تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ڈیوڈ پیٹریاس کے استعفی سے ملتا سبق اور رہنمائی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 26 ذوالحجہ 1433هـ - 11 نومبر 2012م KSA 16:04 - GMT 13:04
ڈیوڈ پیٹریاس کے استعفی سے ملتا سبق اور رہنمائی
اہل مغرب اور امریکا جن کو سیکولر معاشرہ کہا جاتا ہے بھلا وہاں کسی سلامتی ادارے اور صدر مملکت کے لئے سخت اخلاقی شرائط اور معیار کیا ہیں اس بات کو افغانستان میں ایساف یعنی انٹرنیشنل سیکورٹی اسسٹنس فورس کے سابق سربراہ اور سی آئی اے کے چیف ڈیوڈ پیٹریاس کے حالیہ استعفیٰ سے دیکھا اور سمجھا جا سکتا ہے۔ بل کلنٹن کتنے طاقتور ڈیموکریٹ صدر تھے مگر جب ان کے تعلقات غیر مناسب انداز میں ایوان صدر میں کام کرنے والی ایک خاتون سے استوار ہو کر طشت ازبام ہو گئے تو انہیں نہ صرف پارلیمانی مواخذے کا سامنا کرنا پڑا بلکہ قوم کے سامنے آ کر اخلاقی جرم کو تسلیم اور اس کی معافی مانگنا پڑی، تب جا کر انہوں نے باقی ماندہ صدارتی مدت پوری کی تھی۔ صدر نکسن کتنے طاقت ور صدر تھے مگر جب مخالفین کی سیاسی حکمت عملی سمجھنے اور اس کا توڑ ایجاد کرنے کے لئے اس بات کی خفیہ ریکارڈنگ کروائی تو بعد ازاں یہ معاملہ واٹر گیٹ سکینڈل کے نام سے سامنے آیا اور پوری قوم نے اپنے فیصلہ سے صدر کو اخلاقی مطلوبہ معیار سے ساقط قرار دے دیا تو نکسن کو مستعفی ہونا پڑا اور قوم سے معافی مانگنا پڑی تھی۔

ڈیوڈ پٹریاس نے قیام افغانستان میں ایک خاتون صحافی سے تعلقات قائم کئے تھے آئی بی نے ان کی سخت خفیہ نگرانی کی اور سارا معاملہ صدر کے سامنے پیش کر دیا۔ آئی بی زیادہ طاقتور ثابت ہوئی اور سی آئی اے چیف کے غیر مطمئن اخلاقی کردا رکو ان کے عہدے کے آئینی حساس سلامتی معاملات میں ناقص اور عیب دار ثابت کر دیا۔ ڈیوڈ پیٹریاس میں اخلاقی شرم و حیاءتھی لہٰذا انہوں نے از خود اعتراف جرم کیا اور اعتراف کرتے ہوئے خود کہا کہ وہ 37 سالہ شادی شدہ زندگی کے باوجود ایک غیر خاتون کے ساتھ جنسی تعلقات جیسے غلط کام میں ملوث ہوئے تھے۔ انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ ایسے غیر مطمئن کردار کے مالک شخص کو سی آئی اے جیسے سلامتی ادارے کا راہنما نہیں رہنا چاہیے لہٰذا وہ از خود مستعفی ہو گئے ان کا استعفیٰ صدر اوبامہ نے فوری طور پر قبول کر لیا ہے۔

ہم اہل پاکستان، خاکی اور سیاسی افراد جو سلامتی اداروںکے سربراہ اور فوج کے جنرل ہوتے ہیں۔ صدر مملکت، وزیر اعظم، وفاقی وزراءہوتے ہیں شراب نوشی اور زنامیں اکثر غرق رہنے کے باوجود خود کو عقل کل اور پارسا ثابت کرتے ہوئے ملک کی تقدیر بنانے کے نام پر تباہی و بربادی بھی لاتے رہتے ہیں۔ کیا ہم میں ذرا سی بھی شرم اور حیاءموجود ہے؟ اس کام میں ماشاءاللہ کئی نام نہاد علماءتک بھی ملوث ہو جاتے ہیں اس کے باوجود وہ خود کو شریعت کے محافظ اور مجاہدین بھی ثابت کرتے رہتے ہیں۔ اسی لئے تو ہم تباہ حال اور تباہ شدہ ریاست اور قوم ہیں۔

جناب رسول اللہ کا ارشاد گرامی ہے کہ ”اے میری امت تمہارے اپنے اعمال ہی تمہارے حکمران ہیں“ (حدیث) اگر حکمران ظالم، فاسق وفا جر ہوں تو رعایا بھی تو اخلاقی اور مالی کرپشن میں اکثر ملوث رہتی ہے۔ عملاً ہم میں ذرا سی بھی شرم و حیاء نہیں۔ علم، ٹیکنالوجی، اخلاقی اوصاف حمیدہ سے ہم کوسوں دور ہیں۔ پھر بھی ہم لازماً قوم کی تقدیر کے فیصلہ ساز بنے رہنے پر اصرار کرتے ہیں۔

برادرم جاوید صدیق کا موقف ہے کہ لینن شراب اور زنا سے سخت پرہیز کرتے تھے اور انہوں نے یہ اخلاق وصف جناب محمد کی ذاتی زندگی اور تعلیمات سے سیکھا تھا کہ کوئی بھی وہ شخص جو بڑا ایجنڈا رکھتا ہو اسے ذاتی زندگی کے حوالے سے شراب نوشی اور زنا سے سخت پرہیز کرنا چاہیے۔ کیا لینن مسلمان اور پابند شریعت تھا؟ ہماری اپنی ریاستی زندگی میں جنرل یحییٰ خاں شراب اور زنا میں غرق رہتے تھے انہیں بہت بڑا ذہن رسا رکھنے والا جنرل ثابت کیا جاتا ہے مگر اسی ذہن سا والے شرابی اور زانی جنرل نے سیاست کے حروف ابجد سے ناآشنائی ثابت کئے رکھی تھی اور ملک دو لخت کر دیا تھا کہاں گئی اس کی ذہن رسا والی اعلیٰ معیار کی جرنیلی؟ جنرل پرویز مشرف اور ان کے رفقاء کی آمد کے ساتھ ہی شراب اور شباب کی داستانیں کھل گئیں تھیں اس ذہن رسا رکھنے والے جنرل کے ارد گرد ذاتی رفقاءکون تھے؟

جیسا لیڈر ویسے ہی اس کے مصاحب تھے اس کا نتیجہ نکلا کہ سی آئی اے و پینٹاگان کے ایجنڈے اور امریکی صدر کے کروسیڈی منصوبے جنرل پرویز مشرف کی شراب اور زنا کے راستے آسانی سے پاکستان میں داخل ہو کر سرگرم عمل ہو گئے پھر انہوںنے ایسے ایسے غلط فیصلے کئے کہ آج پورا ملک، فوج،آئی ایس آئی سب ہی عذاب الیم میں مبتلا ہیں۔ دوسری طرف جنرل ضیاءالحق شرابی اور زانی نہ تھے بلکہ نمازی تھے کیا امریکی قرب کے باوجود بھی سی آئی اے، پینٹاگان اور اسرائیلی جاسوس پاکستان میں گھس کر اپنے ایجنڈے پر کام کر سکے تھے ؟ بلکہ اس خاکی عہد میں کہوٹہ کے حوالے سے جاسوسوں کو پکڑ کر ان کے ممالک کے سامنے لایا جاتا رہا تھا۔ آج ملک ڈوب رہا ئے؟

شرپسند اور باغی اس کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے اپنی اپنی آرادا ریاستیں بنانے کے عمل میں بھی مصروف ہیں۔ بلوچستان اس کی واضح مثال ہے اور بیرونی قوتیں اس نادر خطہ زمین کے محل وقوع اور نادر معدنیات پر قبضے کے لئے ہمارے کچھ سرداروں کو اپنے راستے پر لا چکے ہیں۔ القاعدہ اور کچھ تحریک طالبان اپنی شریعت اپنے نام نہاد جہاد کے ذریعے ہم پر بزور بندوق مسلط کرنے کے لئے مصروف ہیں۔ خلافت کے قیام کے داعی الگ طور پر ہمارے لئے درد سر بنے ہوئے ہیں۔ اس کا واحد علاج فیصلہ ساز قائدین کا بنیادی طور پر اخلاقی اور مالی کرپشن سے پاک صاف ہونا بنیادی ضرورت ہے۔

ہمارے سلامتی اداروں میں خمار آلود آنکھیں عذاب کا راستہ بن جاتی ہیں۔ فوج میں اعلیٰ قیادت اگر اخلاقی کرپشن میں ملوث ہو تو پوری فوج کو نحوست زدہ کر دیتی ہے۔ سیاسی فیصلہ ساز اگر مالی کرپشن اور اخلاقی کرپشن میں دھنسے ہوئے ہوں تو ہم سب غرق سمندر بھی ہو سکتے ہیں۔ کیا ہم ڈیوڈ پیٹریاس کے از خود مستعفی ہونے سے سبق اور راہنمائی حاصل کر سکتے ہیں؟؟؟

بہ شکریہ روزنامہ نوائے وقت

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند