تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
وزیراعظم عمران خان 22 جولائی کو واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 15 ذوالحجہ 1440هـ - 17 اگست 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 1 ذیعقدہ 1440هـ - 4 جولائی 2019م KSA 21:00 - GMT 18:00
وزیراعظم عمران خان 22 جولائی کو واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان
اسلام آباد۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان 22 جولائی کو واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ گذشتہ سال وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد ان کا امریکا کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہوگا۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے جمعرات کو ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں بتایا ہے کہ عمران خان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر یہ دورہ کررہے ہیں۔وہ ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال کریں گے۔

وزیراعظم کے اس دورے کے اعلان سے دو روز قبل ہی امریکی محکمہ خارجہ نے بلوچستان لبریشن آرمی ( بی ایل اے) کو ایک عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا تھا۔ اسی روز پاکستان میں کالعدم جماعت الدعوہ کے امیر حافظ محمد سعید اور ان کے نائب عبدالرحمان مکی سمیت تیرہ رہ نماؤں کے خلاف دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا گیا تھا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے گذشتہ ماہ صحافیوں کو بتایا تھا کہ صدر ٹرمپ نے جون میں وزیراعظم عمران خان کو امریکا کے دورے کی دعوت دی تھی لیکن وہ قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کی وجہ سے یہ دورہ نہیں کرسکے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ دونوں لیڈر دو طرفہ تعلقات سمیت اہم علاقائی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان نے امریکا اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات شروع کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔اب امریکا افغانستان میں گذشتہ اٹھارہ سال سے جاری جنگ کے خاتمے اور بحران کے حل کے لیے ان مذاکرات کو کامیاب بنانا چاہتا ہے۔

اس ضمن میں وہ پاکستان کی سفارتی مدد کا طلب گار ہے اور وہ چاہتا ہے کہ پاکستان طالبان کی افغان حکومت کے ساتھ براہ راست بات چیت شروع کرانے کے لیے اپنا اثر ورسوخ استعمال کرے جبکہ طالبان کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات سے انکار کرچکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک کٹھ پتلی حکومت ہے اور اس کے پاس کوئی حقیقی اختیار نہیں ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند