تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
کلبھوشن کی بریت کی بھارتی اپیل مسترد، پاکستان کو سزائے موت پر نظر ثانی کی ہدایت
عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن یادیو کیس کا فیصلہ سنا دیا
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 18 ربیع الثانی 1441هـ - 16 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 14 ذیعقدہ 1440هـ - 17 جولائی 2019م KSA 19:51 - GMT 16:51
کلبھوشن کی بریت کی بھارتی اپیل مسترد، پاکستان کو سزائے موت پر نظر ثانی کی ہدایت
عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن یادیو کیس کا فیصلہ سنا دیا
العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں

عالمی عدالت انصاف نے سزا یافتہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی سزائے موت پر نظر ثانی کی ہدایت کرتے ہوئے بھارت کی جانب سے کلبھوشن کو بری کرنے کی اپیل مسترد کر دی ہے۔ عدالت نے پاکستان کو فوجی عدالت کی طرف سے یادیو کو پھانسی کی سزا سنائے جانے کے فیصلے پر موثر انداز میں نظر ثانی کرنے کی ہدایت کی۔

ہیگ میں قائم عالمی عدالت نے پاکستان کو کلبھوشن کو قونصلر رسائی دینے اور اس کی سزا کی پاکستان کی ہی عدالتوں میں نظرثانی کی ہدایت کی ہے۔عدالت کے مطابق پاکستان نے کلبھوشن یادیو کے ساتھ معاملات میں ویانا کنونشن کی مختلف شقوں کا پاس نہیں رکھا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ کلبھوشن یادیو ایک بھارتی شہری ہے، اسے پاکستان اور بھارت نے کلبھوشن یادیو کو انڈین شہری تسلیم کیا تھا۔ پاکستان کا موقف تھا کہ جاسوس اور دہشتگرد کو قونصلر رسائی نہیں دی جا سکتی، اس کیس میں ویانا کنونشن کا اطلاق نہیں ہوتا۔

عالمی عدالت میں کلبھوشن کیس کی آخری سماعت 18 سے 21 فروری تک ہوئی تھی جس میں بھارت اور پاکستان کے وفود نے شرکت کی تھی۔ بھارتی وفد کی سربراہی جوائنٹ سیکرٹری دیپک متل نے کی تھی جب کہ پاکستانی وفد کی سربراہی اٹارنی جنرل انور منصور خان کر رہے تھے۔

عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن جادھو سے متعلق کیس کا فیصلہ 21 فروری کو محفوظ کیا تھا۔ جسے آج 17 جولائی کو سنایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے جاسوس کلبھوشن سدھیر یادیو کو ایک فوجی عدالت نے پاکستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوّث ہونے کے الزامات میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنائی تھی۔اس نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے رحم کی اپیل کی تھی کہ اس کو سنائی گئی سزائے موت معاف کردی جائے ۔

اس نے ایک ویڈیو بیان میں اقرار کیا تھا کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالسیس ونگ ( را) نے اس کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کی مختلف سرگرمیوں کو اسپانسر کیا تھا۔اس نے خاص طور پر بلوچ علاحدگی پسندوں کو تشدد پر اکسایا تھا اور بلوچستان میں ہزارہ شیعہ کمیونٹی پر فرقہ ورانہ بنیاد پر دہشت گردی کے حملوں میں بھی اسی کا ہاتھ کارفرما تھا۔

یادیو کے مطابق را کے ایک اور ایجنٹ انیل کمار نے ہزارہ اور شیعہ شہریوں اور بالخصوص افغانستان ،پاکستان اور ایران کے درمیان سفر کرنے والے شیعہ زائرین پر متشدد حملوں کی پشت پناہی کی تھی۔اس علاقے میں دہشت گردی کی کارروائیوں کا مقصد عدم استحکام پیدا کرنا اور پاکستان کے عوام کے ذہنوں میں خوف پیدا کرنا تھا۔مسٹر یادیو کے بہ قول کراچی میں سپرنٹنڈینٹ پولیس ( ایس پی) چودھری اسلم کے قتل میں بھی را ملوث تھی۔

اس نے بتایا تھا کہ بلوچستان میں پاک فوج کے ایک ذیلی ادارے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن ( ایف ڈبلیو او) کے ورکروں پر حملوں ،کوئٹہ ،تربت اور بلوچستان کے مختلف شہروں میں بلوچ قوم پرستوں کے بارودی سرنگوں یا دھماکا خیز مواد کے ذریعے حملوں میں براہ راست را کا ہاتھ کارفرما تھا۔

فریقین کی جانب سے فتح کے دعوے

پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کی جانب سے یکساں جیت کے دعوے کئے جارہے ہیں اور عالمی عدالت انصاف کی اس کارروائی کو اپنے موقف کی فتح قرار دے رہے ہیں۔ جیت کے دعوے کرنے والوں میں ٹویٹر پر بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی ، وزیر خارجہ ششما سوراج شامل ہیں جب کہ پاکستان کی جانب سے حکومت پاکستان کے سرکاری ٹویٹر اکائونٹ اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ذاتی اکائونٹ سے اس کارروائی میں فتح حاصل کرنے کے دعوے کے کئے گئے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند