تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پاکستان عالمی عدالتِ انصاف میں مسئلہ کشمیر اٹھائے گا!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 18 ذوالحجہ 1440هـ - 20 اگست 2019م KSA 17:58 - GMT 14:58
پاکستان عالمی عدالتِ انصاف میں مسئلہ کشمیر اٹھائے گا!
اسلام آباد ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

حکومتِ پاکستان نے بھارت کے ساتھ دیرینہ تصفیہ طب تنازع کشمیر کو ہیگ میں قائم عالمی عدالتِ انصاف میں اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے منگل کے روز ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہم نے کشمیر کا کیس عالمی عدالتِ انصاف میں لے جانے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ فیصلہ تمام قانونی پہلووں پر غور کے بعد کیا گیا ہے۔‘‘

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بھی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس اعلان کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ وفاقی کابینہ نے اپنے اجلاس میں تنازع کشمیر کو عالمی عدالت انصاف میں اٹھانے کے فیصلے کی اصولی طور پر منظوری دے دی ہے۔

انھوں نے کہا کہ عالمی عدالت میں متنازعہ ریاست کشمیر کا کیس پیش کرتے وقت مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور نسل کشی پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

واضح رہے کہ بھارت کی مرکزی حکومت نے پانچ اگست کو متنازع ریاست مقبوضہ جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی آئینی حیثیت ختم کردی تھی اور ایک صدارتی آرڈی ننس کا نفاذ کیا تھا جس کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو آئین میں حاصل خصوصی خود مختاری ختم کردی گئی تھی۔ اہل کشمیر تب سے اس فیصلے کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

بھارتی حکومت کے اس نئے اقدام کے تحت ریاست کشمیر کے غیر رہائشی افراد بھی وہاں جائیدادیں خرید کر سکتے ہیں۔ پاکستان اور حریت پسند کشمیری رہ نماؤں کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے ذریعے مسلم اکثریتی ریاست میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے اور اس پر بھارتی قبضے کو مضبوط بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں گذشتہ دو ہفتے سے انٹرنیٹ اور سیل فون کی سروس بند ہے۔ البتہ لینڈ لائن ٹیلی فون کو گرمائی دارالحکومت سری نگر کے بعض حصوں میں بحال کردیا گیا ہے۔ بھارتی سکیورٹی فورسز نے احتجاج کرنے والے سیکڑوں سیاسی اور کمیونٹی لیڈروں کو گرفتار کر لیا ہے۔

ان میں سے بیشتر ابھی تک زیر حراست ہیں اور بعض کو ریاست سے باہر بھارت کے دوسرے شہروں میں جیلوں میں منتقل کر دیا گیا ہے کیونکہ ریاست کی جیلیں گرفتار کیے گئے کشمیری مظاہرین سے بھر چکی ہیں۔ سری نگر میں حکام نے گذشتہ اتوار کو شہریوں کی نقل وحرکت پر دوبارہ پابندی عاید کردی تھی۔انھوں نے یہ اقدام ہفتے کی شب شہر کے مکینوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد کیا تھا۔ان میں کم سے کم تیس افراد زخمی ہوگئے تھے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند