رابطے میں رہے ہیں۔لندن میٹرو پولیٹن پولیس کے حکام نے الطاف حسین کی 2016ء کی ایک تقریر کی تحقیقات کے سلسلے میں اس سال اپریل میں اسلام آباد کا بھی دورہ کیا تھا اور بعض عینی شاہدین کے انٹرویو کیے تھے۔

الطاف حسین کے خلاف 22 اگست 2016ءکو ریاست مخالف تقریر کی بنیاد پر پاکستان کے مختلف شہروں میں غداری کے مقدمات درج کرائے گئے تھے ۔ ان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت میں ایک ہی جیسے تین مقدمات زیر سماعت ہیں۔اس عدالت نے حکومت کو ایم کیو ایم کے بانی کے خلاف ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی ہدایت کی تھی۔ پاکستان کی وزارت داخلہ نے ان کے خلاف ریڈ وارنٹ بین الاقوامی فوجداری پولیس تنظیم (انٹرپول) کو بھیجا تھا ۔ ایم کیو ایم کے بانی قائد پاکستان کو دہشت گردی ،لوگوں کو تشدد پر اکسانے اور سنگین غداری سمیت مختلف جرائم میں مطلوب ہیں۔

مذکورہ تند وتیز اشتعال انگیز تقریر کے بعد کراچی ،کوئٹہ اور گلگت ،بلتستان کے علاقوں میں الطاف حسین کے خلاف متعدد ابتدائی اطلاعی رپورٹس ( ایف آئی آرز) کا اندراج کیا گیا تھا اور انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں ان کی بنیاد پر مقدمات زیر سماعت ہیں۔یہ عدالتیں پہلے ہی الطاف حسین کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر چکی ہیں۔

یادرہے کہ الطاف حسین 1992ء سے برطانیہ میں مقیم ہیں۔ وہ تب کراچی میں لسانی بنیاد پر خونریزی کے خاتمے کے لیے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے پہلے دورِ حکومت میں فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد بھاگ کر لندن چلے گئے تھے اور انھوں نے 2002ء میں برطانوی شہریت حاصل کر لی تھی۔ان کے خلاف لندن میں ایم کیو ایم کے بانی رکن ڈاکٹر عمران فاروق کو قتل کرانے کے الزام میں بھی تحقیقات کی جاتی رہی ہیں اور ان کے منی لانڈرنگ کے الزام میں بھی تحقیقات کی گئی تھیں ۔

مگر برطانیہ کی تفتیشی ایجنسی اسکاٹ لینڈ یارڈ نے 13 اکتوبر 2016ء کو الطاف حسین کے خلاف منی لانڈرنگ کے کیس کی تحقیقات ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔لندن میٹرو پولیٹن پولیس نے ایم کیو ایم کے سینیر لیڈر محمد انور اور ایک کاروباری شخص سرفراز مرچنٹ کے خلاف بھی کئی ماہ کی تفتیش کے بعد منی لانڈرنگ کے کیس ختم کردیے تھے اور اس کا جواز یہ پیش کیا تھا کہ ان کے خلاف منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کے ثبوت نہیں ملے تھے۔

لندن میٹرو پولیٹن پولیس نے الطاف حسین کے خلاف جولائی 2013ء میں منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کا آغاز کیا تھا اور انھیں پولیس نے اس مقدمے میں 3 جون 2014ء کو پہلی مرتبہ گرفتار کیا تھا لیکن انھیں خرابیِ صحت کی بنا پر ولنگٹن اسپتال منتقل کردیا گیا تھا اور پھر تھانے میں نو گھنٹے تک پوچھ تاچھ کے بعد انھیں ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔اس کے بعد پانچ مرتبہ ان کی ضمانت میں توسیع کی گئی تھی۔

یاد رہے کہ برطانوی پولیس نے 2012ء اور 2013ء میں لندن کے علاقے ایجویئر روڈ پر واقع ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا تھا اور وہاں سے پانچ لاکھ سے زیادہ پاؤنڈز کی نقد رقم اور بعض حساس دستاویزات برآمد کی تھیں۔سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کے بہ قول ان میں جدید اسلحے کی خریداری سے متعلق بھی دستاویزات شامل تھیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند