تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
صدر ٹرمپ کی پاکستان،بھارت میں تنازع کشمیرپرثالثی کی ایک اور پیش کش
ڈیووس میں’’دوست‘‘ عمران خان سے ملاقات میں افغانستان میں قیام امن سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 11 شعبان 1441هـ - 5 اپریل 2020م
آخری اشاعت: بدھ 26 جمادی الاول 1441هـ - 22 جنوری 2020م KSA 05:48 - GMT 02:48
صدر ٹرمپ کی پاکستان،بھارت میں تنازع کشمیرپرثالثی کی ایک اور پیش کش
ڈیووس میں’’دوست‘‘ عمران خان سے ملاقات میں افغانستان میں قیام امن سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ڈیووس میں وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کررہے ہیں۔
ڈیووس ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ ، ایجنسیاں

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع کشمیر پر اپنی دیرینہ پیش کش کا اعادہ کیا ہے۔

انھوں نے منگل کے روز سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس کے موقع پر وزیراعظم عمران خان سے ملاقات سے قبل پریس بریفنگ میں ایک مرتبہ پھر یہ پیش کش کی ہے۔انھیں اپنا دوست قراردیا ہے اور ان سے ایک اور ملاقات پر اپنی خوشی کا اظہار کیا ہے۔عمران خان کی جولائی 2018ء میں وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد صدر ٹرمپ سے یہ تیسری ملاقات ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا:’’ہم کشمیر کے بارے میں بات کررہے ہیں،اگر ہم کوئی مدد کرسکتے ہیں تو ہم یقینی طور پر مدد کریں گے۔ہم اس کو دیکھ رہے ہیں اور بڑی باریک بینی سے اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔‘‘

اس کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ’’ جناب صدر!آپ سے ملاقات کا مجھے ایک اور اچھا موقع ملا ہے،جی ہاں بعض ایشوز ہیں جن پر ہم بات کرنا چاہتے ہیں۔ان میں مرکزی معاملہ افغانستان کا ہے کیونکہ اس کے بارے میں امریکا اور پاکستان کو تشویش لاحق ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’ خوش قسمتی سے ہم ایک صفحے پر ہیں۔ہم دونوں امن میں دلچسپی رکھتے ہیں۔افغانستان میں ہم طالبان اور حکومت کے درمیان ایک منضبط انداز میں انتقال اقتدار چاہتے ہیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا:’’ہمیشہ سے یہ امید کی جاتی ہے کہ امریکا اس مسئلہ کو حل کرانے میں کردار ادا کرے گا کیونکہ کوئی دوسرا ملک یہ کام نہیں کرسکتا۔‘‘

صدر ٹرمپ سے جب ایک رپورٹر نے سوال کیا کہ کیا وہ بھارت کے دورے کے موقع پر پاکستان بھی آئیں گے تو انھوں نے اس کا کوئی ٹھوس جواب دینے سے گریز کیا اور اس کے بجائے یہ کہا:’’ بہتر ہے،اس وقت ہم ملاقات کررہے ہیں، میں صرف ہیلو کہنا چاہتا ہوں۔‘‘

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان ایک عرصہ سے اچھے تعلقات استوار ہیں لیکن ہم پاکستان سے اتنے زیادہ قریب پہلے کبھی نہیں تھے، جتنے اب ہیں۔

عمران خان منگل کی صبح اسلام آباد سے عالمی اقتصادی فورم کے لیے ڈیووس روانہ ہوئے تھے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ،مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد ،وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے قومی سلامتی معید یوسف ، سمندر پار پاکستانیوں کے امور کے معاون خصوصی ذوالفقارعباس بخاری اور مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ بھی ان کے ہمراہ گئے ہیں۔سرمایہ کاری کے گشتی سفیر علی جہانگیر صدیقی ڈیووس میں پاکستانی وفد سے مل جائیں گے۔

وزیراعظم عمران خان عالمی اقتصادی فورم کے خصوصی اجلاس میں اہم خطاب کریں گے اور پاکستان اسٹریجی ڈائیلاگ میں مختلف کارپوریٹ لیڈروں اور ٹیکنالوجی کے ماہرین سے مکالمہ کریں گے۔وہ اس موقع پر مختلف عالمی لیڈروں سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند