تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مریم نواز کا ایک نجی ٹی وی پر انٹرویو زبردستی رکوا دیا گیا!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 18 ربیع الثانی 1441هـ - 16 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 9 ذیعقدہ 1440هـ - 12 جولائی 2019م KSA 23:04 - GMT 20:04
مریم نواز کا ایک نجی ٹی وی پر انٹرویو زبردستی رکوا دیا گیا!
بشکریہ @nadeemmalik
ایجنسیاں

پاکستان مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز کا ’ہم نیوز‘ چینل پر انٹرویو شروع ہونے کے سوا دو منٹ کے بعد ہی روک دیا گیا۔ وہ ’ہم نیوز‘ کے اینکر پرسن ندیم ملک کو انٹرویو دے رہی تھیں جس میں وہ اپنے والد نواز شریف کی جیل میں صحت اور دیکھ بھال کے بارے میں بات کر رہی تھیں۔

اینکر پرسن ندیم ملک نے ایک ٹویٹ میں کہا، ’’مجھے ابھی ابھی معلوم ہوا ہے کہ یہ انٹرویو شروع ہونے کے چند ہی منٹ بعد زبردستی رکوا دیا گیا۔‘‘

ندیم ملک نے ایک اور ٹویٹ میں تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ جب انہوں نے انٹریو کے دوران بریک لی تو چینل کی انتظامیہ نے انہیں بتایا کہ یہ انٹرویو بند کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ وجوہات سے واقف تو نہیں ہیں، لیکن یقیناً چینل انتظامیہ پر کچھ ایسا دباؤ ہو گا جس کی وجہ سے یہ انٹرویو رکوا دیا گیا۔

مریم نواز، ندیم ملک کو انٹرویو دے رہی ہیں

انہوں نے کہا کہ چینل پر یہ انٹرویو رکوانے کے بعد انہوں نے مکمل انٹرویو یو ٹیوب پر اپنے لائیو چینل اور ٹویٹر پر نشر کر دیا ہے۔ انٹرویو میں مریم نواز نے کہا ہے کہ وہ اپنے والد کی زندگی کیلئے موجودہ حکومت پر بھروسہ نہیں کرتیں اور ان کا خیال ہے کہ حکومت انہیں نقصان پہنچانے کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔

ندیم ملک کے یو ٹیوب چینل پر نشر ہونے والے انٹرویو کو مختلف لوگوں کی طرف سے بار بار ٹویٹ کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ مریم نواز نے خود ایک اور ٹویٹ میں اشارہ دیا کہ وہ نواز شریف کی گرفتاری کے خلاف اقوام متحدہ سے رجوع کر سکتی ہیں۔

مریم نواز نے بدھ کے روز بھی ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ بند ہونے والے چار چینل اس وعدے پر کھول دیے گئے ہیں کہ وہ ان کا انٹرویو نشر نہیں کریں گے۔

پاکستان کے چار چینلز کو گذشتہ ہفتے کے روز مبینہ طور پر مریم نواز کی نیوز کانفرنس براہ راست نشر کرنے پر بند کر دیا گیا تھا۔ تاہم، دو روز بعد ان کی نشریات بحال کر دی گئی تھیں۔

پاکستانی حکومت کا مؤقف ہے کہ مریم نواز جعل سازی کے کیس میں عدالت سے سزا یافتہ ہیں اور کسی بھی سزا یافتہ شخص کو ٹیلی ویژن پر انٹرویو دینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند