تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پاکستان میں کرونا وائرس سے دواموات کی تصدیق،کل کیس 300 سے متجاوز
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 16 ذوالحجہ 1441هـ - 6 اگست 2020م
آخری اشاعت: بدھ 23 رجب 1441هـ - 18 مارچ 2020م KSA 22:47 - GMT 19:47
پاکستان میں کرونا وائرس سے دواموات کی تصدیق،کل کیس 300 سے متجاوز
اسلام آباد ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

پاکستان میں کرونا وائرس کا شکار دو افراد جان کی بازی ہارگئے ہیں جبکہ ملک بھر میں اس مہلک وائرس کے کیسوں کی تعداد 300 سے متجاوز ہوگئی ہے۔

بدھ کو کرونا وائرس سے مرنے والے دونوں افراد کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا سے ہے۔صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا نے ایک ٹویٹ میں ان کی موت کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ ایک متوفیٰ کی عمر 36 سال تھی۔اس کا تعلق ضلع ہنگو سے تھا اور وہ پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال میں زیر علاج تھا۔

اس سے دو گھنٹے پہلے انھوں ضلع مردان میں کرونا وائرس سے 50 سالہ شخص کی موت کی تصدیق کی تھی۔متوفیٰ مردان میڈیکل کمپلیکس میں زیر علاج تھا اور حال ہی میں سعودی عرب سے پاکستان واپس آیا تھا۔یہ پاکستان میں کرونا سے پہلی موت تھی۔

قبل ازیں پاکستان کے زیر انتظام شمالی علاقے گلگت، بلتستان کی حکومت نے مہلک کرونا وائرس سے ایک ضعیف العمر شخص کی موت کی تردید کردی تھی اور کہا تھا کہ اس کی موت نمونیے سے ہوئی ہے۔

گلگت بلتستان کے سیکریٹری صحت رشید احمد نے باقاعدہ نیوز کانفرنس میں کرونا وائرس کے اس مریض کی موت کی اطلاع دی تھی۔ متوفیٰ کا تعلق ضلع دیامر سے تھا اور وہ اس مہلک وائرس کا شکار ہونے کے بعد سے اسپتال میں زیر علاج تھا۔

لیکن ان کی اس اطلاع کے بعد گلگت، بلتستان کی حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے ایک وضاحتی بیان جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ اس مریض کا کووِڈ-19 کے ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آیا تھا لیکن اس کو نمونیا بھی تھا۔اس لیے اس کی موت کی وجہ واضح نہیں ہے۔

بعد میں ترجمان فراق نے ایک اور بیان میں کہا ہے کہ راول پنڈی میں واقع مسلح افواج کے انسٹی ٹیوٹ برائے پیتھالوجی سے ایک رپورٹ موصول ہوئی ہے۔اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کووِڈ-19 کا شکار نہیں تھا اور اس کی موت نمونیے سے ہوئی ہے۔

پاکستان کے زیرانتظام آزاد جموں وکشمیر نے کرونا وائرس کے پہلے مریض کی اطلاع دی ہے۔اس کی عمر 45 سال ہے اور یہ بھی ایران کے ساتھ واقع تفتان کی سرحد سے آزاد کشمیر میں لوٹا ہے۔اے جے کے وزیراعظم راجا فاروق حیدر نے کہا ہے کہ اس کو الگ تھلگ رکھا جارہا ہے اور اس کی حالت بہتر ہے۔

صوبہ سندھ کے وزیر صحت کی میڈیا کوآرڈی نیٹر میران یوسف نے بتایا ہے کہ کراچی میں مزید 19 افراد کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔قبل ازیں انھوں نے بتایا تھا کہ صوبہ سندھ کے شہر سکھر میں مزید آٹھ افراد کے کووِڈ -19 کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔یہ تمام شیعہ زائرین ایران سے آئے ہیں اور انھیں تفتان بارڈر سے سکھر منتقل کیا گیا تھا۔ان کے بعد سندھ میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 208 ہوگئی ہے۔

صوبہ بلوچستان میں کرونا وائرس کے سات نئے کیسوں کی تصدیق ہوئی ہے۔اس صوبے میں اب تک مہلک وائرس سے 23 افراد متاثر ہوئے ہیں۔ادھر صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے کرونا وائرس کے پانچ نئے کیسوں کی تصدیق کی ہے۔صوبے میں کرونا کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر33 ہوگئی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے آج وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے ہمراہ ڈیرہ غازی خان کا دورہ کیا ہے اور وہاں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کے لیے قائم کردہ قرنطینہ مرکز میں مہیا کی جانے والی سہولتوں کا جائزہ لیا ہے۔اس جگہ تفتان بارڈر سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے شیعہ زائرین کو منتقل کیا جارہا ہے۔

وزیراعظم کو ڈی جی خان میں قائم اس مرکز کے کمان روم میں زائرین کی آمد، کروناوائرس کی سکریننگ ، رہائش اور کھانے پینے کے لیے کیے گئے انتظامات پر بریفنگ دی گئی ۔

دریں اثناء صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے بعض اقدامات کا اعلان کیا ہے۔اس نے تمام ریستورانوں کو پانچ اپریل تک بند رکھنے کاحکم دیا ہے اور دکانوں کو صبح 10 بجے سے شام سات بجے تک کھلا رکھنے کی ہدایت کی ہے۔تمام نجی تقریبات بند جگہوں اورگھروں ہی میں منعقد ہوں گی۔نیز پانچ سے زیادہ افراد کے اجتماع پر پابندی ہوگی۔اس صوبہ میں کرونا وائرس کے 19 کیسوں کی تصدیق ہوئی ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند