تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پاکستان اور آزاد کشمیر میں شدید سردی کی لہر،بارش اور برف باری سے 82 اموات
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 29 جمادی الثانی 1441هـ - 24 فروری 2020م
آخری اشاعت: منگل 18 جمادی الاول 1441هـ - 14 جنوری 2020م KSA 21:42 - GMT 18:42
پاکستان اور آزاد کشمیر میں شدید سردی کی لہر،بارش اور برف باری سے 82 اموات
پاکستان کے شہر کوئٹہ میں برفباری کے بعد کا منظر۔
اسلام آباد ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

پاکستان کے مختلف علاقوں میں برف باری ، برفانی تودے گرنے اور بارشوں کے نتیجے میں مکانات تباہ ہونے سے گذشتہ تین روز کے دوران میں مرنے والوں کی تعداد 82ہوگئی ہے اور بیسیوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔

پاکستان کی نیشنل ڈیزاسسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ( این ڈی ایم اے) نے منگل کے روز ان اموات کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں بارش اور برف باری جاری ہے،اس کے پیش نظر اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔

حالیہ برفباری اور سرد موسم سے پاکستان کے زیر انتظام ریاست آزاد جموں وکشمیر سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے اور وہاں برفباری اور مکانوں پر برفانی تودے گرنے سے اکسٹھ افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔پاکستان کا رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑا صوبہ بلوچستان بھی برف باری اور شدید بارشوں سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔وہاں مختلف واقعات میں 20 جانیں چلی گئی ہیں اور11 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ انھوں نے این ڈی ایم اے ، فوج اور وفاقی وزراء کو آزاد کشمیر کے عوام کو ہنگامی بنیادوں پر امداد مہیا کرنے کی ہدایت کی ہے۔

آزاد جموں وکشمیر

آزاد کشمیر کی وادیِ نیلم میں گذشتہ تین روز سے شدید برف باری ہورہی ہے اور برفانی تودے گرنے سے 59 افراد دب کر موت کے مُنھ میں چلے گئے ہیں۔آزاد کشمیر حکومت کے ایک سینیر عہدہ دار فیاض علی عباسی نے بتایا ہے کہ ان افراد کی برفانی تودوں تلے دبی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ان کے علاوہ 53 افراد کو زخمی حالت میں زندہ نکالا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا ہے کہ ضلع نیلم کی تحصیل شاردہ کے علاقے سرگن میں واقع دو دیہات بکولی اور سری برف باری سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ریاست کے تمام مہلوکین اور زخمیوں میں قریباً 80 فی صد کا تعلق ان ہی دونوں دیہات سے ہے۔

شاردہ ریاست کے دارالحکومت مظفرآباد سے قریباً 137 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے اور سرگن کا علاقہ وہاں بلند پہاڑوں پر پھیلا ہوا ہے۔ بکولی اور سری وادی نیلم کی مرکزی شاہراہ سے بالترتیب آٹھ اور دس کلومیٹر دور واقع ہیں۔

عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ وہاں مقامی لوگوں ، پولیس اور فوج نے ملبے تلے افراد کو نکالنے کے لیے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا ہے اور فوج کے ہیلی کاپٹر بھی ریسکیو اور ریلیف کی کارروائیوں میں شریک ہیں۔ہیلی کاپٹروں کے ذریعے وادی کے برف باری سے متاثرہ دور درازعلاقوں میں خوراک کی اشیاء گرائی گئی ہیں۔

بلوچستان

بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے صوبے کے مختلف علاقوں میں برف باری کے نتیجے میں حادثات میں 20 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ جام کمال خان خود متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کررہے ہیں۔

صوبائی ڈیزاسسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ایک افسر محمد یونس نے بتایا ہے کہ مرنے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں اور اس وقت بھی مختلف علاقوں میں برف باری کے نتیجے میں سیکڑوں افراد پھنس کررہ گئے ہیں

بلوچستان کی اہم شاہراہیں، بہ شمول بولان روڈ ، خانو زئی روڈ اور کوئٹہ چمن روڈ، فی الوقت ٹریفک کی آمد ورفت کے لیے بند کردی گئی ہیں۔

خیبر پختونخوا

پاکستان کے اس شمال مغربی صوبہ کے مختلف علاقوں میں شدید برف باری کی اطلاعات ملی ہیں۔ پی ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق شدید سردی سے صوبے میں ایک شخص کی موت ہوئی ہے اور تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ ضلع چترال اور اس سے ملحقہ علاقوں میں سب سے زیادہ برف باری ہوئی ہے اور وہاں بند شاہراہوں کو کھولنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ضلع شانگلہ میں چھے فٹ تک برف پڑی ہے اور وہاں قالین کی طرح برف کی تہ جم گئی ہے۔اس ضلع کے مختلف علاقوں میں برفانی تودے گرنے سے چار مکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔

چترال میں مسلسل برفباری کے بعد لواری ٹاپ روڈ کو بند کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے اس کے قرب وجوار میں رہنے والے لوگوں کی گاڑیوں تک رسائی ختم ہو کررہ گئی ہے اور وہ ایک طرح سے محصور ہوکررہ گئے ہوں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند