تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ہندو ثقافت پر مبنی ڈراموں پر کوئی اعتراض نہیں، لیکن
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 3 صفر 1434هـ - 17 دسمبر 2012م KSA 08:04 - GMT 05:04
ہندو ثقافت پر مبنی ڈراموں پر کوئی اعتراض نہیں، لیکن
ایک زمانہ تھا جب پاکستان کی فلم انڈسٹری نئی ہونے کے باوجود اتنی عمدہ فلمیں بناتی تھی کہ انڈیا کے سینمائوں میں انڈین فلموں کا بزنس ٹھپ کر دیتی تھیں۔ علائوالدین کی شاہکار فلم ”کرتار سنگھ“ اس کی ایک چھوٹی سی مثال ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پاکستانی فلم انڈسٹری نے نئے آئیڈیاز کی جگہ چربہ فلموں کے مرکزی خیال سے فلمسازی شروع کر دی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فلم انڈسٹری کا زوال شروع ہو گیا۔ اگرچہ بہترین بزنس کرنے والی فلمیں بھی وجود میں آتی رہیں‘ ”چوڑیاں“ کی کامیابی کوئی دور کی بات نہیں ہے لیکن بدقسمتی سے فلم انڈسٹری بقول علائوالدین ”اپنی جہالت پر گھمنڈ کرنے لگی“ جب تک سلطان راہی زندہ رہا‘ فلموں کا بزنس پاکستان کی حد تک بہت شاندار رہا سلطان راہی کی وفات نے پاکستان کی فلم انڈسٹری کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا اور ابھی تک ہماری فلم انڈسٹری اس قابل نہیں ہوئی ہے کہ کم از کم پاکستان کے تیس چالیس سینمائوں کا پیٹ بھر سکے۔ سینما انڈسٹری سے لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہے انڈین فلموں کی درآمد نے وقتی طور پر سینمائوں میں بیروزگاری نہیں پھیلنے دی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ فلم کی دنیا کم از کم ان فلموں سے کچھ تو سیکھے جو صرف دو ہفتوں میں پاکستانی کرنسی میں اڑھائی ارب روپے کا بزنس کر رہی ہیں۔ اب بزنس میں ستر کروڑ روپے غیر ممالک فلموں کی نمائش سے حاصل ہوئے۔ جس کا صاف مطلب ہے کہ اب دنیا میں اردو فلم کی اچھی خاصی مارکیٹ پیدا ہو چکی ہے اور اگر پاکستانی فلمساز تخلیقی فلمسازی کریں تو پاکستان سے زیادہ منافع انہیں دنیا کے دوسرے ممالک میں فلم کی نمائش سے حاصل ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں ٹیلی ویژن کے چینلز بڑھتے جا رہے ہیں۔ ہر کوئی اپنے اپنے پسندیدہ چینل پر اپنا پسندیدہ پروگرام دیکھتا ہے ”وقت ٹی وی“ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔ ایک زمانے میں پی ٹی وی کا نعرہ تھا کہ یہ فیملی چینل ہے لیکن آج اگر پی ٹی وی خود سروے کرائے کہ پاکستان کا سب سے مقبول فیملی چینل کون سا ہے تو وہ بھی حیران رہ جائے گا کیونکہ زیادہ ووٹ ”وقت ٹی وی“ کو حاصل ہوں گے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ پی ٹی وی عوام سے بجلی کے بلوں میں ماہانہ پینتیس روپے جمع کر کے سال میں اڑھائی ارب روپے جمع کر کے فضول خرچی اور شاہ خرچی میں اڑا دیتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ اب پی ٹی وی کا ڈرامے کا معیار بھی ماضی جیسا نہیں رہا جس کا فائدہ نئے چینلز اٹھا رہے ہیں ۔

اب اتنے سارے چینلز نے ایک دوسرے سے بازی لے جانے کیلئے نئے کام تو کرنے ہیں۔ کچھ عرصہ تک دستور تھا کہ انڈیا کے بور کر دینے والے ڈرامے دکھائے جا رہے تھے۔ تمام ڈراموں میں ہندو ثقافت کی بھرپور عکاسی ہوتی ہے۔ پاکستانی خواتین میں اس کا بہت ”کریز“ تھا لیکن پھر تمام خواتین ایک جیسی ثقافت دیکھ کر پاکستانی ڈراموں کی طرف لوٹ آئیں۔ لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کی سربراہ ڈاکٹر انجم ضیاءکے پی ایچ ڈی کے مقالے کا عنوان یہی تھا اور بہت اچھی ریسرچ کی تھی۔

حال ہی میں ایک چینل سے ترکی ڈرامہ عشق ممنوع مقبولیت حاصل کر گیا ہے‘ اس ڈرامے کو اردو میں ڈب کیا گیا ہے اور اس کی مقبولیت دیکھ کر دوسرے چینلز بھی اب ترکی ڈرامے اردو میں ڈب کر کے شروع کر رہے ہیں لیکن پرائیویٹ پروڈیوسروں نے اس پر خوب احتجاج کرنا شروع کر دیا ہے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اس طرح ان کے سستے بنائے ہوئے ڈرامے پاکستانی ٹی وی چینلز مہنگے داموں نہیں خریدیں گے۔ ویسے بات ہے تو سچ کیونکہ اکثر پرائیویٹ ڈرامہ پروڈیوسر چند بڑے آرٹسٹوں کو تو وقت پر منہ مانگے معاوضے کی ادائیگی کر دیتے ہیں لیکن چھوٹے فنکاروں سے جو وعدہ کیا جاتا ہے اس سے بہت کم معاوضہ ادا کیا جاتا ہے جس کا پیمرا کو نوٹس لینا چاہئے۔

بہ شکریہ روزنامہ نوائے وقت

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند