تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
طالبان سے مذاکرات کیوں؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 2 جمادی الاول 1434هـ - 14 مارچ 2013م KSA 15:50 - GMT 12:50
طالبان سے مذاکرات کیوں؟

امسال 28 فروری کی آل پارٹیز کانفرنس جس میں ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے شر کت کی،طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے اور اس سلسلے میں ایک گرانڈ جرگے کو اختیار دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ ہماری آل پارٹیز کانفرنس ایک میکنزم کے ساتھ وابستہ جو فاٹا اور ملک بھر میں امن لانے کے لئے روڈ میپ فراہم کرتا ہے لیکن اس سے پہلے کہ میں میکنزم کو واضح کروں میں یہ کہنا چاہوں گا کہ ہم طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لئے کیوں متفق ہوئے۔ ہماری ماضی کی غیر متوازن بیرونی پالیسیوں کی وجہ سے ملک بالخصوص قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندی اور خودکش حملے 2001ء کے بعد شروع ہوئے۔ قبائلی علاقوں میں بدامنی کے خلاف فوجی کارروائیاں مختلف وقتوں میں کی گئی ہیں لیکن بدقسمتی سے پچھلے پانچ سالوں سے جاری فوجی کارروائیاں مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پرکافی موثر ثابت نہ ہو سکیں۔فاٹا کا علاقہ جغرافیائی طور پر ایک گوریلا جنگ کے لئے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔ ماضی میں بھی سرد جنگ کے دوران سوویت یونین کی افواج کے خلاف فاٹا کو فرنٹ لائن کے طور پر استعمال کیا گیاہے، فاٹا اور اس کے ساتھ افغانستا ن کے ملحقہ سرحدی علاقے جن میں پکتیا، پکتیکا، خوست ،کنڑ اور نورستان شامل ہے، عسکریت پسندوں کے لئے مکمل پناہ گاہوں کے طور پر استعمال ہوتی رہیں۔ عسکریت پسندکسی بھی فوجی کارروائی کے نتیجے میں ایک علاقے سے دوسرے علاقے سرحد پار چلے جاتے ہیں۔

2014ء کے بعد عسکریت پسندوں کے لئے یہ علاقہ شاید اور وسیع ہو جائے کیونکہ انتظامی طور پر افغانستان کے جنوب اور جنوب مشرقی علاقے جو فاٹا کے ساتھ منسلک ہیں، غیر موثر رہے ہیں اور اگر افغان طالبان کے کنٹرول میں یہ علاقے آجاتے ہیں تو عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت پر قابو پانا ایک بڑا چیلنج ہو گا ۔ یاد رہے کہ افغانستان میں 1996ء اور2001ء کے درمیان پاکستان کی انتہائی مطلوب شخصیات وہاں پناہ لیتی رہی ہیں۔فو جی کارروائی کی غیر موثریت کی ایک وجہ یہ بھی رہی ہے کہ ماضی قریب میں فاٹا میں بعض عسکریت پسند پاکستان کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی کے اصول پر قائم رہے ہیں۔

لیکن فاٹا میں کسی بھی ممکنہ جامع فوجی کارروائی سے پہلے ہمیں افغانستان میں حاصل کیا ہوا سبق بھول نہیں جانا چاہئے۔ اوباما انتظامیہ نے سرج (Surge)کے نام پر2009 ء میں 30ہزار سے زائد فوجی افغانستان بھیجے تاکہ افغان طالبان کی ٹیکنیکل اور آپریشنل صلاحیت کو کمزور کر سکے لیکن افواج کی تعداد بڑھانے کے باوجود طالبان کو کمزور نہ کر سکے کیونکہ کرزئی حکومت سو فیصد کارروائی پر رضا مند نہیں تھی۔ ان کے بقول طالبان کی سرحدوں سے باہر پناہ گاہیں تھیں اورامریکہ مزید خون اور پیسوں کی قربانی دینے کے لئے تیار نہیں تھا۔ تقریباً یہی صورتحال فاٹا کے حوالے سے پاکستان میں بھی ہے۔ حکومت کی مزید قربانی اور اخراجات دینے کی سکت کمزور ہو گئی ہے۔ فاٹا کی سر حدوں سے باہر افغانستان میں عسکریت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں اور پاکستانی ریاست کی اوباما انتظامیہ کے مقابلے میں عسکریت پسندوں کے خلاف اسٹرٹیجک اور ٹیکنیکل صلاحیت کمزور ہے۔ تقریباً 120 ریڈس مربع کلو میٹر میں عسکریت پسند کسی بھی وقت کسی بھی ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اب تو ہمارے وزیر داخلہ کہتے ہیں کہ دوسرے عسکریت پسند گروپوں کے ساتھ طالبان کراچی میں بھی آسانی سے ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

دوسری طرف 2014ء میں امریکی انخلاء کے لئے راستہ ہموار کرنے کے لئے افغان طالبان سے مذاکرات کا عمل شروع کرنے کی کوششیں تیز تر ہو گئی ہیں۔ ملک میں دوسری بغاوت جو جھنڈا،آئین اور قانون کو نہیں مانتی کے مقابلے میں طالبان کی بغاوت ملکی نظام میں تبدیلی کے لئے بظاہر شروع کی گئی ہے۔ اب افغان طالبان اور بلوچ عسکریت پسندوں سے اگر مذاکرات کرنا جائز ہے تو پاکستانی طالبان کے ساتھ بھی امن کے لئے بات چیت کرنے میں کوئی حرج نہیں ان سب باتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بالفرض محال اگر جامع فوجی کارروائی ہو بھی جاتی ہے تو ملک میں سیاسی قیادت فوجی حل کے حق میں نہیں ہے جو فوج کی بڑی منصوبہ بندی کو مشکل بنا دیتی ہے۔

ان مذاکرات کے لئے جو گرانڈ جرگہ نے آل پارٹیز کانفرنس کی توثیق کے بعد کام شروع کیا ہے۔ بہت جلد متعلقہ فریقین کے ساتھ رابطے کرنے کی کو ششیں تیز کر دے گی۔ حکومت اور عسکریت پسندوں کے Redlines کے حوالے سے اپنی تجاویز مرتب کرے گی۔ پشتون روایات کے مطابق جرگہ دونوں اطراف کے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہو ئے کوئی درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کرے گا۔ یہ جرگہ جو گزشتہ سال جولائی میں تقریباً 1200 قبائلی عمائدین کے ایک بڑے جرگے نے قائم کیا تھا اور جس کی حتمی اعلامیے کی منظوری تقریباً 4000 قبائلی اجتماع نے پشاور میں دی تھی، مختلف مکاتب فکر کے نمائندوں کو شامل کر سکے گا۔

اے پی سی نے وعدہ کیا ہے کہ آئندہ نگران اور اس کے بعد بننے والی حکومتیں گرانڈ جرگے کی کوششوں کی حمایت کریں گی۔ یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ فاٹا براہ راست صدر پاکستان کے زیر کنٹرول علاقہ ہے اور صوبے کے لئے گورنر صدر پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے فاٹا کے چیف ایگزیکیٹو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس لئے امن کے عمل کے تسلسل میں حکومتوں کا بدلنا رکاوٹ نہیں بن سکتا۔

عسکریت پسندی سے نمٹنے کے لئے پاکستان کو ایک موثر روڈ میپ بنانے کی ضرورت آج نہیں کل تھی۔اب وقت ضائع کئے بغیر تمام فریقین کو امن کی جانب بڑھنے کے لئے کو ششیں تیز کر نی چاہئیں ۔ اگر ہم آئندہ آنے والے مہینوں میں اس عظیم مقصد میں کامیاب ہو گئے تو ہزاروں شہریوں اور بے شمار سپاہی شہداء کا خون رائیگاں نہیں گیا اور اگر ایسا ممکن نہ ہوا تو ملک میں خلفشار، افراتفری اور کشمکش کی صورتحال جاری رہنے کا خدشہ ہے اور ہم سب خاموش تماشائی ہوں گے ۔

مضمون نگار جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ اور کشمیر کمیٹی کے چیئرمین ہیں۔ ان کا یہ کالم روزنامہ جنگ کی چودہ مارچ کی اشاعت میں پہلے شائع ہو چکا ہے

 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند