تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایک ماہ کی وزارت میں قطر سے رشوت لینے والے پاکستانی وزیر سے تحقیقات
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 17 ذوالحجہ 1440هـ - 19 اگست 2019م KSA 03:19 - GMT 00:19
ایک ماہ کی وزارت میں قطر سے رشوت لینے والے پاکستانی وزیر سے تحقیقات
پاکستان کے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں

پاکستان کے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو انسداد بدعنوانی کے نگراں ادارے احتساب بیورو (نیب) نے قطر کے ساتھ اربوں ڈالر مالیت کی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی درآمد کیلئے معاہدے کی تفتیش کے بعد سے زیر حراست ہیں۔

بدعنوانی سے متعلق تحقیقاتی رپورٹس نشر کرنے والے بین الاقوامی میگزین ’’اینٹی کرپشن ڈائجسٹ‘‘ کے مطابق مفتاح اسماعیل 2017 میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے مشیر تھے بعد ازاں انہیں ایک ماہ کے لئے وفاقی وزیر خزانہ مقرر کیا گیا۔ انہیں شاہد خاقان عباسی کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے۔ اپوزیشن مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے قطر کے ساتھ 16 بلین ڈالر کے معاہدے کو حتمی شکل دی تھی۔اس وقت وہ وفاقی وزیر پٹرولیم تھے۔ قطر کے ساتھ 2015 میں 15 سال کی مدت کے لئے معاہدے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی پہلے ہی ایل این جی کیس کے سلسلے میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے پاس زیر حراست ہیں۔ انسداد بدعنوانی کے ادارے (نیب) کا دعوی ہے کہ اس معاہدے سے پاکستان کے خزانے کو 2 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔

مفتاح اسماعیل کے وکیل حیدر وحید نے معاصر عزیز اخبار عرب نیوز کو بتایا ’میرا موکل بے قصور ہے کیونکہ ان کے خلاف ایل این جی معاہدے میں بدعنوانی یا غبن کا کوئی ثبوت نہیں ‘۔ انہوں نے نیب پر ’سیاسی انتقام‘ کا الزام عائد کیا اور کہا ’مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں عہدہ سنبھالنے سے قبل ایل این جی ڈیل کو حتمی شکل دے دی گئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا اب یہ ایک طویل قانونی جنگ ہے۔ ہم نیب کی طرف سے اختیارات کے غلط استعمال کو چیلنج کرتے رہیں گے۔‘

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند