تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پاکستان کے اٹارنی جنرل انورمنصور خان عدالتِ عظمیٰ میں دُرگَت کے بعد مستعفی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 14 شعبان 1441هـ - 8 اپریل 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 25 جمادی الثانی 1441هـ - 20 فروری 2020م KSA 17:04 - GMT 14:04
پاکستان کے اٹارنی جنرل انورمنصور خان عدالتِ عظمیٰ میں دُرگَت کے بعد مستعفی
پاکستان کے مستعفی اٹارنی جنرل انور منصور خان
اسلام آباد ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

پاکستان کے اٹارنی جنرل انور منصور خان نے عدالتِ عظمیٰ میں جسٹس قاضی فایز عیسیٰ کیس کی سماعت کے دوران میں ایک متنازع بیان پر اپنی دُرگت بننے کے بعد عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں اور انھوں نے جمعرات کو صدر عارف علوی کو اپنا استعفا پیش کردیا ہے۔

انھوں نے اپنے استعفے میں لکھا ہے:’’میں نہایت افسوس کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ پاکستان بار کونسل نے، جس کا میں چیئرمین ہوں، 19 فروری کو ایک پریس ریلیز کے ذریعے یہ مطالبہ کیا ہے کہ میں اٹارنی جنرل پاکستان کے عہدے سے مستعفی ہوجاؤں۔‘‘

وہ مزید لکھتے ہیں:’’کراچی بار ایسوسی ایشن ، سندھ بار ایسوسی ایشن اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے تاحیات رکن ،ماضی میں صوبہ سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل ، پاکستان کے اٹارنی جنرل اور سندھ ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے میں ہمیشہ بار کے ساتھیوں اور بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہوا ہوں۔ میں پاکستان بار کونسل جن اعلیٰ اصولوں اور پیشہ ورانہ امتیازات کے ساتھ کھڑی رہی ہے،ان پر اپنے اعتقاد کا اعادہ کرنا چاہتا ہوں۔‘‘

وہ اس خط کے آخر میں لکھتے ہیں’’میں اٹارنی جنرل پاکستان کے عہدے سے مستعفی ہورہا ہوں اور میری درخواست ہے کہ اس کو فوری طور پر قبول کر لیا جائے۔‘‘

ان کے اس اعلان سے ایک روز قبل ہی عدالتِ عظمیٰ نے انھیں حکم دیا تھا کہ وہ معافی مانگیں یا پھر انھوں نے جسٹس قاضی فایزعیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرینس کی سماعت کرنے والی بینچ سے متعلق جو ریمارکس دیے ہیں،ان کے حق میں کوئی مواد پیش کریں۔

انور منصور خان نے عدالتِ عظمیٰ کی بینچ سے متعلق ایک متنازعہ بیان دیا تھا۔اس پر بینچ کے ایک رکن جسٹس عمر عطا بندیال نے بدھ کو اپنا حکم لکھواتے ہوئے اٹارنی جنرل سے کہا تھا کہ وہ اس کے حق میں کوئی مواد پیش کریں جس کی بنیاد پر انھوں نے یہ بیان دیا ہے۔اس بیان کو اب عدالت کے ریکارڈ سے حذف کردیا گیا ہے۔

گذشتہ روز صدارتی ریفرینس کی سماعت کے وقت پاکستان بار کونسل (پی بی سی) کے وائس چیئرمین عابد ساقی اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سیّد قلبِ حسن بھی عدالت میں موجود تھے۔انھوں نے اٹارنی جنرل کے بیان کی مذمت کی تھی اور ان کے علاوہ وزیر قانون فروغ نسیم کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائرکرنے کا فیصلہ کیا تھا جن کی موجودگی میں اول الذکر نے یہ انتہائی قابل اعتراض بیان دیا تھا۔

پی بی سی کے وائس چیئرمین نے ایک بیان میں اٹارنی جنرل سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے قابل اعتراض اور غیر ضروری بیان پر غیر مشروط طور پر معافی مانگیں اور اس کے ساتھ اپنے عہدے سے بھی مستعفی ہوجائیں۔بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ پی بی سی حکومت کی جانب سے عدلیہ کی آزادی کونقصان پہنچانے اور انصاف کی فراہمی کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کرے گی۔

دریں اثناء وفاقی حکومت نے عدالتِ عظمیٰ میں جمع کرائے کرائے گئے اپنے ردعمل میں اٹارنی جنرل کے 18 فروری کے زبانی بیان سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ’’انھوں نے وفاقی حکومت کے علم اور ہدایات کے بغیر یہ ’’غیرمجاز‘‘ بیان دیا تھا۔اس کی بالکل بھی ضرورت نہیں تھی۔وفاقی حکومت عدلیہ کا بہت احترام کرتی ہے،اس لیے وہ اٹارنی جنرل کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کرتی ہے۔‘‘

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند