تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سابق صدر مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا فیصلہ سنانےوالی خصوصی عدالت غیرآئینی قرار
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 29 جمادی الثانی 1441هـ - 24 فروری 2020م
آخری اشاعت: پیر 17 جمادی الاول 1441هـ - 13 جنوری 2020م KSA 18:30 - GMT 15:30
سابق صدر مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا فیصلہ سنانےوالی خصوصی عدالت غیرآئینی قرار
پاکستان کے سابق فوجی صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف ۔ فائل تصویر
العربیہ ڈاٹ نیٹ

پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کی عدالتِ عالیہ نے سابق فوجی صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کو غیر آئینی قراردے دیا ہے۔اس خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو سنگین غداری کے مقدمے میں گذشتہ ماہ قصور وار قرار دے کر سزائے موت کا حکم دیا تھا۔

پرویز مشرف نے اس فیصلے کے خلاف عدالتِ عالیہ لاہور میں اپیل دائر کی تھی۔عدالت کی تین رکنی بینچ نے اس کی سماعت کی ہے۔اس نے سوموار کے روز اپنے حکم میں قراردیا ہے کہ سابق صدر کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ قانون کے مطابق نہیں بنایا گیا تھا۔

عدالتِ عالیہ کی تین رکنی بینچ میں جسٹس سیّد مظاہرعلی اکبر نقوی ، جسٹس محمد امیر بھٹی اور جسٹس چودھری مسعود جہانگیر شامل تھے اور انھوں نے اتفاق رائے سے اپنا فیصلہ سنایا ہے۔

پرویز مشرف کے خلاف اسلام آباد میں قائم خصوصی عدالت نے 17 دسمبر 2019ء کو فیصلہ سنایا تھا۔ ان کے خلاف چھے سال تک مقدمہ چلتا رہا تھا۔ان کے خلاف یہ مقدمہ پاکستان مسلم لیگ نواز کی سابق حکومت نے تین نومبر 2007ء کو آئین معطل کرنے اور ایمرجنسی نافذ کرنے پر قائم کیا تھا۔

عدالتِ عالیہ لاہور کے اس مختصرحکم کے بعد وفاقی حکومت اور سابق صدر مشرف کے وکیل، دونوں نے کہا ہے کہ خصوصی عدالت کا فیصلہ اب کالعدم ہوگیا ہے۔واضح رہے کہ پاکستان آرمی کے ترجمان میجر جنرل آصف غٖفور نے اپنے سابق چیف آف اسٹاف کے خلاف سزائے موت کے فیصلے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ اس پر فوج میں سخت اضطراب اور تشویش پائی جارہی ہے۔

پرویزمشرف نے اپنی درخواست میں عدالت سے یہ استدعا کی تھی کہ وہ خصوصی عدالت کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کردے۔انھوں نے کہا تھا کہ یہ عدالت غیر آئینی تھی اور یہ آئین کی دفعات 4، 5 ، 10 اور 10 اے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قائم کی گئی تھی۔ انھوں نے اپنے خلاف سنائی گئی سزا کو اپنی درخواست پر کسی فیصلے تک کالعدم قراردینے کا مطالبہ کیا تھا۔

عدالتِ عالیہ میں وفاق کی نمایندگی کرنے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اشتیاق اے خان نے خصوصی عدالت کے قیام کے بارے میں اپنے دلائل پیش کیے تھے۔انھوں نے حکم کے بعد کہا ہے کہ ’’سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف شکایت کا اندراج ، عدالت کی تشکیل اور پراسیکیوشن ٹیم کا انتخاب سب غیر قانونی ہیں، انھیں غیر قانونی قراردیا جانا چاہیے تھا اوربالآخر خصوصی عدالت کے تمام فیصلے کو کالعدم قراردے دیا گیا ہے۔‘‘

انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''پرویز مشرف اب آزاد فرد ہیں۔اس وقت ان کے خلاف کسی عدالت کا کوئی فیصلہ برقرار نہیں رہا ہے۔‘‘ تاہم اب استغاثہ سابق فوجی صدر کے خلاف وفاقی حکومت کی منظوری سے ایک نیا کیس دائر کرسکتا ہے۔

پاکستان کے سابق فوجی حکمراں پرویز مشرف اس وقت متحدہ عرب امارات میں رہ رہے ہیں۔ انھیں گذشتہ ماہ خرابیِ صحت کی بنا پر اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔انھوں نے اکتوبر1999ء میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا اور خود اقتدار سنبھال لیا تھا۔وہ 2008ء تک برسراقتدار رہے تھے اور انھیں پیپلز پارٹی کی حکومت میں مواخذے کی تحریک کے بعد صدر کے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا تھا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند