تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پاکستان میں لاک ڈاؤن کامیاب نہیں ہوگا:عمران خان،کرونا وائرس کے کیسوں کی تعداد 1775
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 9 شوال 1441هـ - 1 جون 2020م
آخری اشاعت: پیر 5 شعبان 1441هـ - 30 مارچ 2020م KSA 22:23 - GMT 19:23
پاکستان میں لاک ڈاؤن کامیاب نہیں ہوگا:عمران خان،کرونا وائرس کے کیسوں کی تعداد 1775
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان قوم سے خطاب کررہے ہیں۔
اسلام آباد ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

وزیراعظم عمران خان نے اپنے اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان میں لاک ڈاؤن کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا جبکہ ملک میں کرونا وائرس سے 24 اموات ہوچکی ہیں اور اس کے کیسوں کی تعداد بڑھ کر 1775 ہوگئی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے سوموار کی شب کرونا وائرس کے بحران پر قوم سے ایک اور خطاب کیا ہے۔انھوں نے ملک میں اس وائرس کے پھیلنے سے پیدا ہونے والی صورت حال سے نمٹنے کے لیے کرونا ٹائیگرز ریلیف فورس اور کرونا وائرس ریلیف فنڈ کے قیام کا اعلان کیا ہے۔

انھوں نے اشیائے ضروریہ کی ذخیرہ اندوزی میں ملوث افراد کو خبردار کیا ہے کہ ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔انھوں نے کہا کہ ان ذخیرہ اندوزوں کی وجہ سے لوگ پاکستان میں بھوک کا شکار ہو کر موت کے مُنھ میں جاسکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جب لوگ افراتفری میں ضرورت سے زیادہ چیزیں خرید کرلیتے ہیں تو اس سے اشیاء کی مصنوعی اور اچانک قلّت پیدا ہوجاتی ہے اور قیمتیں چڑھ جاتی ہیں۔

وزیراعظم نے کہا:’’ اہم بات یہ ہے کہ کووِڈ-19 کے خلاف جنگ میں ملک کی صورت حال کو ملحوظ رکھا جائے۔‘‘انھوں نے بھارت کی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے بعد وزیراعظم کوعوام سے معافی مانگنا پڑی ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کسی سے کوئی رعایت برتتا ہے اور نہ امیر اور غریب میں کوئی تمیز کرتا ہے۔ انھوں نے برطانیہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس کے وزیراعظم بورس جانسن کا کووِڈ-19 کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کے خلاف ہر ملک اپنے وسائل اور صلاحیت کے مطابق جنگ لڑرہا ہے اور اب تک اس جنگ میں چین سب سے کامیاب ثابت ہوا ہے۔اس نے کرونا وائرس پھیلنے کے اولین مقام ووہان شہر میں لاک ڈاؤن کیا اور پھر وہ اس وائرس کو شکست دینے میں کامیاب رہا ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان کی صورت حال بھی چین ایسی ہوتی تو وہ بھی ملک میں لاک ڈاؤن کردیتے لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہماری آبادی کا ایک قابل قدر حصہ غُربت کی زندگی بسر کررہا ہے۔

کرونا وائرس کے کیس

دریں اثناء صوبہ سندھ کے محکمہ صحت نے کرونا وائرس کے 31 نئے کیسوں کی تصدیق کی ہے۔اس کے بعد صوبہ میں اس مہلک وائرس کا شکار افراد کی تعداد 566 ہوگئی ہے۔

نئے تصدیق شدہ تمام مریض تبلیغی جماعت کے ارکان ہیں۔انھیں حیدر آباد میں واقع نور مسجد میں الگ تھلگ رکھا جارہا ہے۔قبل ازیں کراچی میں کرونا وائرس سے ایک 63 سالہ خاتون کی موت اور 27 کیسوں کی تصدیق کی گئی تھی۔ یہ تمام افراد مقامی طور پر کرونا وائرس کے متاثرہ کیسوں سے ملنے جلنے کی وجہ سےاس وَبا کا شکار ہوئے ہیں۔

صوبائی وزیر صحت کے مطابق متوفیہ خاتون میں دو روز قبل ہی کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔اس کو نظام تنفس کا دائمی عارضہ لاحق تھا اور وہ دس روز قبل سعودی عرب سے لوٹی تھی۔

واضح رہے کہ سندھ حکومت نے کرونا کی وَبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیےپانچ اپریل تک جمعہ سمیت پنج وقتہ نمازوں کی مساجد میں کثیر شرکاء کے ساتھ باجماعت ادائی پر پابندی عاید کررکھی ہے۔

صوبہ سندھ کے محکمہ داخلہ کے مطابق مسجد میں صرف تین سے پانچ افراد کو باجماعت نماز ادا کرنے کی اجازت ہے۔یہ پابندی دوسرے مذاہب کے پیروکاروں پر بھی عاید ہوگی اور وہ بھی اپنی عبادت گاہوں میں اجتماعات منعقد نہیں کرسکتے ہیں۔

صوبہ پنجاب میں کرونا وائرس سے سوموار کو مزید تین افراد کی موت ہوئی ہے جس کے بعد وہاں اس مہلک وائرس سے مرنے والوں کی تعداد نو ہوگئی ہے۔ملک کے اس سب سے بڑے صوبہ میں 13 نئے کیسوں کی تصدیق کی گئی ہے اور کل کیسوں کی افراد کی تعداد 651 ہوچکی ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں اس وَبا کا شکار افراد کی تعداد بڑھ کر 221 ہوگئی ہے۔صوبہ بلوچستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ 152 افراد زیر علاج ہیں ہیں۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کرونا وائرس کے 51 کیسوں کی تصدیق کی گئی ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام آزاد جموں وکشمیر اور گلگت، بلتستان میں 134افراد اس مہلک مرض میں مبتلا ہوئے ہیں۔آزاد کشمیر کی حکومت نے علاقے میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کرفیو نافذ کررکھا ہے۔ریاست میں کسی کوآنے اور وہاں سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند