تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
بلوچستان :چمن میں بم دھماکا، جے یو آئی کے مرکزی رہ نما سمیت تین افراد جاں بحق
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 19 ربیع الاول 1441هـ - 17 نومبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 28 محرم 1441هـ - 28 ستمبر 2019م KSA 20:41 - GMT 17:41
بلوچستان :چمن میں بم دھماکا، جے یو آئی کے مرکزی رہ نما سمیت تین افراد جاں بحق
اسلام آباد ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

پاکستان کے رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبہ بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ میں بم دھماکے میں مذہبی سیاسی جماعت جمعیت علماء اسلام (فضل الرحمان) کے ایک مرکزی رہ نما سمیت تین افراد جاں بحق اور دس سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق بم دھماکا قلعہ عبداللہ کی تحصیل چمن میں واقع تاج روڈ پر ہوا ہے۔بم ایک موٹر سائیکل کے ساتھ نصب تھا اور اس کوسڑک کے کنارے کھڑا کیا گیا تھا۔

چمن کے اسسٹنٹ کمشنر یاسر دشتی نے بتایا ہے کہ بم دھماکے میں جے یو آئی۔ف کے مرکزی رہ نما مولانا محمد حنیف شدید زخمی ہوگئے تھے۔انھیں ان کی تشویش ناک حال کے پیش نظر صوبائی دارالحکومت کوئٹہ منتقل کیا جارہا تھا لیکن وہ اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی اپنے زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس بم حملے کا ہدف مولانا محمد حنیف ہی تھے۔

دہشت گردی کے اس واقعے میں ان کے علاوہ ایک بارہ سالہ بچہ اور ایک شخص جاں بحق ہوا ہے۔ بم دھماکے سے نزدیک واقع عمارتوں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔زخمیوں کو چمن کے سول اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے، جہاں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

جے یو آئی - ف کے رہنما محمد حنیف

چمن پاکستان کی افغانستان کے ساتھ واقع سرحد سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔اس کے ساتھ افغانستان کا شورش زدہ جنوبی صوبہ قندھار واقع ہے اور اس حساس علاقہ قرار دیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ جے یو آئی۔ایف کے مرکزی قائدین کو ماضی میں بھی صوبہ بلوچستان میں دہشت گردی کے حملوں میں نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ مئی 2017ء میں جے یو آئی ۔ایف کے لیڈر اور سینیٹ کے سابق ڈپٹی چئیرمین مولانا عبدالغفور حیدری کے قافلے پر مستونگ میں خودکش بم حملہ کیا گیا تھا جس سے وہ زخمی ہوگئے تھے۔ اس بم دھماکے میں اٹھائیس افراد جاں بحق اور انتالیس زخمی ہوگئے تھے۔ 2014ء میں جماعت کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے قافلے پر کوئٹہ میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کے بعد خودکش بم حملہ کیا گیا تھا۔ تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے تھے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند