تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ورلڈ ایکسپو 2020ء کیلئے دبئی ہی کیوں؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 22 صفر 1441هـ - 22 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 6 جمادی الاول 1434هـ - 18 مارچ 2013م KSA 09:46 - GMT 06:46
ورلڈ ایکسپو 2020ء کیلئے دبئی ہی کیوں؟

دنیا کی سب سے بڑی نمائش ”ورلڈ ایکسپو“ ہر5 سال بعد6 ماہ کیلئے دنیا کے مشہور شہروں میں منعقد ہوتی ہے جس میں دنیا بھر کی معروف کمپنیاں اپنی نئی ایجادات متعارف کراتی ہیں اور گلوبل اکنامی کو درپیش مسائل کے حل پیش کرتی ہیں۔ ورلڈ ایکسپو میں دنیا بھر سے لاکھوں افراد شرکت کرتے ہیں جس سے میزبان ملک کو نہ صرف عالمی شہرت ملتی ہے بلکہ ایکسپو کے انعقاد سے اس کی معیشت بھی مزید ترقی کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ہر بڑے ملک کی خواہش ہوتی ہے کہ ”ورلڈ ایکسپو“ کا انعقاد اس کے ملک میں ہو۔ آئندہ ورلڈ ایکسپو 2015ء اٹلی کے شہر میلان میں منعقد ہوگی جس کا عنوان ”کرہٴ ارض کو زندہ رکھنے کیلئے انرجی کی ضرورت“ ہے لیکن ورلڈ ایکسپو 2020ء جس کا عنوان ”ذہنوں کے ملاپ سے بہتر مستقبل“ ہے اور اس میں دنیا بھر سے 25 ملین افراد کی شرکت متوقع ہے کے انعقاد کیلئے ابھی سے دنیا کے اہم ممالک جن میں دبئی (یو اے ای)، تھائی لینڈ، روس، ترکی اور برازیل شامل ہیں انتھک کوشش کررہے ہیں کہ دنیا کا سب سے بڑا ٹریڈ شو ان کے ملک میں منعقد ہو۔ دبئی اب تک ان تمام ممالک میں سب سے آگے ہے۔ دنیا میں سب سے پہلے ورلڈ ایکسپو 1851ء میں لندن میں منعقد ہوئی جس کے ہر5 سال بعد یہ ایکسپو امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، فرانس، بلجیم، جاپان، چائنا اور کوریا کے اہم شہروں میں منعقد ہوتی رہی لیکن مڈل ایسٹ، افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیاء میں ورلڈ ایکسپو کا ابھی تک انعقاد نہیں ہوسکا ہے۔ عرب امارات دنیا کے مختلف ورلڈ ایکسپو میں حصہ لے چکا ہے جبکہ اسے اسپین کے ایکسپو میں اپنے خوبصورت پویلین کے ڈیزائن پر گولڈن ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔

پاکستان اور یو اے ای فیڈریشنز کی پاک یو اے ای جوائنٹ بزنس کونسل کا مسلسل چوتھی مرتبہ چیئرمین منتخب ہونے کے بعد اس سلسلے میں حال ہی میں ایک میٹنگ کیلئے دبئی جانے کا اتفاق ہوا جہاں انہی دنوں ورلڈ ایکسپو (BIE) کی ایک اعلیٰ سطحی ٹیم4 روزہ دورے پر دبئی اور ابوظبی آئی ہوئی تھی۔ ٹیم کا مقصد دبئی میں ورلڈ ایکسپو 2020ء کے انعقاد کیلئے انفرااسٹرکچر اور سہولتوں کا جائزہ لینا تھا۔ دورے کے دوران ٹیم کے ممبران کی یو اے ای کے وزیراعظم اور دبئی کے حکمراں شیخ محمد بن راشد المکتوم اور یو اے ای کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ زید بن النہیان سے اہم میٹنگز ہوئیں جس میں دبئی کی متاثر کن جدید سہولتوں، انفرااسٹرکچر اور امن و امان کی بہتر صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے دبئی میں ورلڈ ایکسپو 2020ء کے انعقاد کیلئے سفارشات پیش کی گئیں۔ انکوائری مشن کی ٹیم نے جبل علی کے قریب دبئی ایکسپو 2020ء کے438 ہیکڑ رقبے کے سائٹ کا بھی دورہ کیا۔ اس موقع پر ایک ہزار سے زائد مقامی طلباء و طالبات نے اتحاد کی علامت کے طور پر ہاتھوں کی زنجیر سے دبئی ایکسپو 2020ء کا نشان بھی بنایا۔ قارئین! میں آج کے کالم میں دبئی میں ایکسپو 2020ء کے انعقاد کیلئے ان جدید سہولتوں کا ذکر کرنا چاہوں گا جس کی بنیاد پر دبئی ایکسپو 2020ء کی میزبانی کا صحیح حقدار ہے۔

دبئی جہاں 200 سے زیادہ ممالک کے لاکھوں باشندے مقیم ہیں بین الاقوامی تجارت و سیاحت کا مرکز اور دنیا کے تمام ممالک سے فضائی رابطے رکھنے والا کاسموپولیٹن شہر ہے جس نے گزشتہ چند دہائیوں میں حیرت انگیز طور پر ترقی کی ہے، اسی بنا پر دبئی آج دنیا میں تیزی سے ترقی کرنے والے شہروں میں سرفہرست ہے۔ دنیا بھر میں شاپنگ سینٹرز، کانفرنسز ہال اور نمائشوں کیلئے مشہور یو اے ای اس وقت عرب دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے۔ دبئی کے جبل علی پورٹس کا شمار دنیا کے چند بڑے کنٹینرز پورٹس میں ہوتا ہے۔ یو اے ای کی ایمریٹس ایئرلائنز نے نہایت کم وقت میں پوری دنیا میں اپنی پروازوں کا جال بچھا کر ایک بڑی ایئر لائن کی حیثیت اختیار کرلی ہے۔ دبئی ایئر پورٹ سے دنیا کی 150 سے زائد ایئر لائنزآپریٹ کرتی ہیں۔ دبئی کی میٹرو پبلک ٹرانسپورٹ سے ہر روز3 لاکھ 50 ہزار افراد سفر کرتے ہیں جبکہ اس میں 12 لاکھ افراد کے سفر کی گنجائش موجود ہے۔ 2012ء میں 56.5 ملین مسافروں نے دبئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے سفر کیا جو 2020ء تک بڑھ کر98 ملین تک ہونے کی توقع ہے۔ 2020ء تک دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے پروازوں کا سالانہ ٹریفک 5 لاکھ 60 ہزار تک ہوجائے گا اور اس طرح دبئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ کا شمار دنیا کے چند بڑے ایئر پورٹس میں ہوجائے گا۔ اس وقت دبئی ایئر پورٹ کے تینوں ٹرمینلز میں مسافروں کی گنجائش 60 ملین سالانہ ہے جسے مستقبل میں بڑھاکر 75 ملین سالانہ کیا جائے گا۔ اسی طرح 2016ء تک دبئی اور ابوظہبی کے ہوٹلوں میں ایک لاکھ 25 ہزار سے زائد مسافروں کے قیام کی گنجائش پیدا کی جائے گی جبکہ ہوٹل اپارٹمنٹس کو ملاکر کل 2.3 ملین مسافر قیام کرسکیں گے۔ ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال 10 ملین سے زائد سیاحوں نے امارات کا دورہ کیا تھا۔ دبئی پہلے ہی دنیا کے نقشے پر دبئی ایئر شو، عالمی دفاعی نمائش IDEX، آئی ٹی اور الیکٹرونکس شو GITEX کے علاوہ 200 سے زائد سالانہ ٹریڈ شوز اور اسپورٹس کے عالمی مقابلے کا کامیابی سے انعقاد کرکے اپنی ماہرانہ صلاحیتیں ثابت کرچکا ہے۔

دبئی کو حقیقی معنوں میں موقعوں کی سرزمین کہا جاسکتا ہے۔ 1977ء میں، میں نے ایک بینکر کی حیثیت سے اپنے کیریئر کا آغاز دبئی سے کیا تاہم 1983ء میں بینکنگ شعبے کو خیرباد کہہ کر میں نے اپنے بھائی اشتیاق بیگ کے ساتھ دبئی میں بزنس شروع کیا جو گزشتہ 30 سالوں سے کامیابی سے جاری ہے۔ 1993ء میں وطن سے محبت اور والدہ کی خدمت کی خاطر میں اپنی فیملی کے ہمراہ پاکستان واپس آیا اور دبئی اور مراکو کے کاروبار سے کمائے گئے پیسوں سے پاکستان میں صنعتیں لگائیں اور اب ہم دبئی اور مراکو کے کاروبار کو پاکستان سے ہی چلارہے ہیں۔ پہلی دفعہ جب میں دبئی گیا تو اس وقت دبئی ریگستان تھا، دبئی کے شیخ میرے مڈل ایسٹ بینک کی مرشد بازار برانچ کے باہر ہر روز شام کو بینچوں پر بیٹھا کرتے تھے۔ دبئی دو حصوں ڈیرہ اور بار دبئی پر مشتمل ہے جسے درمیان سے سمندر تقسیم کرتا ہے جن کے مابین آمد و رفت کیلئے لوگ چھوٹی کشتیاں استعمال کرتے تھے۔ اُس وقت دبئی کے تاجر دنیا بھر سے ٹیکسٹائل مصنوعات، الیکٹرونکس اور کھانے پینے کی اشیاء امپورٹ کرکے خطے کے مختلف ممالک کو ری ایکسپورٹ کرتے تھے۔ ڈیرہ دبئی میں سڑک کے کنارے ہزاروں کی تعداد میں موجود تمام بڑے جاپانی برانڈز کے ٹی وی، ریفریجریٹرز، واشنگ مشین، ایئر کنڈیشنڈ وغیرہ کشتیوں کے ذریعے پاکستان، ایران اور دیگر ممالک کو بھیجے جاتے تھے۔ اس وقت دبئی کا دوسرا بڑا بزنس تعمیرات کا تھا جس میں لوگوں نے سرمایہ کاری کرکے بے انتہا منافع کمایا۔

صرف 30 سالوں میں دبئی نے تجارت، رئیل اسٹیٹ اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری سے حیرت انگیز ترقی کی اور آج اس کا شمار دنیا کے جدید ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ دبئی اور ابوظہبی کی ترقی میں وہاں مقیم پاکستانیوں اور دیگر ایشیائی باشندوں کا بھی اہم کردار ہے جن کی وجہ سے آج دبئی دنیا کی ری ایکسپورٹ، بینکنگ، فنانس اور سیاحت کا مرکز بن چکا ہے۔ ویزا کی آسان سہولتوں، ٹیکس اور ڈیوٹی فری مارکیٹ، امن و امان کی بہتر صورتحال، جدید شاپنگ سینٹرز، برج خلیفہ سمیت کئی بلند ترین عمارتوں، خوبصورت ساحل، بہترین رہائشی، تفریحی اور کھانے پینے کی سہولتوں کے باعث دبئی ”ورلڈ ایکسپو 2020ء “ کیلئے نہایت موزوں ترین اور پرکشش مقام ہے اور مجھے امید ہے کہ انشاء اللہ دبئی کو ”ایکسپو 2020ء “ کی میزبانی کیلئے منتخب کرلیا جائیگا۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند