تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
امن مذاکرات
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 29 جمادی الاول 1441هـ - 25 جنوری 2020م
آخری اشاعت: اتوار 3 جمادی الثانی 1434هـ - 14 اپریل 2013م KSA 10:22 - GMT 07:22
امن مذاکرات

بہت سی شورشوں کا حل آخر کار مذاکرات میں ہی ہوتا ہے۔ ترکی میں گذشتہ تین عشروں سے جاری کرد باغیوں کی دہشتگردی اور ان کے خلاف ترک افواج کی فوج کشی کوئی رنگ نہیں لائی۔ اسی لئے حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی نے کرد باغی تنظیم پی کے کے ، کے اسیر لیڈر عبداللہ اوجلان کے ساتھ مذاکرات شروع کرئے ہوئے ہیں۔ مذاکرات کے کئی دور چل چکے ہیں اور حکومت کی کوشش ہے کہ مخالف پارٹیاں اور کردوں کی سیاسی پارٹیاں بھی اس عمل کا حصہ بنیں تاکہ امن کا یہ منصوبہ دیر پا ہو اور کسی بھی پارٹی یا گروہ کو اعتراض نہ ہو۔ ان مذاکرات سے عام عوام نے بہت امیدیں لگائی ہوئی ہیں، کیونکہ لوگ دہشت گردی کی وجہ سے بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اگر دہشت گردی کا مسئلہ حل ہوا تو ترکی دن دگنی رات چوگنی ترقی کرنے کے قابل ہوجائے گا۔ حکمران جماعت کو اس سے بہت بڑا سیاسی فائدہ ہوگا۔ دس سال سے ترکی پر حکومت کرنے والی یہ جماعت تین بار انتخابات جیت چکی ہے اور اگر یہ کرد مسئلے کا کوئی قابلِ قبول حل نکالنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو آئندہ کے انتخابات بڑی آسانی کے ساتھ جیت سکتی ہے لیکن اگر مذاکرات ناکام بھی ہوتے ہیں تب بھی طیب اردوان کی پارٹی کو سیاسی فائدہ ہوگا۔

یہ بات حزبِ اختلاف جمہوریت خلق پارٹی کو بھی معلوم ہے۔ خلق پارٹی کمالسٹ قوتوں کا سیاسی چہرہ ہونے کے ساتھ ساتھ بائیں بازو کی جماعت ہے۔ اس کی کوشش ہے کہ یہ کامیابی دائیں بازو کی حکمران جماعت کو نہ ملے ، لیکن ترکی میں تیزی سے بدلتے ہوئے سیاسی حالات کرد مسئلے کے حل کے لیے موزوں ہیں۔ حزبِ اختلاف کا یہ منفی وتیرہ اپنے پائوں پر آپ کلہاڑا مارنے کے مترادف ہے۔ اسی لیے سیاسی مبصرین بھی خلق پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ اس سیاسی مڈبھیڑ میں ترک فوج کا کردار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سکیورٹی معاملات میں ترک فوج نے ہمیشہ اپنی مرضی کی ہے۔ کرد باغی تنظیم کے خلاف جو بھی حکمت عملی بنی، وہ فوج نے بنائی ہے، لیکن موجودہ حکومت کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے فوج کے سیاسی کردار کو کافی حد تک کم کیا ہے۔ گڈ گورننس اور معاش ترقی سے جمہوری اداروں پر عوام کا اعتماد بڑھ گیا ہے اور یوں حکمران جماعت کو فوج کی سازشیں ناکام بنانے میں آسانی ہوئی ہے۔ اس وقت ترک فوج کے بیسیوں افسر اور جرنیل حکومت کے خلاف سازش کے مقدموں میں سز پا چکے ہیں اور کچھ کا ٹرائل جاری ہے، جس کا عنقریب کوئی نتیجہ نکل آئے۔

ان مذاکرات کا فوری فائدہ تو یہ ہوا کہ عبداللہ اوجلان کے کہنے پر پی کے کے نے کئی اغوا شدہ لوگوں کو رہا کیا اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھی کمی آئی ہے، لیکن اس امن مرحلے کے ناقدین بھی ہیں جو زیادہ تر پرانی سوچ اور پالیسیوں کے تسلسل پر یقین رکھتے ہیں۔ ترکی کا پرانا نظریہ یہی تھا کہ دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے اور مسئلے کا عسکری حل تلاش کریں گے۔ عسکری حل ہنوز نہیں نکلا کیونکہ یہ مسئلہ سیاسی ہی نہیں بین الاقوامی بھی ہے۔ اس سوچ کے پیچھے کمالسٹ ذہنیت ہے جو وائٹ ہاوس کی سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ بظاہر امریکا کی یہ پالیسی رہی ہے کہ دہشتگردوں کے ساتھ مذاکرات نہیں کرنے چاہئیں، لیکن در پردہ وقتاً فوقتاً ایسے مذاکرات وقوع پزیر ہوتے رہے ہیں۔ ترک حکومت اور پی کے کے ، کے درمیان مذاکرات کے ناقدین یہ بھی کہتے ہیں کہ کرد مسئلہ الگ ہے اور پی کے کے کا مسئلہ الگ۔ پی کے کے سے مذاکرات کر کے کرد مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ تنقید بجا لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ پی کے کے کا ایک حقیقی وجود ہے اور وہ کرد علاقوں میں ایک مسلمہ طاقت ہے۔ غیر قانونی ہی سہی لیکن اس علاقے میں امن بحال کرنے کے لیے اس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اسی لیے مذاکرات کرنے میں کوئِ حرج نہیں۔ نعض لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ ایسا کرنے سے ان کو قانونی حیثیت مل جائے گا۔ یہ قطعاً درست نہیں۔ دنیا کے کئی ممالک باغی تنظیموں کے ساتھ مذاکرات کرتے رہتے ہیں، مثال کے طور پر اسرائیل نے حماس کےساتھ بالواسطہ رابطہ رکھا ہے۔ اسی طرح کئی اور حکومتیں غیر قانونی گروہوں کے ساتھ کسی نہ کسی شکل میں رابطے میں رہتی ہیں۔ ان مذاکرات سے ہم یہ بھی درس لے سکتے ہیں کہ فریقین میں چاہے کتنی ہی نفرت اور دشمنی ہو پھر بھی ملک کے وسیع تر مفاد کے لیے ایک میز پر بیٹھا جا سکتا ہے۔ امریکا بھی دس سال افغانستان میں بے سود کی لڑائی کے بعد اب طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے جتن کر رہا ہے، کیونکہ وہ اپنی تمام تر قوت کے باوجود طالبان مذاحمت کا قلع قمع نہیں کر سکا اور اب دس سال بعد اس کو مذاکرات کو سوجھی۔ افغان حکومت بھی مذاکرات کے لیے بے تاب ہے۔ آئرلینڈ میں برطانوی حکومت اور آئی آر اے کے درمیان مذاکرات ہی سے شمالی آئرلینڈ کا مسئلہ حل ہوا۔ پاکستان کو بھی ملک کے اندر حکومت کے ساتھ برسر پیکار مختلف گروہوں کے ساتھ مذاکرات کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ شورشوں اور جنگوں کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ بڑے سے بڑے مسئلے کا حل بھی مذاکرات سے ممکن ہوسکتا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ دنیا

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند