تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2021

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
’’پاکستانی فوج اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے حکومتی موقف کی مکمل حمایت کرتی ہے‘‘
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 13 جمادی الثانی 1442هـ - 27 جنوری 2021م
آخری اشاعت: اتوار 13 ربیع الثانی 1442هـ - 29 نومبر 2020م KSA 14:07 - GMT 11:07
’’پاکستانی فوج اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے حکومتی موقف کی مکمل حمایت کرتی ہے‘‘
میجر جنرل بابر افتخار
ایجنسیاں

پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ فوج اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے حکومت کے مؤقف کی ’مکمل حمایت‘ کرتی ہے۔

انڈیپنڈینٹ اردو نے معاصر عرب نیوز کی ایک رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان فلسطینی ریاست کے مطالبے کا ایک مضبوط حامی رہا ہے اور وہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا حالانکہ پاکستانی حکام کے تل ابیب سے مبینہ خفیہ رابطوں کے کئی دعوے سامنے آ چکے ہیں، جنہیں اسلام آباد نے ہمیشہ مسترد کیا۔

فوج کے ترجمان نے مقامی انگریزی اخبار ’دی نیوز‘ کی ایک رپورٹ پر اپنے ردعمل میں بتایا: ’مسلح افواج اسرائیل اور فلسطین کے بارے میں حکومتِ پاکستان کے بیان کردہ موقف کی مکمل حمایت کرتی ہیں۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس موضوع پر غیر ضروری قیاس آرائیوں کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔

حالیہ ہفتوں میں پاکستان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے مبینہ طور پر غیر ملکی دباؤ کی قیاس آرائیاں ہیں حالانکہ پاکستانی وزیر اعظم اور دفتر خارجہ ان قیاس آرئیوں کو واضح طور پر کئی بار مسترد کر چکے ہیں۔ جمعے کو وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ان کی حکومت اسرائیل کو اس وقت تک تسلیم نہیں کرے گی جب تک فلسطین کے مسئلے کا ایک منصفانہ حل پیش نہیں کیا جاتا۔

رواں ماہ مقامی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے پاکستان پر دباؤ کے پیچھے امریکہ میں اسرائیل کے ’گہرے اثر و رسوخ‘ کا ہاتھ تھا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں اس دباؤ میں ’غیر معمولی‘ اضافہ ہوا۔

تاہم وزیراعظم نے مزید کہا: ’میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بارے میں کوئی دوسری رائے نہیں رکھتا جب تک کہ ایسا کوئی مناسب تصفیہ پیش نہ کیا جائے جو فلسطین کو قبول ہو۔‘

چوبیس نومبر کو دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’پاکستان فلسطینی عوام کے خودارادیت کے حق کی حمایت کرتا ہے اور دیرپا امن کے لیے یہ لازمی ہے کہ اقوام متحدہ اور او آئی سی کی قراردادوں کے مطابق اس مسٔلے کا 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے ساتھ دو ریاستی حل اور بیت المقدس ایک قابل عمل، آزاد اور متفقہ فلسطینی ریاست کا درالحکومت ہونا چاہیے۔‘

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند