تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
افغان مسئلے کا حل، پاکستان حکومت، فوج اور امریکا ایک پیج پر ہیں: عمران خان
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 15 ذوالحجہ 1440هـ - 17 اگست 2019م
آخری اشاعت: بدھ 21 ذیعقدہ 1440هـ - 24 جولائی 2019م KSA 08:30 - GMT 05:30
افغان مسئلے کا حل، پاکستان حکومت، فوج اور امریکا ایک پیج پر ہیں: عمران خان
عمران خان امریکی تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف پیس سے خطاب کر رہے ہیں
ایجنسیاں

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات کے بعد اب وہ پاکستان واپس جا کر طالبان کی قیادت سے ملاقات کریں گے اور ان پر زور دیں گے کہ وہ افغانستان میں قیام امن کے لیے افغان حکومت سے براہ راست بات چیت شروع کریں۔

انہوں نے کہا کہ وہ شروع سے یہ کہتے آئے ہیں کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور اس کے لیے واحد راستہ پر امن بات چیت ہی ہے۔ اور اب جب کہ صدر ٹرمپ نے بھی یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ افغانستان کی جنگ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان امن معاہدہ کر کے ختم کی جائے، یہ مقصد حاصل کرنا ممکن ہو گیا ہے اور پاکستان اس میں مکمل مدد فراہم کرے گا۔

عمران خان واشنگٹن میں یونائیٹڈ انسٹی ٹیوٹ آف پیس نامی تھنک ٹینک سے خطاب کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اقتصادی ترقی کے لیے افغانستان میں امن واستحکام انتہائی ضروری ہے۔ لہذا افغانستان کا امن پورے خطے کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان اور امریکا، افغانستان میں امن کے قیام کے لیے سب سے زیادہ سنجیدہ ہیں اور اس سلسلے ان کے اور امریکی صدر ٹرمپ کے خیالات میں ہم آہنگی ہے۔

عمران خان نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو امداد کی ضرورت نہیں کیونکہ ماضی میں پاکستان امداد پر انحصار کرتا رہا ہے جو شرمناک ہے۔ اب پاکستان، امریکا سے ایسے تعلقات چاہتا ہے جو برابری، دوستی اور باہمی اعتماد پر مبنی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں امریکا اور پاکستان کے درمیان بداعتمادی کی کیفیت رہی ہے اور باوجود اس کے کہ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان نے بہت نقصان اٹھایا، امریکا سمجھتا رہا ہے کہ پاکستان نے اس سلسلے میں کافی کوششیں نہیں کی ہیں اور وہ امریکا کے ساتھ ڈبل گیم کر رہا ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ سے ملاقات کے بعد اب پاکستان اور امریکا ایک صفحے پر ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں تین بار مارشل لا لگا۔ تیسرا مارشل لا جنرل مشرف کا تھا۔ جب ملک میں خراب جمہوریت ہو تو فوجی حکومت اس کا علاج نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی بڑی بیماری کا علاج درد کم کرنے والی گولیوں سے کیا جائے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جمہوریت طویل عرصے تک جاری رہنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے سوشل میڈیا اہم کردار ادا کر رہا ہے اور سوشل میڈیا نے دنیا بھر میں جمہوریت کو فروغ دیا ہے۔

میڈیا آزاد ہے؟

عمران خان نے پاکستان میں میڈیا پر عائد کی جانے والی پابندیوں کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں میڈیا انتہائی آزاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب میڈیا کو ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا تو اس نے ان کی ذات پر حملے شروع کر دیے جو غیر مناسب بات ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں میڈیا کے بعض ادارے منفی صحافت کو فروغ دے رہے تھے۔

پشتون تحفظ تحریک ’’پی ٹی ایم‘‘

پی ٹی ایم کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے خود 2004 میں قومی اسمبلی میں کہا تھا کہ قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن نہیں کیا جانا چاہئیے۔ اس آپریشن کے دوران قبائیلیوں نے بہت زیادہ نقصان اٹھایا ہے۔ کچھ عرصہ قبل پشتون نوجوانوں کی طرف سے تحریک کا آغاز ہوا اور وہ جو کہہ رہے تھے وہ بالکل درست تھا۔ فوجی آپریشن کے خلاف غم و غصے کی حالت میں اس تحریک نے جنم لیا۔

عمران خان نے کہا کہ ان کی حکومت نے قبائلی علاقوں میں ترقی کے لیے بہت بڑے پیمانے پر منصوبے شروع کیے۔ تاہم جب پی ٹی ایم نے فوج پر حملے شروع کیے تو اس سے حالات خراب ہوئے ہیں۔

حافظ محمد سعید گرفتاری

حافظ سعید سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کے مفاد میں ہے کہ ہم وہاں کسی بھی قسم کی مسلح ملیشیا کی اجازت نہ دیں۔ لہذا حکومت نے ایسی تنظیموں کو غیر مسلح کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس مقصد کے لیے فوج نے انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے اور وہ ان مسلح تنظیموں کو غیر مسلح کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ اب پہلی بار نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درامد ہو رہا ہے کیونکہ پہلے کی حکومتوں میں ایسا کرنے کی خواہش نہیں تھی۔
 

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند