تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مودی نے مجھ سے کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کے لیے کہا: صدر ٹرمپ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 19 ذیعقدہ 1440هـ - 22 جولائی 2019م KSA 21:57 - GMT 18:57
مودی نے مجھ سے کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کے لیے کہا: صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور عمران خان
ایجنسیاں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت میں ثالثی کی پیشکش کردی۔ امریکی صدر ٹرمپ وزیر اعظم عمران خان سے ون آن ملاقات سے قبل میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ وزیر اعظم عمران خان اپنے پہلے دورے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے وائٹ ہاوس پہنچے جہاں باقاعدہ ملاقات میں امریکی صدر نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیش کش کی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاوس میں وزیر اعظم عمران خان کا استقبال کیا۔ ملاقات کے آغاز میں میڈیا کی موجودگی میں مختصر گفتگو کے دوران امریکی صدر نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کو انتہائی خوشگوار دیکھ رہا ہوں۔ امید ہے ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید بہتری آئے گی۔

اوول آفس میں ٹرمپ نے وزیراعظم سے گفتگو کے دوران بھارت کے ساتھ کشیدہ تعلقات میں بہتری کے لیے کردار ادا کرنے کی بھی پیش کش کی۔امریکی صدر نے پاکستان اور بھارت کے درمیان درینہ مسئلہ کشمیر پر بھی ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیش کش کی۔ امریکی صدر نے کہا کہ 'بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی کہا تھا کہ امریکا مسئلہ کشمیر کے حل میں معاونت کرے، مجھے ثالث بننے میں خوشی ہوگی'۔

انہوں نے عمران خان سے کہا کہ اگر مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے میں کوئی مدد کر سکتا ہوں تو مجھے آگاہ کریں۔ مسئلہ کشمیر میں اگر میں کوئی تعاون کر سکتا ہوں تو میں ثالثی کا کردار ادا کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لوگ بہت اچھے ہیں۔ پاکستان میں میرے کافی دوست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان سے واپسی کے لیے امریکا، پاکستان کے ساتھ کام کر رہا ہے اور امریکا خطے میں پولیس مین بننا نہیں چاہتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت افغانستان میں ہماری بڑی مدد کر رہا ہے اور آنے والے دنوں میں افغانستان اور بھارت سے بھی بات چیت کریں گے۔

تاحال بھارت کی جانب سے مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیے وزیر اعظم مودی کی جانب سے صدر ٹرمپ کو دخواست کے بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ ادھر، بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق، صدر ٹرمپ کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش ’’اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ اس حوالے سے امریکا کی پالیسی تبدیل ہو رہی ہے‘‘۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان سے متعلق پاکستان کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ماضی میں امریکا کا احترام نہیں کرتا تھا لیکن اب ہماری کافی مدد کر رہا ہے۔ افغانستان میں اپنی فوج کی تعداد کم کر رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا پاکستان کے ساتھ مل کر افغان جنگ سے باہر نکلنے کی راہ تلاش کر رہا ہے۔

عمران خان سے ملاقات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے بھی گفتگو کی اور کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات شروع کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے،۔وزیراعظم عمران خان نے ٹرمپ سے کہا کہ افغانستان کا واحد حل طالبان کے ساتھ امن معاہدہ ہے اور مجھے امید ہے کہ آنے والے دنوں میں ہم طالبان کو مذاکرات کے لیے تیار کر پائیں گے۔

دونوں سربراہان کے درمیان یہ ملاقات پاکستان اور امریکا کے تعلقات کی تجدید کے حوالے سے کوششوں کا حصہ ہے۔ وائٹ ہاوس پہنچنے پر وزیراعظم عمران خان کا استقبال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا۔ دونوں سربراہان مملکت کے درمیان گرمجوش مصافحہ اور خیر مقدمی جملوں کا تبادلہ ہوا۔

وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے بعد وزیراعظم عمران خان کی صدر ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کے ساتھ تصویر

وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی وائٹ ہاوس پہنچے۔ عمران خان کو ٹرمپ اوول آفس لے گئے جہاں عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ون آن ون ملاقات شروع ہو گئی۔ ون آن ون ملاقات کے بعد دونوں سربراہان میں وفود کی سطح پر بھی بات چیت ہو گی جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی و دیگر موجود ہوں گے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند