تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
نادیدہ ہاتھ کیا چاہتے ہیں؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 29 ربیع الثانی 1434هـ - 12 مارچ 2013م KSA 13:41 - GMT 10:41
نادیدہ ہاتھ کیا چاہتے ہیں؟

پاکستانی قوم یاد رکھنے اور فراموش کرنے دونوں میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ افراط و تفریط کی عکاس اسی قومی روش کا مظاہرہ 9 مارچ کو لاہور میں دیکھنے کو ملا جب ایک چھبیس سالہ عیسائی کی شان رسالتﷺ میں مبینہ گستاخی پر ہزاروں مشتعل افراد نے مسیحی بستی پر حملہ اور 170 کے قریب مکانات ایک چرچ اور متعدد دکانوں کا نذر آتش کر دیا۔


حسن اتفاق کہئے یا منظم منصوبہ بندی کہ جوزف کالونی کے واقعہ والے روز پاکستانی وزیراعظم نے اقتدار کی بہار کا مزا لوٹنے کا آخری موقع بھی ضائع نہیں کیا۔ بھارت میں اجمیر شریف کی درگاہ پر پاکستانی وزیر اعظم راجا پرویز اشرف کی حاضری کی خواہش پر جس منفی ردعمل کا اظہار مرجع خلائق درگارہ کے متولیوں نے کیا اس کا بغور مطالعہ کیا جائے تو شاید جوزف کالونی کے واقعے کا اصل محرک اور ملزم تلاش کرنے میں مدد مل سکے۔


خواجہ غریب نواز کے سجادہ نشين زین العابدین نے یہ کہ کر راجا جی کے استقبال سے انکار کیا کہ پاکستان کی فوج نے ہندوستانی سپاہیوں کا سر قلم کر کے بہت برا کیا، لہٰذا وہ درگاہ میں ان کی آمد پر ان کا روایتی استقبال نہیں کریں گے۔ بہ قول سجادہ نشین پاکستان ایک اسلامی مملکت ہے مگر اس کے فوجیوں نے مبینہ طور پر جو کیا وہ اسلام کی تعلیمات کے منافی ہے۔ اسی سانس میں متولی درگاہ خواجہ غریب نواز یہ بھی کہ گئے کہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ مظالم کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ اسی وجہ سے مزار انتظامیہ بطور احتجاج پاکستانی وزیر اعظم کے دورے کا بائیکاٹ کا اعلان کرتی ہے۔


پنج سالہ جمہوریت کو سیاسی انتقام کا نام دیکر اقتدار کے مزے لوٹنے والی حکومت کے پاس اتنی فرصت اور فراست کہاں کہ وہ بین السطور پڑھ سکے، تاہم انہیں یہ شرح صدر ضرور ہے کہ اگلے تین ماہ میں انتخابات کا میلہ سج بھی گیا تو شاید عوام سے مزید 'جمہوری انتقام لینے کا موقع ہاتھ نہ آئے۔ اس لئے وہ اپنی بساط کے مطابق ہر چیز پر اپنے نام کی تختی لگانے کے جنون میں مبتلا ہیں۔ تین روز کی مہمان حکومت کو عوام کے جان و مال سے کتنی دلچپسی ہے، اس کا اندازہ مغربی صوبے بلوچستان کے صدر مقام کوئٹہ میں دو ماہ سے کم عرصے میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کے نتیجے میں تقریبا دو سو افراد کی ہلاکت پر ایوان اقتدار کی معنی خیز خاموشی سے لگایا جا سکتا ہے۔ اسی خاموشی کا نتیجہ ہے کہ داخلی محاذ پر پانی جانے والی کمزوریوں کو اپنے حق میں استعمال کرنے کے ماہر بیرونی عناصر کوئٹہ میں دو سو افراد کے خون سے ہاتھ رنگنے کے بعد کراچی کو بیروت بنانے چل دیئے۔


پاکستان کی معاشی شہ رگ میں روزانہ ایک درجن افراد کی ٹارگٹ کلنگ سے ملک کو بدامنی کے حوالے کرنے والے نادیدہ ہاتھوں کے وہ مقاصد حاصل نہیں ہو رہے تھے چنانچہ اس مرتبہ فرقہ ورانہ گشیدگی کو ہوا دینے کے لئے شیعہ اکثریتی کالونی عباس ٹاؤن کو لرزہ خیز دھماکے تباہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس ہولناک واقعے میں 80 سے زائد افراد مارے گئے تھے۔ اسے محض اتفاق ہی کہا جا سکتا ہے کہ عباس ٹاؤن بم دھماکے والے دن ملک کے سب سے بڑے کاروباری مرکز کی تمام تر پولیس 'آؤٹ گوئنگ' حکومت کی 'ویری ان' صوبائی مشیر اطلاعات شرمیلا فاروقی کی منگنی کی تقریب میں فول پروف سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنانے میں مگن تھی۔


فرقہ واریت کا عفریت پاکستان کے لئے ہمیشہ سے بڑا چینلج رہا ہے۔ ماضی میں اس 'کارگر ہتھیار' کو پس چلمن حکمرانی کرنے والوں نے کمال خوبی سے استعمال کیا ہے۔ یہ کھلا راز ہے کہ فوجی آمریت کے خلاف سیاسی جماعتوں کے اتحاد تحریک بحالی جمہوریت کو کمزور کرنے کے لئے جان بوجھ کر فرقہ وارانہ اور لسانی تنظیموں کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ یہ تنظیمیں آہستہ آہستہ بندوق برداروں کے گروہوں میں تبدیل ہو گئیں جنہیں مبینہ طور پر ریاستی ادارے بھی امداد فراہم کرتے رہے۔ ماضی کی تمام کمزور سیاسی حکومتیں ان بندوق برداروں کا کچھ نہ بگاڑ سکیں اور پھر جب گیارہ ستمبر 2001ء کے بعد جنرل پرویز مشرف نے امریکا کے سامنے سرنڈر کیا اور اپنے فوجی اڈے امریکہ کو دے دیئے تو یہ بندوق بردار ریاست کے خلاف کھڑے ہو گئے، اس کا خمیازہ پوری قوم کو نہ ختم ہونے والی دہشت گردی اور کفر کے فتووں کی ہول سیل کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ کوئٹہ اور کراچی میں فرقہ وارانہ گشیدگی پھیلانے میں ناکامی کے بعد شکست خوردہ ان عناصر نے عوام کے مذہبی جذبات کو بھڑکانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔


بلاشبہ کسی بھی مسلمان کے لیے رسالت مآب ﷺ کی عزت اور ناموس سے بڑھ کر کوئی چیز قابل تکریم و احترام نہیں ہو سکتی۔ توہین رسالت کے سدباب کے لیے باقاعدہ قانون موجود ہے لیکن مشاہدے میں آیا ہے کہ بیشتر اس کا غلط استعمال کیا جاتا ہے۔ بعض لوگ ذاتی دشمنی کا بدلہ لینے کے لیے مخالفین کو توہین رسالت کے مقدمات میں پھنسواتے ہیں اور زیادہ تر اقلیتی برادری کے افراد ایسے مقدمات کا نشانہ بنتے ہیں۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ ان قرائن سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر جوزف کالونی میں مذہبی کشیدگی کے آثار دیکھ کر بلا تاخیر احتیاطی تدابیر اختیار کی جاتیں تو شاید اتنا بڑا حادثہ پیش نہ آیا ہوتا۔


اسلام کی پوری اسلامی تاریخ اقلیتوں کے ساتھ مثالی حسن سلوک سے عبارت ہے۔ پاکستان اسی روایت کا تسلسل ہے چنانچہ اس کے قیام سے تین دن پہلے دستور ساز اسمبلی سے اپنے خطاب میں بانی پاکستان قائد اعظم نے واضح کردیا تھا کہ اس ملک میں مذہب کی بنیاد پر کسی کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک روا نہیں رکھا جائے گا۔ قائد نے اس طرح اسلامی اصولوں ہی کی ترجمانی کی تھی چنانچہ 14 اگست 1947ء کوجب ماوٴنٹ بیٹن نے اپنے خطاب میں اس توقع کا اظہار کیا کہ پاکستان میں غیر مسلموں کے ساتھ رواداری کا وہی سلوک کیا جائے گا جس کی مثال ہندوستان میں مغل حکمراں اکبر نے قائم کی تھی، تو قائد نے واضح کردیا کہ غیر مسلموں سے حسن سلوک کی تعلیم ہمیں اپنے نبی سے ملی ہے۔


ان واضح اسلامی تعلیمات کے باوجود کچھ عرصے سے ایسے ناگوار واقعات وقتاً فوقتاً پیش آ رہے ہیں اور ہمارے لیے شرمندگی کا باعث بن رہے ہیں۔ پاکستان میں کسی اقلیت کے ساتھ ظلم و زیادتی قیام پاکستان کے مقاصد کے منافی ہے اور اس کے مرتکب سخت سے سخت تادیبی کارروائی کے مستحق ہیں۔ اس صورت حال سے نجات پانے کے لیے ضروری ہے کہ ان عوامل کا جائزہ لیا جائے جو اجتماعی ڈسپلن کی تباہی کا سبب بن چکے ہیں۔ ہمیں مغربی استعمار کے عزائم سے بھی خبردار رہنا چاہیے جو مختلف مسلم ممالک کے خلاف جارحیت کا جواز پیدا کرنے کے لیے ایسے واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے اور عالمی سطح پر یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ مسلم معاشروں کے تہذیبی حالات باعث تشویش ہیں۔ اسی مقصد کے تحت مسلم ممالک میں پیش آنے والے ایسے واقعات کے خلاف میڈیا پر طوفان برپا کر دیا جاتا ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند