تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
’’اداروں سے لڑائی نہیں بلکہ جمہوری اقدار کے استحکام کی جدوجہد کر رہی ہوں‘‘
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 15 ذوالحجہ 1440هـ - 17 اگست 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 15 ذیعقدہ 1440هـ - 18 جولائی 2019م KSA 22:20 - GMT 19:20
’’اداروں سے لڑائی نہیں بلکہ جمہوری اقدار کے استحکام کی جدوجہد کر رہی ہوں‘‘
مریم نواز، وائس آف امریکا کی نمائندہ ارم عباسی کو انٹرویو دے رہی ہیں: سکرین گریب فوٹو یو ٹیوب
ایجنسیاں

سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی صاحبزادی اور مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ انتقامی کارروائی سے بچنے کے لیے اُن کے پاس کسی کے جوتے صاف کرنے سمیت کئی آسان راستے ہیں۔ لیکن وہ ایسا نہیں کریں گی۔

امریکی نشریاتی ادارے کو خصوصی انٹرویو میں مریم نواز نے اپنی سیاسی جدوجہد، مستقبل کی حکمتِ عملی اور پاکستان کی سیاست میں غیر سیاسی قوتوں کے مبینہ کردار پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان سے یہ انٹرویو وائس آف امریکا کی نمائندہ ارم عباسی نے کیا۔

مریم نواز نے کہا کہ اپنے والد کے لیے تو لڑوں گی۔ مگر میں ہر پاکستانی کی جنگ بھی لڑ رہی ہوں۔ یہ لڑائی قانون کی بالادستی، ووٹ کو عزت دلانے اور میڈیا پر عائد پابندیوں کے خلاف بھی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ "اگر میری ذاتی خواہشات ہوتیں، تو میں جدوجہد کا راستہ اختیار نہ کرتی۔ آسان راستہ مجھے بھی آتا ہے۔ اس میں آپ کو بس ہاتھ جوڑنے پڑتے ہیں۔ اس میں آپ کو جوتے صاف کرنے پڑتے ہیں۔"

مریم نواز کا کہنا تھا کہ میرا مقصد اداروں کے ساتھ لڑائی نہیں بلکہ ملک میں قانون کی بالادستی، اور جمہوری اقدار کو مستحکم کرنا ہے۔ آئین میں ہر ادارے کا کردار واضح ہے اور صرف عوام اور ان کے نمائندوں کی رائے مقدم ہے۔ اگر اس توازن کو زبردستی دبانے کی کوشش کی جائے گی تو صرف عدم توازن نہیں ہوگا بلکہ تباہی آئے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں گزشتہ 70 برسوں سے جمہوریت کبھی بالواسطہ اور کبھی بلا واسطہ طور پر منقطع ہوتی رہی ہے اور جمہوری روایات کو ملک میں کبھی پنپنے نہیں دیا گیا جس کی وجہ سے سیاسی انتشار پیدا ہوتا ہے۔ دنیا کے کسی بھی ملک کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں جہاں سیاسی عدم استحکام رہا اس ملک نے کبھی ترقی نہیں کی۔

ایک سوال پر مریم نواز نے کہا کہ وہ 2019 میں آمریت نہیں دیکھ رہیں۔ لیکن، بقول ان کے، ’’عمران خان دو ٹکے کے اقتدار کے لیے ہر جمہوری اقدار کو روندنے کو تیار ہیں اور وہ سمجھتی ہیں اس سے بڑا گناہ کوئی نہیں‘‘۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے لیے 'سلیکٹڈ' لفظ کے استعمال سے متعلق سوال پر مریم نواز نے کہا کہ ’’یہ لفظ انہیں کیوں بُرا لگتا ہے اور پارلیمنٹ میں اس پر پابندی کیوں لگائی گئی، اگر آپ سلیکٹڈ نہیں ہیں تو آپ کو اس لفظ سے کیا تکلیف ہے‘‘۔

مریم نواز نے کہا کہ ’’عمران خان کو جس طرح سلیکٹ کیا گیا اس کے تین مراحل ہیں۔ پہلے مرحلے میں الیکشن سے قبل اُن کے مخالفین کی پکڑ دھکڑ کی گئی، دوسرے مرحلے میں الیکشن کے روز نتائج کی تبدیلی اور تیسرے مرحلے میں پوسٹ ریگنگ کی گئی جو آج بھی مخالفین کو ہراساں کرنے کی صورت میں جاری ہے‘‘۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ انتخابات سے قبل چُن چُن کر مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں سے رابطے کیے گئے اور انتخابات کے روز جب تک مطلوبہ نمبر حاصل نہیں کیے گئے اُس وقت تک انتخابی نتائج روکے گئے۔ اس کے باوجود، حکومت 4 ووٹوں پر کھڑی ہے۔ حکومت کے ہاتھ سے اداروں کی بیساکھی ہٹائیں تو یہ منہ کے بل گرے گی۔

مریم نواز نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ "انہوں نے مجھے جیل میں ڈالا جہاں تین مہینے کی بے گناہی میں جیل کاٹی۔ وہاں کپڑے بھی دھوئے، چوہوں والا کھانا بھی کھایا۔ یہ بہت اچھا ہوا کہ جیل میں میری ٹریننگ ہوئی جس سے مزید مضبوط ہو گئی ہوں۔"

سیاسی حکمت عملی سے متعلق مریم نواز نے کہا کہ جس راستے کا انتخاب انہوں نے کیا اس کی بہت بڑی قیمت چکائی ہے۔ اُن کے خلاف ڈان لیکس بنا، اس میں کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ پاناما لیکس بنا جس میں جیل بھی کاٹی اور اس دوران والدہ کا بھی انتقال ہوا۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے کہا کہ ’’اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایک جج نے جب یہ کہہ دیا کہ نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت نہ دینے کے لیے ان پر دباؤ ہے اور وہ جج آج انصاف کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں‘‘۔

مریم نواز نے کہا کہ ’’احتساب کا پورا فساد بنا کر جو وزرائے اعظم کے ساتھ کیا جاتا ہے یہ صرف نواز شریف کے ساتھ نہیں ہوا، بے نظیر اور ذوالفقار علی بھٹو بھی اس کی زد میں آئے۔ ان کی جنگ صرف نواز شریف تک محدود نہیں ہے‘‘۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) ’’مردوں کی جماعت رہی ہے اور ایک خاتون کا لیڈر کے طور پر سامنے آنا آسان نہیں تھا‘‘۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند