تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پی ٹی آئی کی حکومت کا 70 کھرب 22ارب روپے کا پہلا سالانہ میزانیہ ، خسارہ 35 کھرب ہوگا
سرکاری ملازمین اورپنشنروں کے لیے 5 سے 10 فی صد تک ایڈہاک ریلیف ،کم سے کم اجرت 17500 روپے مقرر
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 19 محرم 1441هـ - 19 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 7 شوال 1440هـ - 11 جون 2019م KSA 19:14 - GMT 16:14
پی ٹی آئی کی حکومت کا 70 کھرب 22ارب روپے کا پہلا سالانہ میزانیہ ، خسارہ 35 کھرب ہوگا
سرکاری ملازمین اورپنشنروں کے لیے 5 سے 10 فی صد تک ایڈہاک ریلیف ،کم سے کم اجرت 17500 روپے مقرر
وزیر مملکت حماد اظہر کی قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران میں حزب اختلاف کے ارکان نے سخت احتجاج کیا ہے۔
اسلام آباد ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

پاکستان تحریک ِ انصاف ( پی ٹی آئی) کی حکومت نے اپنے پہلے سالانہ قومی میزانیے کا اعلان کردیا ہے۔مالی سال 20-2019ء کے اس میزانیے کا کل حجم 7022 ارب روپے ہے اور یہ گذشتہ سال کے میزانیے کے مقابلے میں 30 فی صد زیادہ ہے۔اس میں سرکاری ملازمین اور پنشنروں کو دس فی صد تک ایڈہاک ریلیف دیا گیا ہے۔

وزیر مملکت برائے آمدن( ریونیو) حماد اظہر نے پارلیمان کے ایوانِ زیریں قومی اسمبلی میں منگل کی شام سالانہ بجٹ پیش کیا ہے۔بجٹ دستاویز کے مطابق وفاق کی آمدن کا ہدف 6717 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔یہ گذشتہ سال کے مقابلے میں 19 فی صد زیادہ ہے۔ وفاقی بورڈ برائے آمدن (ایف بی آر) کے اکٹھے کیے جانے والے محاصل کا ہدف 5550 ارب روپے ہوگا۔سرکاری محاصل میں اضافے کے لیے مجموعی قومی پیداوار( جی ڈی پی) میں ان کی شرح بڑھا کر 12.6 فی صد کر دی گئی ہے۔

ساتویں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت وفاق صوبوں میں 3255 ارب روپے تقسیم کرے گا ۔یہ رقم گذشتہ سال کے مقابلے میں 32 فی صد زیادہ ہے۔ متوقع بجٹ خسارہ 3560 ارب ( 35 کھرب 60 ارب) روپے ہوگا۔ بجٹ تقریر کے مطابق حکومت مائع قدرتی گیس ( ایل این جی) کے پلانٹس کو بولی کے ذریعے نجی شعبے کے حوالے کرے گی جس سے دو ارب ڈالر کی آمدن متوقع ہے۔موبائل فون کے لائسنس کی بولی سے ایک ارب ڈالر کی آمدن کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

وزیر مملکت حماد اظہر کی قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران میں حزب اختلاف کے ارکان نے سخت احتجاج کیا اور انھوں نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ان میں بعض نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے،جن پر ’’گو نیازی گو‘‘ اور ’’آئی ایم ایف کا بجٹ نامنظور‘‘ کے نعرے درج تھے۔ حزب اختلاف نے بجٹ تقریر کی نقول فراہم نہ کرنے پر بھی احتجاج کیا ۔

وزیراعظم عمران خان سمیت کابینہ کے تمام ارکان نے اپنی تن خواہوں میں 10 فی صد کٹوتی سے اتفاق کیا ہے۔ یکم جولائی کو شروع ہونے والے آیندہ مالی سال سےگریڈ ایک سے 16 تک سرکاری ملازمین کی تن خواہوں میں 10 فی صد اور گریڈ 17 سے 20 تک ملازمین کی تن خواہوں میں پانچ فی صد ایڈہاک اضافہ کیا جائے گا جبکہ گریڈ 21 اور 22 کے سرکاری ملازمین کی تن خواہوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔حکومت نے نئے بجٹ میں مزدوروں کی کم سے کم اجرت ساڑھے سترہ ہزار روپے مقرر کی ہے۔

حماد اظہر نے بجٹ تقریر میں دعویٰ کیا کہ ’’ ہمارے ادارے مضبوط ہوں گے اور 2019-20 تبدیلی کا سال ہوگا۔حکومت آمدن میں کمی پر قابو پانے کے لیے بنک دولت پاکستان سے قرض لینے سے گریز کرے گی اور افراطِ زر کی شرح کو پانچ سے سات فی صد تک برقرار رکھا جائے گا‘‘۔

انھوں نے کہا کہ قومی ترقیاتی پروگرام کا کل حجم 18 کھرب روپے ہوگا۔اس میں سے ساڑھے نو کھرب روپے وفاقی حکومت خرچ کرے گی ۔70 ارب روپے ڈیموں کے منصوبوں پر صرف کیے جائیں گے۔اس رقم میں سے 15 اور 20 ارب روپے بالترتیب بھاشا ا ور مہمند ڈیم کی تعمیر کے لیے زمین کی خریداری پر صرف کیے جائیں گے۔داسو پن بجلی منصوبے کے لیے 55 ارب روپے اور حویلیاں سے تھاکوٹ تک موٹر وے کے لیے 24 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔اس کے علاوہ سمبڑیال ( ضلع سیال کوٹ) سے کھاریاں( ضلع گجرات) تک نئی موٹروے تعمیر کی جائے گی۔

حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ میں 60 ارب روپے انسانی ترقی اور 45 ارب روپے اعلیٰ تعلیم کے لیے مختص کیے ہیں۔ شعبہ زراعت کے لیے دس کھرب 20 ارب روپے، کراچی اور صوبہ بلوچستان کے لیے وفاقی حکومت کے ترقیاتی پیکج کے تحت ساڑھے 45 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔اس کے علاوہ انھیں پانی کے منصوبوں کے لیے بالترتیب 10 ارب 40 کروڑ اور 30 ارب روپے دیے جائیں گے۔

وفاقی حکومت نے نئے سال کے میزانیے میں ایک کھرب روپے سستا کاروبار اسکیم اور بجلی اور زراعت کے شعبوں میں زرتلافی دینے کے لیے 40 ارب روپے مختص کیے ہیں۔زرعی زمینوں میں لگائے گئے ٹیوب ویلوں کو 6.85 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی مہیا کی جائے گی۔

وفاقی حکومت نے آیندہ مالی سال کے بجٹ میں صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم شدہ سابق سات قبائلی اضلاع کی ترقی کے لیے 152 ارب روپے مختص کیے ہیں ۔ اس میں 10 سالہ ترقیاتی منصوبہ بھی شامل ہے جس کے لیے حکومت 48 ارب روپے دے گی۔ یہ 10 سالہ منصوبہ اس ایک کھرب روپے کے پروگرام کا حصہ ہے جس کے لیے رقوم وفاقی اور صوبائی حکومتیں مہیا کریں گی۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند