تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پاکستان، بھارت کی اینٹ کا جواب پتھر سے دے گا: وزیراعظم عمران خان
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 16 ربیع الاول 1441هـ - 14 نومبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 12 ذوالحجہ 1440هـ - 14 اگست 2019م KSA 22:43 - GMT 19:43
پاکستان، بھارت کی اینٹ کا جواب پتھر سے دے گا: وزیراعظم عمران خان
وزیر اعظم عمران خان آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی سے خطاب کر رہے ہیں: فوٹو بشکریہ پی آئی ڈی
ایجنسیاں

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پلوامہ حملوں کے بعد کی طرح کارروائی کرنا چاہتا ہے. تاہم وہ نریندر مودی کو تنبیہ کرتے ہیں کہ پاکستان اینٹ کا جواب پتھر سے دے گا۔ بھارت نے ہمارے خلاف کسی جارحیت کا ارتکاب کیا تو پاکستان پوری طاقت سے اس کا جواب دے گا۔

انہوں نے یہ بات بدھ کے روز پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے صدر مقام مظفرآباد میں پاکستان کے 73 ویں یوم آزادی کے سلسلے میں آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ ہماری دلیر مسلح افواج اورپوری قوم وطن کے دفاع کیلئے تیار ہے اور پاکستان کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے کسی بھی حد تک جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ شروع ہو گئی تو اس کی ذمہ دار عالمی برادری ہو گی جو مقبوضہ کشمیر کی سنگین اور تشویشناک صورتحال دیکھتے ہوئے بھی خاموش تماشائی بنی رہی عمران خان نے کہا کہ ایسی اطلاعات ہیں کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کے مظالم سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کیلئے آزاد جموں وکشمیر میں کوئی ڈرامہ رچا سکتا ہے لیکن اسے ہماری دفاعی صلاحیت کے حوالے سے کسی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہئے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم صورتحال کی سنگینی سے دنیا کو آگاہ کرنے کیلئے تمام عالمی فورمز استعمال کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کشمیر کا معاملہ بھرپور انداز میں اٹھاؤں گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ میں نے دنیا بھر میں کشمیر کی آواز بلند کرنے کی ذمہ داری لی ہے اور میں بھارت میں آر ایس ایس کے نظریے کا مکروہ چہرہ بے نقاب کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے بیانات اور ٹوئٹس میں دنیا کے سامنے بی جے پی اور اس کے رہنما مودی کا حقیقی چہرہ بے نقاب کیا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ہمیں آر ایس ایس کے خطرناک نظریات کا سامنا ہے جو ہٹلر کی نازی پارٹی سے متاثر ہے۔ آر ایس ایس کے پیروکار خود کو بھارت میں دوسری اقوام سے برتر سمجھتے ہیں۔ آر ایس ایس نظریہ بنیادی طور پر مسلمانوں اور مسیحیوں سے نفرت پر مبنی ہے کیونکہ انہوں نے بھارت پر حکمرانی کی ہے۔ ان کے ایجنڈے میں مسلمانوں کی نسل کشی بھی شامل ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے ابتدائی طور پر ہندوؤں کے ساتھ مل کر جدوجہد آزادی کا آغاز کیا تھا لیکن بعد میں جب انہیں اس بات کا احساس ہوا کہ ہندو اکثریت بھارت کی آزادی کے بعد مسلمانوں کو محکوم بنانا چاہتی ہے تو انہوں نے اپنی راہیں جدا کر لیں۔

انہوں نے کہا کہ انتہا پسند ذہنیت اور ہندوؤں کے نظریات مہاتما گاندھی کے قتل کا سبب بنے۔ یہ نظریہ گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کے مکروہ چہرے کی صورت میں بھی سامنے آیا۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی فاش سٹریٹجک غلطی ہے اور اسے اس کی بھاری قیمت چکانا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو معلوم نہیں کہ اس اقدام کی وجہ سے مسئلہ کشمیر عالمی حیثیت اختیار کر گیا ہے اور پوری دنیا اس مسئلے پر تشویش میں مبتلا ہے۔

وزیراعظم نے خبردار کیا کہ آبادی پر وحشیانہ اور ظالمانہ ہتھکنڈوں سے اس کا ردعمل سامنے آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھارت کے جو لوگ دو قومی نظریے کے حامی نہیں تھے انہیں بھی احساس ہو گیا ہے کہ وہ غلطی پر تھے۔

اُدھر وزیراعظم عمران خان نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ ہندو انتہا پسند تنظیم راشٹریہ سوائم سیوک سنگ کا نظریہ سب کے لئے خطرناک ہے۔انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کا نظریہ نہ صرف کشمیریوں بلکہ بھارتی مسلمانوں ،مسیحی برادری اور دلتوں کیلئے بھی خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کا نظریہ خود بھارت کے اپنے خلاف بھی ہے جس کا تصور اس کے بانی رہنماؤں نے دیا تھا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند