تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
'جسٹس عیسیٰ کیس' اٹارنی جنرل کی عدالت میں پیش ہونے سے معذرت
حکومتی ذرائع کے مطابق حکومت کا نجی وکیل کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 8 شعبان 1441هـ - 2 اپریل 2020م
آخری اشاعت: پیر 29 جمادی الثانی 1441هـ - 24 فروری 2020م KSA 16:38 - GMT 13:38
'جسٹس عیسیٰ کیس' اٹارنی جنرل کی عدالت میں پیش ہونے سے معذرت
حکومتی ذرائع کے مطابق حکومت کا نجی وکیل کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ

پاکستان کی وفاقی حکومت نے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں پیش ہونے سے معذرت کرنے کے بعد کیس کے لئے نجی وکیل کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزارت قانون و انصاف کے ذرائع نے مقامی ٹی وی چینل کو بتایا ہے نجی وکیل کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں اور اس حوالہ سے یہ ٹاسک وزارت قانون کو سونپ دیا گیا ہے۔

اس موقع پر چند نامور وکلاء کے ناموں پر غور ہو رہا ہے اور اس حوالہ سے ان سے رابطے بھی کئے جارہے ہیں۔ 30 مارچ کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کی سماعت سے قبل اس بات کا اعلان کر دیا جائے گا کہ کون سے نجی وکیل اس کیس میں حکومت کی نمائندگی کریں گے۔

اس سے قبل نئے تعینات ہونے والے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے وزیر اعظم عمران خان کو پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیس نہیں لڑیں گے جس کے بعد وزارت قانون نے انہیں قائل کرنے کی بھرپور کوششیں کیں تاہم وہ اس کیس کو لڑنے پر رضامند نہیں ہوئے تھے۔

یاد رہے کہ صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کے کے آغا کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا تھا۔

ریفرنس میں دونوں ججز پر اثاثوں کے حوالے سے مبینہ الزامات عائد کرتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل سے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی استدعا کی گئی تھی۔

سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی برطانیہ میں اہلیہ اور بچوں کے نام پر موجود جائیدادیں ظاہر نہ کرنے کے حوالے سے کارروائی جاری ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند