تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
گڈن پولیا سے شاہ فیصل تک
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 6 جمادی الاول 1434هـ - 18 مارچ 2013م KSA 08:58 - GMT 05:58
گڈن پولیا سے شاہ فیصل تک

ایک یہودی سائنسدان ہے ، نام ہے اس کا گڈن پولیا، وہ اپنی کتاب”باڈی کاؤنٹ“میں لکھتا ہے کہ 1950سے 2005ء تک پچپن سال کے عرصے میں ایسی اموات جنہیں جنگی حالات، قحط ، ناقص غذا، ناقص پانی ، نامناسب طبی امداد وغیرہ سے بچایا جا سکتا تھا ان اموات کا تخمینہ ایک ارب تیس کروڑ افراد ہے۔ ان ناگہانی اموات کا شکار ہونے والوں میں مسلمانوں کی تعداد ساٹھ کروڑ ہے یعنی آدھی اموات۔ گڈن پولیا کے مطابق ، دنیا ان ڈیڑھ ارب افراد کوبچا سکتی تھی لیکن ایسا نہیں ہو سکا ۔ تمام اقوام ، مذاہب ایک جانب اور مسلمان ایک جانب۔ پچھلے 70سالوں میں اگر عراق، افغانستان ، پاکستان، نائیجیریا، ایران میں امن کے نام پر ہونے والی ہلاکتوں کو شامل کر لیا جائے ان میں ناقص منصوبہ بندی کے سبب قدرتی آفات کی ہلاکتوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ تعداد ایک ارب کے قریب پہنچ جاتی ہے۔

گڈن پولیا تو یہودی ہے پھر بھی سچ بول گیا لیکن اگر ایمانداری سے دیکھا جائے تو یہ ناگہانی اموات ایک جانب جتنی بڑی تعداد میں خود مسلمانوں نے مسلمانوں کو ماراوہ ایک جانب، عراق، ایران جنگ، شام مصرتصادم، سانحہ مشرقی پاکستان ، افغانستان پاکستان کشمکش سب خون سے سرخ ہیں اور یہ خون کسی اور کا نہیں خود مسلمان کا ہے۔ افغانستان میں شمالی اتحادی اور طالبان نے زمین پر تسلط کے لئے ایک دوسرے پر جیسے ظلم ڈھائے خود انسانیت کانپ کے رہ جاتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں پچھلی ایک صدی سے امریکہ ایک غیر متنازعہ سپر پاور ہے۔ تیسری دنیا میں اس نے اس خوبصورتی سے تانے بانے بن رکھے ہیں کہ وہاں عوامی حکومتیں بن سکتی ہیں نہ فلاحی ریاستیں، وہ مسلمان حکمرانوں کوگوبر سے بھی زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔ ناگہانی اموات اپنی جگہ وہ جب چاہتا ہے جس ملک میں چاہتا ہے اپنی مرضی کا انقلاب برپا کر دیتا ہے۔ اس کی تازہ مثال خلیج کے کچھ ملکوں میں آنے والا عوامی رد عمل ہے جو ہر طرح سے ڈیزائن تھا۔ سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجرنے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا ہے کہ امریکہ نے بائی ڈیزائن تیل پیدا کر نے والے13 ممالک پر اپنے تسلط کو یقینی بنایا ہے اور اسی ڈیزائن کے تحت ایک آدھ مسلم حکمران کو نشانہ عبرت بنا دیا جاتا ہے۔

پاکستان کو امریکہ کی ایک ایسی ریاست کہا جائے جسے امریکہ غریب جورو کی طرح استعمال کرتا ہے لیکن اس کے حقوق پورے کرنا تو دور ان کا سوچنا بھی گناہ سمجھتا ہے تو غلط نہ ہو گا۔ کہتے ہیں حرارت زندگی کی علامت ہے، توانائی قوموں کی بقا ء کی علامت ہے۔ امریکہ نے آج تک اپنے تیل کے ذخائر کو ہاتھ تک نہیں لگایاانہیں برے وقت کے لئے بچا رکھا ہے۔ دوسری جانب ہم ہیں اندھیروں میں ڈوبی قرون اولیٰ کی ایک معدوم ہوتی نسل ، جسے خود کش حملوں میں مارد یا جائے کوئی فرق نہیں پڑتا۔بھوک ،مہنگائی مار ڈالے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر آپ ایک زندہ جاگتا انسان کا بچہ خریدنا چاہتے ہیں از راہ کرم گڑھا موڑ وہاڑی چلے جائیں وہاں اللہ دتہ اپنے بچوں کو بیچنے کے لیے آپ کا منتظر ہے۔ آپ اپنی مرضی کی قیمت دے کر اس کا بچہ خرید سکتے ہیں۔ کیا ملک ہے اس طرح تو مہذب معاشروں میں کتے بلے نہیں بکتے۔ ہم وہ معدوم ہوتی قوم ہیں جو ڈرون حملوں میں رفتہ رفتہ مرنا پسند کرتے ہیں لیکن ”چیں“ بھی نہیں کرتے کہ آقا کو یہ بات پسند نہ آئی تو کیا بنے گا۔ صدر آصف علی زرداری نے جاتے جاتے ایران سے گیس معاہدہ کر لیا ہے۔

سوچتا ہوں یہ انہیں کیا سوجھی یہ نہیں کہ یہ معاہدہ توڑ نہیں چڑھ سکتا، پاکستان کو گیس نہیں مل سکتی اور اس معاہدے کے ذریعے دو ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم میں داخل نہیں ہو سکتی ۔سب ہو سکتا ہے لیکن اس کے لئے جتنا ہمیں ثابت قدم رہنا ہو گا ، کیا وہ بھی ہو سکتا ہے؟کسی سردار سے کسی نے پوچھا کہ پنگے کا مطلب کیا ہوتا ہے، کچھ لمحے سوچتا رہا اور پھر کہنے لگا کہ بھئی مطلب تو مجھے نہیں پتا لیکن بندہ زندگی میں ایک بار لیتا ضرور ہے۔ امریکہ بہادر کو ہماری ادا پسند نہیں آئی، شاید اس اد ا میں کہیں کہیں غیرت کی جھلک نظر آتی ہے۔ میں پہلے ہی عرض کر چکا ہوں کہ ہم امریکہ کا وہ افیئر ہیں جسے وہ انجوائے تو کرتا ہے ”اون “ نہیں کرتا اور ہمارے حکمران اپنے کاندھوں میں اپنی خواہشات کے چھوٹے چھوٹے پرنے رکھے انکل جی کو خوش کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ آنجہانی ہوگو شاویز تمام زندگی امریکہ کی نظروں میں کھٹکتے رہے لیکن انہوں نے وینزویلا کو تعلیم، صحت اور پیٹرول کی دولت سے مالا مال کر دیا۔

فیڈل کاسترو کی سرحد تو امریکہ سے ملتی ہے ان کا تو امریکہ اپنی طاقت سے کچھ نہ بگاڑ سکا، ہم تو امریکہ سے ہزاروں میل دور بیٹھے ہیں۔ قوموں کی زندگی میں حیا ، شرم ا ور غیرت بہت اہمیت رکھتی ہیں اور شاید یہ اوصاف ہم میں کم کم ہی ہیں۔ ورنہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وفاقی کابینہ کا اجلاس جاری ہو اور جنرل کولن پاؤل حکم دے کہ جنرل مشرف سے کہو سب کچھ چھوڑ کر اس کا فون سنے اور پھر وہ ایک سخت دھمکی دیکر فون بند کر دے۔ ورنہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ امریکہ کے بلانے پر وزیراعظم نواز شریف وائٹ ہاؤس پہنچ جائیں اور دوسرے فریق بھارت کا وزیر اعظم اپنی مصروفیات کا کہہ کر آنے سے انکا رکر دے۔ایک حکمران سے کیا شکوہ خود ہم عوام کیا محکومی میں کسی سے کم ہیں۔ آج امریکہ کے خلاف مظاہر ہ ہو تو دو سو لوگ جمع نہیں ہوں گے۔ لیکن امریکہ سفیر آج ویزے دینے کا اعلان کر دے تو سونامی پلس سے بھی ٹرپل پلس ہو جائیں گے۔ ہم وہ قوم ہیں کہ اگر کوئی ہماری بیٹی کو اٹھا لے جائے، بگرام جیل میں اس کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کرے تو ہم چپ رہتے ہیں۔ کوئی غنڈا ہمارے سامنے ہمارے شہریوں کو گولیوں سے بھون ڈالے ہم اسے پروٹوکول کے ساتھ باہر بھجوا دیتے ہیں، اسے دل آزاری سے بچانے کے لئے جیل میں ہونے والی اذان کی آواز کو کم کروا دیتے ہیں اور وہ جاتے ہوئے ہمارے منہ پر قصاص کا تھپڑ مار کر نکل جاتا ہے۔ یہ ایران گیس پائپ لائن منصوبہ ہمارے بس کا روگ نہیں نہ جانے صدر زرداری کے دماغ میں کیا سمائی کہ انہوں نے اتنے بڑے فیصلے اچانک کر دئیے۔ گوادر چین کے حوالے کرنے کا مطلب امریکہ بہادر کی ”پونچھل “ پر پاؤں رکھنا ہے۔ اب رکھ دیا تو رکھ دیا۔ ایک لڑائی کے دوران ایک شخص نے دوسرے کو نیچے گرا دیا اور خود اس پر بیٹھ کر رونے لگا۔ لوگوں نے پوچھا گرا بھی دیا، بیٹھ بھی گیا اب رو کیوں رہا ہے؟ کہنے لگا رو اس لئے رہا ہوں کہ یہ اٹھ کر مجھے مارے گا۔ اب یہ ہمارا امتحان ہے کہ اگر گرا دیا ہے تو کم از کم روئیں نہ۔ امریکی سفیر پچھلے کئی روز سے پھرکی کی طرح گھوم رہے ہیں وہ مختلف رہنماؤں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ سادہ لفظوں میں انہیں کہہ رہے ہیں کہ ” بندے “ بن جاؤ۔

ایک مسلم لیگی رہنما کا کہنا ہے کہ ن لیگ اقتدار میں آکر پاک ایران معاہدہ کا جائزہ لے گی۔ بھیا جی اگر پنگا لے ہی لیا ہے تو اس پر سٹینڈ ہی کر لیں۔ اب اس مرحلے پر قوم سے کیا درخواست کی جائے وہ تو انتخابات میں نئی قیادت منتخب کرنے جا رہی ہے۔ حیران ہوں کہ ووٹ کی پرچی پر نشان لگاتے ہوئے ہمارے ہاتھ کیوں نہیں کانپتے، ہمارا ضمیر خراٹے کیوں لینے لگتا ہے۔ کیا سادگی ہے۔ پانچ سال محرومیوں پر روتے ہیں اور پھر پانچ منٹ میں کھوکھلے منشوروں، نعروں اور وعدوں پر بیوقوف بن جاتے ہیں۔ مال روڈپر بیٹھے ایک بھکاری کا بورڈ ملاحظہ فرمائیں” حضرات شرافت سے مجھے خیرات دے دیں ورنہ ۔۔۔ورنہ میں ایک بار پھر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کو ووٹ دے دوں گا اور ہو سکتا ہے اگلی بار آپ بھی میرے ساتھ بیٹھے یہاں بھیک مانگ رہے ہوں“۔اب کیا کیا جائے ہم ہیں ہی ایسے۔

مورخین کہتے ہیں1973کی عرب اسرائیل کی جنگ میں اگر امریکہ نہ کودتا تو شاید فلسطین کا مسئلہ ہمیشہ کے لئے حل ہو جاتا۔ اس جنگ کے دوران سعودی عرب کے عظیم رہنما شاہ فیصل نے ایک دلیرانہ فیصلہ کرتے ہوئے تیل کی پیداوار کو بند کر دیا۔ انہوں نے اس موقع پر ایک عظیم بات کہی ”ہمارے آباؤ اجداد نے اپنی زندگیاں دودھ اور خشک کھجوروں پر گزاری ہمیں بھی ایسا کرنا پڑا تو کر لیں گے“ تیل کی بندش سے پریشان امریکہ نے اپنے ماہر ترین سفارت کا رہنری کسنجر کو شاہ فیصل کے پاس بھیجا ۔ مذاکرات کی ناکامی کے بعد ہنری کسنجر نے گفتگو کو جذباتی موڑ دیتے ہوئے کہا ”بادشاہ سلامت!میرا طیارہ ایندھن نہ ملنے کے سبب رن وے پر ناکارہ کھڑا ہے اسے بھرنے کا حکم دے دیں“شاہ فیصل نے جذبات سے عاری نگاہوں سے اسے دیکھا اور کہا مسٹر ہنری!میں اپنی زندگی کی آخری منزل سے گزر رہا ہوں میری بھی ایک خواہش ہے کہ میں مسجد اقصیٰ میں دو رکعت نماز نفل ادا کر سکوں، کیا آپ میری اس خواہش کو پورا کر سکیں گے؟ فیصلہ ہم نے کرنا کہ ہم نے تاریخ میں کس شناخت کے ساتھ زندہ رہنا ہے۔ فیصلے کی گھڑی آن پہنچی ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند