تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
غزہ ۔۔۔۔۔ جرم ضعیفی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 9 ربیع الثانی 1442هـ - 25 نومبر 2020م
آخری اشاعت: ہفتہ 10 محرم 1434هـ - 24 نومبر 2012م KSA 17:04 - GMT 14:04
غزہ ۔۔۔۔۔ جرم ضعیفی
رابرٹ فسک معروف کالم نگار ہے جو اکثر و بیشتر اسرائیل کے خلاف اور فلسطینیوں کے حق میں لکھتا ہے اور بین الاقوامی شہرت کا حامل ہے۔ اس کا خیال ہے کہ "حماس" اسرائیل کے بچھائے ہوئے جال میں آ گیا ہے۔ اسرائیل کے مشہور حماس کمانڈر احمد جعبری کو اس کی کار میں شہید کر دیا۔ جعبری "القسام بریگیڈ" کا کمانڈر تھا۔ اس کے بعد حماس نے راکٹوں سے جواب دیا جس سے اسرائیل نے بمباری کا جواز تلاش کر لیا۔

لیکن لگتا ہے رابرٹ کو مغالطہ ہوا۔ اسرائیل نے احمد جباری پر حملہ کیا تو اس کے بعد حماس کے جواب کا انتظار نہیں کیا بلکہ اس کے فورا بعد بیس راکٹ حملے کئے جس میں کئی شہری شہید ہوگئے۔ ان میں معصوم بچے بھی شامل تھے۔

جب شہریوں کی ہلاکت کا ذکر کیا جاتا ہے اور اسرائیل کے وحشیانہ حملوں کی مذمت کی جاتی ہے تو مغربی میڈیا یہ نکتہ ضرور اٹھاتا ہے کہ شام میں بشارالاسد کی فوجوں نے ہزاروں مسلمان شہریوں کو شہید کیا ہے۔ حلب کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی ہے۔ پاکستان میں مسلمان خودکش حملہ آوروں نے لاتعداد بچوں ، عورتوں اور بے گناہ شہریوں کو موت کی گھاٹ اتار دیا ہے لیکن مسلمان ان پر احتجاج نہیں کرتے۔ اس نکتے پر ہم مسلمانوں کے سر شرم سے جھک جانے چاہئیں لیکن اس ساری بحث کے باوجود اسرائیل کی خون آشامی کا کوئی جواز نہیں۔

یہاں دو پہلو ایسے ہیں جن پر ہم مسلمانوں کو غور کرنا چاہئیے۔ اول ۔۔۔۔ اسرائیل کا موقف کیا ہے؟ یہ بھی تو ہمارے علم میں ہونا چاہئیے۔ اسرائیل کا موقف ہے کہ غزہ کی پٹی سے حماس کے فوجی دستے جنوبی اسرائیل پر ایک طویل عرصے سے راکٹ داغ رہے ہیں جس سے اسرائیل کی فوجوں کے ساتھ ساتھ شہری بھی ہلاک ہوتے رہے ہیں۔ یہ تقریبا وہی صورتحال ہے جو ایک عشرہ قبل مقبوضہ کشمیر میں تھی۔ گوریلے بھارتی فوج کے خلاف کاروائی کرتے تھے۔ جواب میں بھارتی فوج پوری بستی جلا دیتی تھی۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس قبیل کی جدوجہد میں سول آبادی کی حفاظت کس قدر ضروری ہے؟ اس ضمن میں دو مکاتب فکر پائے جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ جدوجہد میں سول اور ملٹری کے درمیان فرق کو ملحوظ خاطر رکھنا تقریبا ناممکن ہے۔ جب دشمن کے سویلین ہلاک ہوں گے تو ہمارے شہری بھی ہلاک ہونے کے لئے تیار رہیں۔ دوسرا مکتبہ فکر یہ ہے کہ جوش سے زیادہ ہوش کی ضرورت ہے۔ سب سے قیمتی متاع مسلمان کی جان ہے ۔ ایک ایک بچے ایک ایک عورت اور ایک ایک بوڑھے کی حفاظت، آزادی کی جدوجہد کرنے والوں کا فرض ہے۔ جن کی حفاظت کے لیے جدوجہد کی جا رہی ہے، وہی موت کے گھاٹ اترتے رہیں تو یہ تو دشمن کے ہاتھ مضبوط کرنے والی بات ہوئی۔ اگر جنگی نقطہ نظر سے ہم کمزور ہیں اور صاف نظر آرہا ہے کہ بمبار جہازوں کے مقابلے میں چند راکٹ کچھ حیثیت نہیں رکھتے تو جدوجہد کو قانونی جنگ میں تبدیل کردینا چاہئیے ۔ قائداعظم کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ انہوں نے طویل جدوجہد کی ۔ اس طرح کہ برطانوی حکومت کو مذاکرات پر مجبور کیا۔ بہر طور اس نکتہ نظر سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔

دوسرا پہلو یہ ہے کہ مسلمان ملکوں کا بالعموم، اور عرب ملکوں کا بالخصوص کیا کردار ہے؟ کیا وہ فلسطینیوں کی حمایت کر رہے ہیں؟ اس کا جواب حالیہ تاریخ سے واقف لوگوں کے لئے مشکل نہیں ہے۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ عرب ممالک کا کردار ناقابل اعتبار اور دوغلا رہا ہے۔ خفیہ تعلقات اسرائیل سے تقریبا سب نے رکھے ہوئے ہیں ۔ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ مراکش کے بادشاہ کے باڈی گارڈ اسرائیل سے تربیت پاتے رہے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ جنرل ضیا الحق جب برگیڈئیر تھے تو ان کو اردن میں فلسطینیوں کو "سبق" سکھانے پر حکومت اردن کی طرف سے معمور کیا گیا تھا۔ یہ "سبق" انہوں نے کامیابی سے سکھایا۔ قطر اور بحرین میں امریکی فوجی تعینات ہیں۔ عراق پر حملے یہیں سے ہوتے تھے۔ کویت اپنی بقا کے لیے امریکا کا شکرگزار ہے کہ صدام کے خونی پنجے سے امریکہ ہی نے اسے چھڑایا تھا۔ سعودی عرب میں امریکی افواج موجود ہیں۔ اسامہ بن لادن کا سعودی حکومت سے جھگڑا ہی اسی وجہ سے ہوا تھا۔ اسامہ کا مطالبہ تھا کہ امریکی افواج کو مقدس سرزمین سے نکال باہر کر دیاجائے۔ عراق پالیسی بنانے میں خود مختار ہی نہیں۔ شام شکست و ریخت سے دوچار ہے اور وہاں مسلمان مسلمانوں کا خون بہا رہے ہیں۔ لیبیا ابھی ابھی لہو کی نہر سے گزرا ہے اور اس حال ہی میں نہیں کہ ادھر ادھر دیکھے۔ رہے عرب مسلمان ۔۔۔۔۔ تو ایران اور عرب شدید اختلافات کے شکار ہیں۔

شام ہی کے معاملے کو لے لیجئے۔ ایران بشارالاسد کا حامی ہے اور عربوں کی اکثریت باغیوں کے ساتھ ہے۔ پاکستان افغانستان میں امریکہ کا[سرکاری سطح پر] طرف دار ہے جب کہ پاکستانی عوام دوسری طرف ہیں۔ یوں بھی پاکستان کے اندر عدم و استحکام کا دور دورہ ہے۔ کراچی اور بلوچستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اور پاکستانی افواج جس طرح وزیرستان میں الجھی ہوئی ہیں، اس پس منظر میں پاکستان فلسطین کے لیے کیا کرسکتا ہے؟ رہ گیا ترکی ۔۔۔۔۔ تو ترکی کی موجودہ حکومت اسرائیل کے خلاف عربوں کے ساتھ ہے لیکن عملی طور پر کیا کرے گی؟ اس سوال کا جواب دینا بہت مشکل ہے۔

اس سارے مسئلے کو اب ایک اور زاویے سے دیکھنا چاہئیے۔ ان دنوں عرب سپرنگ [عرب بہار] کی اصطلاح سننے میں بہت آرہی ہے۔ اس سے مراد عرب دنیا میں وہ تبدیلی ہے جو تیونس سے شروع ہوئی اور لیبیا سے ہوتی ہوئی اور مصر میں رونما ہوئی اور اب شام اس سے گزر رہا ہے۔ دو دن پہلے کی خبر ہے کہ اردن میں بھی بادشاہ کے خلاف احتجاجی سلسلہ شروع ہوگیا ہے ۔ عرب ملکوں کے حکمران عزت سے اقتدار نہیں چھوڑتے۔ قذافی، زین العابدین اور حسنی مبارک عبرت کی درد ناک مثالیں ہیں۔ بشارالاسد اپنے انجام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس کے مقابلے میں اسرائیل کو دیکھیں۔ باقاعدگی سے الیکشن ہوتے ہیں۔ سب کچھ پارلیمنٹ کے اختیار میں ہے، تین چار سال سے زیادہ کوئی وزیراعظم کرسی سے چمٹتا نہیں دکھائی دیتا۔ ایک نظام ہے جو ہموار طریقے سے اپنے راستے پر چل رہا ہے۔"اسرائیل بہار" کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔ اس میں شک نہیں کہ امریکا اسرائیل کی پشت پر کھڑا ہے۔ لیکن یہ ماننا پڑے گا کہ اسرائیل، اس کے جواب میں، امریکہ کا دست بدست غلام نہیں ہے۔ کئی بار ایسا ہوا کہ اسرائیل نے امریکہ کے "احکام" ماننے سے انکار کر دیا۔

تاریخ بہت ظالم ہے۔ جو کچھ اس کے صفحات پر رقم ہو جاتا ہے، مٹ نہیں سکتا۔ اسرائیل کا پودا عربوں نے خود لگایا تھا کہ ترکوں کی غلامی سے نجات پاسکیں ۔ اردن کے شاہ حسین کے دادا نے اس میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ یہ نجات مہنگی پڑی۔ یہ بھی تاریخ کا عجوبہ ہے کہ آج وہی ترکی عربوں کا سب سے بڑا حامی ہے۔ دلدر بہت سے ہیں مسلمان ممالک تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، جمہوریت ۔۔۔۔۔۔۔ ہر شے میں پیچھے ہیں۔ بھارت ہو یا اسرائیل، مسلمان ممالک سے کوسوں آگے ہیں۔ احتجاج کمزوروں کا ہتھیار ہے۔ طاقت ور طاقت استعمال کرتا ہے۔

ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

بہ شکریہ روزنامہ دنیا

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید