تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایم کیو ایم پاکستان کے وفاقی وزیر کابینہ سے الگ ہو گئے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 27 جمادی الثانی 1441هـ - 22 فروری 2020م
آخری اشاعت: پیر 17 جمادی الاول 1441هـ - 13 جنوری 2020م KSA 10:11 - GMT 07:11
ایم کیو ایم پاکستان کے وفاقی وزیر کابینہ سے الگ ہو گئے
ایجنسیاں

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی حکومت میں اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے وفاقی کابینہ سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔

خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ کراچی کے مسائل حل نہ ہونے کے باعث ان کا کابینہ میں رہنا بے سود ہے۔ تاہم متحدہ قومی موومنٹ وفاق میں تحریک انصاف کا ساتھ بدستور دیتی رہے گی۔

کراچی میں دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی حکومت سے متحدہ قومی موومنٹ کو یہ توقع تھی کہ وہ ملک کے سب سے بڑے شہر اور معاشی مرکز کراچی کے مسائل حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گی تاہم ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود بھی ان کی توقعات پوری نہیں ہوئیں۔

ڈاکٹر خالد مقبول کا کہنا تھا کہ ’’ایسا لگتا ہے کہ اب ان کا کابینہ میں بیٹھے رہنا بے سود ہے۔‘‘ ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ان کے پاس وزارت ہونے سے بہت سے سوالات جنم لیں گے اس لیے انہوں نے وزارت سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومت سے اتحاد کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے واضح کیا کہ ان کی جماعت نے حکومت کے سامنے عوامی مسائل کے نکات رکھے لیکن اس عرصے کے دوران جو بھی پیش رفت ہوئی وہ کاغذ تک ہی محدود رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ کراچی کے مسائل کے حل کے لیے حکومت سے مطالبات کرتے آئے ہیں لیکن کراچی کو ایک ارب روپے دینے میں بھی انتہائی کٹھن مراحل سے گزرنا پڑ رہا ہے۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ ڈیڑھ سال کا عرصہ کم نہیں ہوتا پہلے ہم سمجھتے آئے تھے تحریک انصاف کو تجربے کی کمی کا سامنا ہے لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ سنجیدگی کی بھی کمی ہے اور ایسے میں وفاقی کابینہ میں میرا موجود رہنا مناسب نہیں۔ ایم کیو ایم کے رہنما کا کہنا تھا کہ سندھ کے شہری علاقوں سے بدستور نا انصافی کی جا رہی ہے۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اپنی وزارت چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے واضح نہیں کیا کہ ان کی جماعت کے دوسرے وزیر بیرسٹر فروغ نسیم بھی کابینہ سے مستعفی ہوں گے یا نہیں۔

ایم کیو ایم کے رہنما کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے ساتھ اتحادی حکومت میں شامل ہونے اور وفاقی کابینہ کا حصہ بننے کے موقع پر بیرسٹر فروغ نسیم کا نام ان کی جماعت نے دیا ہی نہیں تھا۔ اسی لیے ایم کیو ایم یہ مطالبہ کرتی آئی ہے کہ انہیں وفاقی کابینہ میں مزید نمائندگی دی جائے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے متحدہ قومی موومنٹ کو یہ پیشکش کی تھی کہ وہ عمران خان کی حکومت کو گھر بھیجنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ وفاقی حکومت سے تعاون ختم کرے تو انہیں سندھ کابینہ میں وزارتیں دی جا سکتی ہیں۔

دوسری جانب ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے واضح کیا کہ اس پیشکش کا ان کے استعفے کے اعلان سے کوئی تعلق نہیں۔ ایم کیو ایم بدستور وفاق میں پاکستان تحریک انصاف کا ساتھ دیتی رہے گی۔

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹکنالوجی ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی جانب سے وزارت چھوڑنے کے اعلان پر رد عمل دیتے ہوئے وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ خالد مقبول صدیقی نے اپنا استعفیٰ براہ راست حکومت کو اب تک نہیں بھیجا۔

یاد رہے کہ تحریک انصاف قومی اسمبلی میں 156 نشستوں کے ساتھ اکثریت رکھنے والی جماعت ہے۔ جس کے ساتھ اتحادیوں میں متحدہ قومی موومنٹ کے 7 ارکان، پاکستان مسلم لیگ (ق) کے 5، بلوچستان عوامی پارٹی کے بھی 5، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے 4، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے 3 ارکان، جبکہ عوامی مسلم لیگ، جمہوری وطن پارٹی کے ایک ایک رکن اور دو آزاد ارکان اسمبلی بھی شامل ہیں۔

تحریک انصاف کی حکومت کے اتحادی ارکان کی کل نشستیں 182 بنتی ہیں جب کہ حکومت کو اکثریت برقرار رکھنے کے لیے 172 ارکان کی حمایت ضروری ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند