تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
کرتارپور راہداری کا افتتاح،بھارت سے اب سکھوں کی آزادانہ گوردوارہ دربار صاحب آمد ہوگی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 19 ربیع الاول 1441هـ - 17 نومبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 11 ربیع الاول 1441هـ - 9 نومبر 2019م KSA 16:15 - GMT 13:15
کرتارپور راہداری کا افتتاح،بھارت سے اب سکھوں کی آزادانہ گوردوارہ دربار صاحب آمد ہوگی
وزیراعظم عمران خان کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کررہے ہیں۔
اسلام آباد۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے ہفتے کے روز کرتارپور راہداری کا افتتاح کردیا ہے۔اس کے ذریعے بھارتی سکھ یاتری پاکستان کے ضلع نارووال میں واقع اپنے مقدس مذہبی مقام گوردوارہ دربار صاحب کی زیارت کے لیے آزادانہ آ جا سکیں گے۔

اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’’میں سکھ برادری کو بابا گورو نانک کے پانچ سو پچاسویں جنم دن کے موقع پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔‘‘انھوں نے کرتار پور راہداری کی ریکارڈ دس ماہ کی مدت میں تکمیل پر پاکستان کے حکام کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’اس دنیا میں اللہ کے جتنے بھی پیغامبر آئے ، وہ صرف دو پیغامات لے کر آئے تھے اور وہ تھے امن اور انصاف ۔یہی دونوں چیزیں ہمیں جانوروں سے افضل بناتی ہیں۔بابا گرونانک کی تعلیمات بھی یہ ہیں کہ انسانوں کو اکٹھا کیا جائے اور ان میں نفرت نہ پھیلائی جائے۔‘‘

عمران خان نے سیکڑوں سکھ یاتریوں سے خطاب میں کہا ’’مجھے یہ خوشی ہے کہ ہم آپ کے لیے یہ (راہداری کھولنے کا) کام کرسکے ہیں۔‘‘انھوں نے اعتراف کیا کہ ’’مجھے ایک سال پہلے تک اس جگہ کی سکھ مذہب کے پیروکاروں کے لیے اہمیت کا اندازہ نہیں تھا۔‘‘

سابق بھارتی کرکٹر اور اب سیاست دان نوجوت سنگھ سدھو نے قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کرتار پور راہداری کی تعمیر کے دلیرانہ اقدام پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انھوں نے نفع ونقصان کو خاطر میں لائے بغیر یہ کام کیا ہے اور ہمارے دل جیت لیے ہیں۔

وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ کرتار پور راہداری کا کھلنا تقسیم ہند کے بعد امن اور محبت کا سب سے بڑا پیغام ہے۔

تقریب میں سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ ،بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ امریندر سنگھ ، بھارتی اداکار اور سیاست دان سنی دیول اور سکھ مذہب کے بعض قائدین بھی شریک تھے۔من موہن سنگھ کی قیادت میں سکھ یاتریوں کا پہلا وفد آج صبح افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے بھارت سے کرتار پور پہنچا تھا۔انھوں نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ’’کرتار پور راہداری کے افتتاح سے بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں بہتری آئے گی۔‘‘

کرتار پور میں واقع گوردوارہ دربار صاحب میں بابا گورونانک کی پانچ سو پچاسویں سالگرہ کی تقریبات بارہ نومبر کو منائی جارہی ہیں اور ان میں دنیا بھر سے آٹھ سے دس ہزار سکھ یاتریوں کی آمد متوقع ہے۔

اس راہداری سے سکھ یاتریوں کی ویزا فری آمد ورفت کے لیے پاکستان اور بھارت نے چند روز قبل ہی ایک سمجھوتے پر دست خط کیے تھے۔یہ راہداری ہفتے میں سات دن صبح سے شام تک کھلی رہے گی۔ بھارت سے صبح سکھ یاتری کرتارپور میں دربار صاحب پر آئیں گے اوروہ شام کو واپس چلے جائیں گے۔

بھارت ان سکھ یاتریوں کی آمد سے دس روز قبل پاکستان کو فہرست فراہم کرے گا۔پاکستان کے امیگریشن حکام ان کے پاسپورٹ چیک کریں گے اور ان پر مہر نہیں لگائیں گے بلکہ انھیں صرف سکین کریں گے۔وزیراعظم عمران خان نے باباگورو نانک کے جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے لیے آنے والے سکھ یاتریوں کو اس شرط سے مستثنا قرار دے دیا ہے۔

اس سمجھوتے کو حتمی شکل دینے کے لیے دونوں ملکوں کے حکام کے درمیان مذاکرات کے تین ادوار ہوئے تھے۔ان میں سکھ یاتریوں سے بیس ڈالرخدمات کی مد میں فیس کی وصولی پر اختلاف رہا ہے۔پاکستان ہر آنے والے یاتری سے یہ فیس وصول کرے گا لیکن وزیراعظم عمران خان کے اعلان کے مطابق افتتاحی تقریب اور جنم دن کی تقریب کے لیے آنے والے سکھ یاتریوں سے یہ فیس وصول نہیں کی جائے گی۔

راہداری کھلنے کے بعد اب بھارتی سکھ یاتری اپنےمذہب کے بانی بابا گورونانک کی آخری آرام گاہ گوردوارے پر براہ راست جا سکیں گے۔گوردوارہ دربار صاحب بھارتی سرحد سے صرف چار کلومیٹر دور پاکستان کے ضلع نارووال کی تحصیل شکر گڑھ میں واقع ہے۔یہ سکھ مذہب کے پیروکاروں کا ایک مقدس مقام ہے۔ یہیں بابا گورونانک نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے تھے۔ تقسیم کے وقت یہ علاقہ پاکستان کے حصے میں آیا تھا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند